Rao Herbal Dawakhana Sabzazar Lahore.

Rao Herbal Dawakhana Sabzazar Lahore. Rao Herbal Dawakhana

Operating as usual

30/06/2021


🌺۔بھول جانا۔نسیان۔ایم نےسیا۔🌺
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تعریف مرض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈۔یاداشت کی طاقت خراب ہو جاتی ہے۔مریض کو نی یا پرانی باتیں یاد نہیں رہتیں اور ان سے صیح نتیجہ نہیں نکال سکتا بعض اوقات یاد داشت کی طاقت بالکل مفقود ہو جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وجوہات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈۔یہ مرض عموماً کمزوری دماغ کی وجہ سے پیدا ہوتا ھے سر پر چوٹ لگنے یا گر پڑنے سے بھی یہ عارضہ ہو جاتا ھے اس کے علاوہ دائمی نزلہ یا زکام امراض دماغ ورم رسولی کثرت ملاپ جلق نشیلی چیزوں کا بکثرت استعمال دماغی ہیجان کا پیدا ہو جانا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علامات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈۔کوئی بات یاد نہیں رہتی کئی بار دیکھی ہوئی صورتوں کو بھول جاتا ھے رات کا خواب بھی صبح یاد نہیں رہتا مریض اکثر زیادہ سونے کا خواہش مند ہوتا ھے۔

علاج۔مریض کو مقوی ادویات دیں اور لبوب سبعہ کی مالش کریں یا روغنِ بادام کی مالش کریں۔اور ساتھ میں یہ
سفوف دماغی استعمال کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سفوف دماغی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔اسطخودوس۔20گرام

2۔کشینزخشک۔۔20گرام

3۔الائچی خورد۔10گرام

4۔مغز بادام۔۔۔۔50گرام

5۔مغز کدو ۔۔۔۔20گرام

6۔سونف۔۔۔۔۔۔۔20گرام

7۔خشخاش۔۔20گرام

8۔مصری۔۔۔100گرام

تراکیب تیاری۔

سب اجزاء کو صاف کر کے علحیدہ علحیدہ کوٹ کر یکجان کر لیں اور صاف ڈبے میں محفوظ کر لیں۔

تراکیب استعمال۔
صبح خالی پیٹ ایک بڑا چمچ نیم گرم دودھ کیساتھ اور اسی طرح رات کو سوتے وقت نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔

13/06/2021

بہترین امساک

بوپھلی50گرام،سنکھا ہولی50گرام،موچرس50گرام،کمرکس50گرام،تیاری:تمام ادویات کا سفوف
بنالیں::مقدارخوراک:2گرام،صبح نہار منہ،2گرام شام پاچ بجے نہار منہ ہمراہ نیم گرم دودھ

فوائد:جنگلی بوٹیوں میں زبردست کمال پنہاں ہے سرعت انزال جیسی شرمندہ کرنے والی مرض کو قطعی دور کردیتی ہے طبعی امساک پیدا کرتی ہے...!!!

05/05/2021

بواسیر کا خون شرطیہ بند کرنے کا نسخہ اگر کسی کو درکار ہو تو ان باکس میں مسیج کریں۔

01/04/2021
22/03/2021

بنی نوع انسان کا خاتمہ، اس سے کہیں پہلے ہو سکتا ہے، جس قدر ہمیں اندازہ ہے۔ متنوع کیمیائی اجزاء کا تجارتی استعمال دنیا بھر میں مردوں کی قوت تناسل Fertility پر منفی طور سے بری طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔ نیویارک کے ماؤنٹ سینائی ہسپتال کے میڈیکل انسٹیٹیوٹ کی ماحولیاتی و تناسلیاتی ماہر وبائات شانا سوان کی نئی کتاب Countdown میں دریافت کیا گیا ہے کہ مردوں کے مادہ منویہ میں تناسلی جرثوں کی تعداد میں 1973 سے اب تک 60 % کمی واقع ہو چکی ہے۔

ان کی تحقیق کے مطابق اگر کمی کا یہی رجحان برقرار رہا تو مردوں کے مادہ منویہ میں تناسلی جرثوموں کی تعدا 2045 میں 0 % ہو جائے گی۔ صفر فیصد ہونے کا مطلب ہے کہ پھر کوئی بچہ پیدا نہیں ہوگا۔ مزید انسان نہیں ہوں گے۔ مجھے پوچھنے دیجیے کہ اقوام متحدہ اس مسئلے پر ابھی اور اسی وقت ہنگامی اجلاس کیوں طلب نہیں کر رہی ہے؟
سوان کی کتاب میں پہلے سے کی گئی تحقیقات کی بازگشت بھی ہے جن میں ثابت کیا گیا تھا کہ PFAS مادہ منویہ بنانے کے عمل کو ضرر پہنچاتے ہیں، مردانہ ہارمونوں میں مخل ہوتے ہیں اور ان کا تعلق ”مادہ منویہ کے معیار، خصیوں کے حجم اور مردانہ عضو تناسل کی لمبائی کو کم کرنے سے جڑا ہے“ ۔ یہ کیمیائی اجزاء ہمارے بدنی اعمال کو باقاعدہ بوکھلا رہے ہیں۔ ان کے سبب دماغ کو ملے جلے پیغامات پہنچتے ہیں یوں جسمانی نظام درہم برہم ہوتا جا رہا ہے۔

باوجود اس کے کہ ہمیں ان کیمیائی مادوں سے متعلق سبھی کچھ معلوم ہے تو ان سے متعلق کچھ کیا کیوں نہیں جا رہا؟ اب تک اس خطرے سے متعلق تھوڑا سا قانونی سلسلہ بڑھا ہے، چند ایک ناکافی قوانین ترتیب دیے گئے ہیں۔ ایسے قوانین ملک در ملک، خطہ در خطہ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں مختلف ریاستوں میں مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر یورپی یونین نے phthalates کو بچوں کے کھلونوں میں استعمال کو محدود کیا ہے۔ اور ایسے phthalates کو جنہیں ”reprotoxic“ خیال کیا جاتا ہے یعنی جو انسانوں کی تناسلی صلاحیت کو ضرر پہنچاتے ہیں کے غذائی اشیاء میں استعمال کی حدیں مقرر کی ہیں۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ میں کی کئی تحقیقات کے مطابق نونہالوں کا phthalated سے دو چار ہونا ”بہت پھیلا ہوا“ ہے۔ اور یہ کہ یہ کیمیائی مادہ ان نونہالوں کے پیشاب میں پایا گیا ہے جن کو نہلاتے ہوئے اور بعد میں ”بے بی شیمپو، لوشن اور پاؤڈر“ استعمال کیے جاتے ہیں۔ پھر بھی کوئی قوانین نہیں بنائے جا رہے نہ صرف اس لیے کہ ایسا نہ کیے جانے کی خاطر ایسی اشیاء تیار کرنے والی بڑی بڑی کمپنیاں لابنگ کرتی ہیں۔

ریاست واشنگٹن میں قانون سازوں نے ”ہمارے مستقبل کی خاطرآلودگی روکنے کا ایکٹ“ تو منظور کروا لیا لیکن اس میں یوں کہا گیا کہ ایجنسیوں کو چاہیے مضرکیمیائی مادوں پر نگاہ رکھیں اور ہر مضر کیمیائی مادے کے مطابق اقدام لیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دوسرے کیمیائی مادے برتے جانے لگے جو اتنے ہی مضر اور برے متبادل ہیں۔ کیمیائی مادوں کی پہلی اقسام phthalates، PFAS، PCBs، alkyphenol ethoxylate and bisphenol compounds، and organohalogen flame retardants ہیں۔ اس ریاست نے کیمیائی آلودگی روکنے کا بڑا اقدام لیا ہے لیکن ریاستہائے متحدہ امریکہ بھی مناسب اور کافی قوانین نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے ملکوں کی طرح اس خطرے کے خلاف ایک ہلکی پھلکی لڑائی ہی لڑ رہا ہے۔

مثال کے طور پر آپ آج ریاست مشی گن میں اوسکوڈا کے مقام پر موجود ہرن کا گوشت نہیں کھا سکتے کیونکہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے ایرفورس کے سابقہ اڈے کے نزدیک پکڑی گئی ایک ہرن کے گوشت میں پائی PFAS کی ہوشربا مقدار کی وجہ سے ”مت کھائیے“ کی ہدایت جاری کی ہے۔

پھر پچھلے ہفتے کی ہی تو بات ہے جب حکام نے ایریزونا کے لیوک ایر بیس کے نزدیک سینکڑوں رہائشیوں کو گھروں میں موجود پانی پینے سے روکا گیا تھا کیونکہ ٹیسٹ کیے جانے کے دوران پانی میں زہریلے کیمیائی مادے بہت بڑی مقدار میں پائے گئے تھے۔ امریکہ میں رہنے والے قریب قریب ہر شخص کے خون کے ٹیسٹ کے دوران ایسے مادے دریافت ہوئے ہیں۔ ایسے کیمیائی اجزاء دنیا کے ہر شخص کے بدن میں موجود ہیں بلکہ گہرے سمندر میں پائی جانے والی مچھلیوں اور ہوا میں اڑتے پرندوں کے جسموں میں بھی۔

یوں ہم باقاعدہ مر رہے ہیں۔ مادیہ منویہ میں تناسلی جرثوموں کی تیزی سے کم ہوتی مقدار کے بارے میں فوری طور پر غوروخوض کیا جانا چاہیے اور اس مسئلے کو آج سے ہی حل کرنے کی کوششیں کیے جانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔

دیسی طریقہ علاج سے مردانہ بانجھ کا علاج ممکن ہےدور جدید کی مصروف زندگی، کام کا دباﺅ اور ناقص خوراک جیسی چیزوں کی وجہ سے ...
07/12/2020

دیسی طریقہ علاج سے مردانہ بانجھ کا علاج ممکن ہے

دور جدید کی مصروف زندگی، کام کا دباﺅ اور ناقص خوراک جیسی چیزوں کی وجہ سے عمومی صحت کے ساتھ جنسی صحت بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے اور بانجھ پن بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق حمل قرار نہ پانے 20 فیصد کیس صرف مردانہ بانجھ پن کی وجہ سے ہوتے ہیں جبکہ مزید 30 سے 40 فیصد میں مردانہ بانجھ پن کا حصہ ضرور ہوتا ہے۔ جدید انگریزی ادویات تاحال ان مسائل کا شفی علاج پیش نہیں کرسکی ہیں البتہ دیسی جڑی بوٹیاں اور نسخہ جات بڑی حد تک کارگر پائے گئے ہیں۔ صدیوں سے آزمودہ کچھ دیسی جڑی بوٹیاں اور اجزاءمندرجہ ذیل ہیں۔ جو نہ صرف قوت باہ میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ بانجھ پن میں بھی انتہائی مفید پائے گئے ہیں۔

دیسی طریقہ علاج سے مردانہ بانجھ کا علاج ممکن ہے

دور جدید کی مصروف زندگی، کام کا دباﺅ اور ناقص خوراک جیسی چیزوں کی وجہ سے عمومی صحت کے ساتھ جنسی صحت بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے اور بانجھ پن بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق حمل قرار نہ پانے 20 فیصد کیس صرف مردانہ بانجھ پن کی وجہ سے ہوتے ہیں جبکہ مزید 30 سے 40 فیصد میں مردانہ بانجھ پن کا حصہ ضرور ہوتا ہے۔ جدید انگریزی ادویات تاحال ان مسائل کا شفی علاج پیش نہیں کرسکی ہیں البتہ دیسی جڑی بوٹیاں اور نسخہ جات بڑی حد تک کارگر پائے گئے ہیں۔ صدیوں سے آزمودہ کچھ دیسی جڑی بوٹیاں اور اجزاءمندرجہ ذیل ہیں۔ جو نہ صرف قوت باہ میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ بانجھ پن میں بھی انتہائی مفید پائے گئے ہیں۔

07/12/2020

‏آپ ﷺنے فرمایا:

جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے ۔

اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے ۔

اور جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔

(صحیح مسلم،۱۷۳)

12/09/2020

ہمیشہ جوان رہنے اور بانجھ پن سے بچنے کے لئے اس سستی چیز سے فائدہ اٹھانے کا ہنر سیکھیں

انسان کی یہ اولین خواہش ہوتی ہے کہ اس کی مردانگی قائم رہنی چاہئے۔ بعض اوقات حالات، بیماری یا طرز زندگی کی وجہ سے کمزوری غالب آجاتی ہے۔ آج میں آپ کو ایک ایسا نسخہ بتا دیتا ہوں جس کو استعمال کرنے سے آپ ہمشہ جوان رہیں گے، ازدواجی تعلقات میں شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور بانجھ پن کے مرض سے بھی محفوظ رہیں گے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو زیادہ پیسے بھی نہیں خرچ کر سکتے اور کسی طاقت کے نسخے کی تلاش میں رہتے ہیں ان کے لئے میرا یہ آزمودہ نسخہ کسی نادر و نایاب تحفہ سے کم نہیں ہے اور اس کی قیمت بھی اتنی کم ہے کہ آپ کا دل کرے گا پنساری سے ساری بوری کا ہی سودا مار کرخرید لوں اور بنانا اتنا آسان ہے کہ آپ آج سے ہی اس کا استعمال شروع کر سکتے ہیں۔ میں آپ کو مشکل میں ڈالنے کی بجائے سب سے آسان طریقہ آپ کے ساتھ شیئر کر دیتا ہوں۔

مردانہ کمزوری دور کرنے کے لئے اس سے طاقت ور اور کوئی جڑی بوٹی نہیں ہے اس لئے میں نے لمبے چوڑے اور مہنگے نسخے بتانے کی بجائے صرف ایک چیز آپ کو بتانے لگا ہوں یہی آپ کو اتنی طاقت مہیا کر دے گا کہ آپ کو خود پر ہی یقین نہیں آئے گا۔ کسی بھی پنساری سے 250 گرام تخم کونچ لے کر ان کو پانی یا دودھ میں اتنا بوائل کر لیں کہ ان کا چھلکا نرم ہو جائے۔ تخم کونچ کا چھلکا زہریلا ہوتا ہے اور طبیعت میں اضطراب، بے چینی اور تیزی پیدا کرتا ہے اس لئے جب تخم کونچ کا چھلکا نرم ہو جائے تواس کو اتار کر پھینک دیں۔ اب تخم کونچ استعمال کرنے کے قابل ہیں ان کو ایک مرتبہ صاف پانی سے اچھی طرح دھو کر، خشک ہونے کے لئے رکھ دیں۔ جب مکمل خشک ہوجائیں تو ان کو گرینڈ کر کے پاؤڈر تیار کرلیں۔ وہ لوگ جو بس ویسے ہی اپنے آپ کو فٹ رکھنا چاہتے ہیں، 5 گرام تخم کونچ کا پاؤڈر، نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔ شادی شدہ افراد تخم کونچ کے پاؤڈر کو شہد میں مکس کر کے کسی شیشے کے جار میں محفوظ کر لیں اور اندازاً دس گرام مقدرا، نیم گرم دودھ کے ساتھ روزانہ استعمال کریں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ نسخہ استعمال کرنے کے بعد آپ کے دل سے میرے لئے بے اختیار دعائیں نکلیں گی میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اللہ نے مجھے جو طب کے علم سے بھی نوازا ہے اب میں وقتاً فوقتاً اپنے مجرب اور قیمتی نسخہ جات بھی آپ کے ساتھ شیئر کرتا رہوں گا تاکہ میرے علم اور تجربات سے آپ بھی مستفید ہو سکیں۔ کمنٹ میں یہ سوال پوچھنے کا کوئی مقصد نہیں بنتا کہ تخم کونچ کیا ہے اس کی تصویر میں نے آرٹیکل کے ساتھ لگا دی ہے پنساری کے پاس لینے جائیں گے تو آپ کو سب پتا چل جائے گا۔ آپ کو یہ آرٹیکل کیسا لگا کمنٹ میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ فرمائیں تاکہ مجھے اندازہ ہو جائے کہ اس سلسلہ کو جاری رکھا جائے یا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

نوٹ: تخم کونچ کی افادیت ایک سال تک ہی برقرار رہتی ہے، ہمیشہ کسی بڑے پنسار سٹور سے خریدیں۔ 14 دن استعمال کرنے کے بعد تین دن کا وقفہ کرکے دوبارہ استعمال شروع کریں ایک سال میں دو ماہ استعمال کرنے سے سارا سال سکون سے گزر جائے گا۔ اگر بہت زیادہ کمزوری ہو تو استعمال جاری رکھیں لیکن ہر دو ماہ کے بعد 7 دن کا وقفہ کر لیا کریں۔ اس پوسٹ کو شیئر ضرور کریں تاکہ اس قیمتی نسخے سے اور لوگ بھی فائدہ اٹھائیں۔

15/08/2020

اونٹ کٹارہ انسان کے جگر کا محافظ

ہند و پاک میں یہ بوٹی منوں اور ٹنوں کے حساب سے ہوتی ہے۔ یہ کانٹوں دار جھاڑی ہے جس کا پھل اونٹ بہت رغبت سے کھاتا ہے، اس لیے اس کو اونٹ کٹارا (Milk Thistle) کہا جاتا ہے۔

اونٹ کٹارا تقریباً 2000 سال سے جگر اور پتہ کی مختلف بیماریوں میں استعمال ہو رہا ہے۔اونٹ کٹارا کا مؤثر جز سیلی میرین (Silymarin) اس کے بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اونٹ کٹارا کی دوائیں یورپ اور امریکہ میں جگر کی مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے بہت پاپولر ہیں۔

جگر ہمارے جسم کا ایک انتہائی اہم غدہ ہے۔ جدید تحقیق کی رو سے جگر کے امراض وائرس کی وجہ سے ہوتے ہیں اور ان کو ہیپاٹائٹس کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے اور ان کی اقسام میں ہیپاٹائٹس G,E,D,C,B,A شامل ہیں۔ زیادہ تر ہیپاٹائٹس C، B,A پائے جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہیپاٹائٹس A ترقی یافتہ ممالک کا مرض ہے۔ہیپاٹائٹس B جنسی تعلقات سے پھیلتا ہے اور یہ مرض تیزی سے پھیل رہاہے۔ اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس C کا مشاہدہ کیا گیا ہے اور یہ بھی جگر کو ناقابل، تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔

ہیپاٹائٹس وائرس کس طرح جگر کو تباہ کرتے ہیں؟ جب جگر میں وائرس پہنچ جاتاہے اور ان کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو یہ زہریلے مرکبات خارج کرنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ خارج شدہ زہریلے مرکبات انسانی جسم کو مختلف امراضِ جگر میں مبتلا کردیتے ہیں۔ جگر میں ورم پیدا ہو جاتاہے اور اس میں یہ زہریلے مادے سدوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر یہ سدے خارج نہ ہوں تو مرض پیچیدہ سے ہیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔وائرس A کی وجہ سے مرض مختصر عرصہ کے لیے رہتا ہے اور یہ جلد ختم ہو جاتا ہے جبکہ وائرسB اور C تمام زندگی انسانی جسم میں رہ سکتےہیں، جس سے جگر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ عام طور پر وائرس C کو ناقابلِ علاج مرض قرار دیا گیا ہے۔

امراضِ جگر میں عام طور پر مندرجہ ذیل علامات پا ئی جاتی ہیں:

1۔ تھکاوٹ کا زیادہ احساس
2۔ یرقان
3۔ سستی (Lethargy)
4۔ جگر کے مقام پر سختی کا احساس
5۔ جگر کی رنگت کا بدلنا، آنکھوں کی رنگت کا بدل جانا
6۔ بھوک کم ہو جانا، متلی اور قے کا رحجان
7۔ مقامِ جگر پر درد کا احساس
8۔ جوڑوں کادرد اور معدہ کا ورم وغیرہ

جگر کے افعال
1۔ ہضم کی قوت کو بڑھاتاہے
2۔ خون صالح پیدا کرنا
3۔ گردوں کی طرف مائیت کو دافع کرنا
4۔ پتہ کی طرف صفرا کو دافع کرنا
5۔ تلی کی طرف سودا کے دا فع کرنا

جگر سےخون صالح کی تولید جگر کی صحت کی علامت مانی جاتی ہے۔ اگر خون صالح پیدا نہیں ہورہا ہوتا تو یہ جلد اور آنکھوں کی رنگت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثلاً آنکھوں میں سفیدی کا آجانا، سرخ ڈوروں کا غائب ہو جانا، زردی کا آجانا، یہ تمام غلیظ خون کی علامات ہیں اور ان کا تعلق جگر سے ہے۔

جگر کے مریض میں اوپر بیان کردہ علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہونی شروع ہوتی ہیں۔ ان کے ظاہر ہونے میں 10سال، 20سال، یا 30سال کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔

جگر کے مرض میں مبتلا تقریباً20 فیصد مریض سی روسس (Cirrhosis) کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے جگر اپنا کام سر انجام نہیں دے سکتااور بعض حالات میں جگر کا کینسر ہوجاتاہے جو جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

پاکستان میں آلودہ پانی، غذائی اشیا میں ملاوٹ اور انتہائی گندے ماحول میں تیار کردہ کھانے پینے کی اشیا، اس کے علاوہ برائلر مرغی کے گوشت میں موجود سنکھیا کی مقدار، زیر زمین پانی میں موجود سنکھیا اور دوسرے زہریلے مرکبات ابسانی جگر کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ پاکستان کا شاید ہی کوئی فرد ایسا ہوگا کہ جس کے جگر میں یہ زہریلے مرکبات جمع نہ ہوں۔ اس کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ بیماری ہونے سے پہلے اس کا تدارک کر لیا جائے۔ کوئی ایسی غذا یا دوا جو روزانہ کی بنیاد پر جگر کو ان زہریلے مرکبات سے پاک کرتی رہے اور جگر کو فلش کرتی رہے۔ اس کےلیے اونٹ کٹارا ایک انتہائی مفید بوٹی ہے۔ انسانوں پر کیے گئے تجربات سے ثابت ہواہے کہ اونٹ کٹارا کامؤثر جز سیلی میرین (Silymarin) جگر کے مختلف امراض کے لیے انتہائی مؤثر دوا ہے، جس میں لیور سورائی سس، کرانک ہیپا ٹائٹس، الکحل اور کیمیائی استعمال سے متاثرہ جگر، حمل کے دوران بائل ڈکٹ کی سوزش اور بائل نہ بننے کے امراض میں یہ بے حد مفید ہے۔ پاکستان میں اونٹ کٹارہ کی چائے کے استعمال سے اور پائوڈر سے آپ اپنے جگر کو نہ صرف صحتمند رکھ سکتے ہیں بلکہ جگر کی مہلک بیماریوں سے بھی حفاظت ہوتی ہے۔ یہ دوا جگر کے زہریلے مادے جسم سے باہر نکال پھینکتی ہے اور بیمار جگر کے خلیات کی مرمت کرتی ہے۔ جگر کے کینسر میں یہ نئے خلیات پیدا کرتی ہے۔ عادی شرابی اور دیگر منشیات کا استعمال کرنے والوں کا جگر تباہ ہو جاتا ہے جس کے لے یہ دوا بہت مفید ہے۔ذیابیطس وائرس کا حملہ اور زہریلے مادوں کی موجودگی میں یہ انتہائی مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔
قدیم طبی نظریات کے مطابق اونٹ کٹارا کی چائے اور جرٹی بوٹی میں دیگر خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ جوڑوں کے درد میں مفید ہے
2۔ طحال اور جگر کے لیے عظیم نفع بخش ہے
3۔ بلغم اور باد کو ختم کرتا ہے
4۔ ہاضم ہے۔ صفراپیدا کرتاہے
5۔ بدن کوقوت دیتا ہے
6- ذیابیطس میں بھی مفید ہے

15/08/2020

نکسیر کا نسل در نسل آزمایا نسخہ:

نکسیر ایسی تکلیف ہے جس کے لیے بہت سے لوگوں نے بہت سے ٹوٹکے بتائے لیکن اس موذی تکلیف سے مکمل چھٹکارا نہیں ملتا۔ میں آپ کو نسل در نسل آزمایا ہوا‘ آزمودہ‘ مجرب اور نہایت ہی آسان علاج بتارہا ہوں جس سے نکسیر سے زندگی بھر کیلئے جان چھوٹ جائے گی۔

علاج:

خشک کھوپڑے کی گری لیں‘ اس کا ایک چھوٹا ٹکڑا(حسب ضرورت) لیکر دھو کر مٹی کے برتن میں رات کے وقت بھگودیں۔ صبح نہار منہ وہ ٹکڑا مریض کو کھلادیں اور مٹی کے برتن کا پانی پلادیں۔ ایک ہفتہ تک لگاتار یہ عمل کریں۔ انشاء اللہ زندگی بھر نکسیر کی تکلیف دوبارہ نہیں ہوگی۔

عزیز دوستوجتنا ہو سکے آگے پہنچائیں انشاءاللہ صدقؑہ جاریہ بن کر ثواب دارین کا باعث بنے گا دعاؤں میں یاد رکھیں او اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کریں براہ مہربانی نسخہ پڑھ کر شیئر ضرور کریں .

15/08/2020

دانتوں داڑھ میں درد کا دیسی علاج

دانتوں داڑھوں میں درد رہںتا ہے یا ٹھنڈاگرم محسوس ہوتا ہے یاشوگر کی وجہ سے دانتوں کی پکڑ کافی کمزور ہوگئی ہے وہ احباب دانت نکلوانے سے پہلے یہ دوا ضرور استعمال کریں۔

نسخہ الشفاء :
عقر قرحا 10 گرام، مائیں 10 گرام، مازو 10 گرام، پھٹکری 20 گرام، ہلدی 10 گرام، انار چھلکا 10 گرام، تخم جامن 10 گرام، ہڑڑ 10 گرام، دار چینی 10 گرام، لونگ 10 گرام، کالی مرچ 10 گرام، نمک سیاہ 10 گرام، نمک سفید 10 گرام

ترکیب تیاری :
تمام ادویہ کو پاریک پیس کر سفوف بنا لیں اور صبح شام 5 منٹ تک دانتوں پر ملیں انشاءاللہ چند دن کےاستعمال سے ہی دانتوں داڑھوں کا درد ختم ہوجائے گا۔

10/08/2020

سفوف ہاضمہ اور معدے کا بہترین نسخہ

نسخہ:-
سونٹھ 50 گرام
نمک سیاہ 30 گرام
کالی مرچ 30 گرام
ریوند خطائی 40 گرام
پودینہ خشک 40 گرام

سب ادویات کو صاف کر لیں خاص طور پر پودینہ کو اور کوٹ چھان کر سفوف بنا لیں۔

مقدار خوراک۔ آدھی چمچ سے ایک چمچ چائے والی سادہ پانی کے ساتھ استعمال کریں کھانے سے پہلے یا بعد میں استعمال کر سکتے ہیں۔

فوائد:-
گیس ٹربل، بھوک کی کمی، خوراک کا ہضم نہ ہونا، بہترین ہاضمہ نسخہ بھوک ایسے لگے کہ برداشت نہ ہو معدہ کے ساتھ ساتھ جگر کو بھی طاقت دیتا۔

10/08/2020

چہرہ سُرخ بنا دینے والا ناشتہ

مغز بادام 10عدد،
چھوٹی الائچی 10 عدد،
چھو ہارہ 2 عدد
مغز کدو 5 گرام

*ترکیب تیاری*

چاروں چیزیں رات کو مٹی کے برتن میں بھگو رکھیں صبح نکال کر مغز بادام کو چھیل لیں، الائچی کا چھلکا اُتار دیں۔ چھوہارے کی گھٹلی نکال لیں۔ سب چیزوں کو خوب گھوٹیں کہ مکھن کی طرح ملائم کرلیں اس میں 20 گرام چینی ملا کر چند منٹ گھوٹ کر یکجان کر لیں اس کے بعد گائے یا بھینس کے مکھن میں ملا کر کھا لیں۔ زرد اور مرجھائے ہوئے چہرے اسکے استعمال سے چند ہی دنوں میں سرخ ہو جاتے ہیں۔ لاغر اور سوکھے ہوئے جسم بھی چند ہی ہفتوں میں توانا ہو جاتے ہیں۔ قوت ہاضمہ کمزور ہو تو پہلے نصف وزن سے شروع کریں یہ نسخہ صبح نہار منہ ہی کھانا چائیے۔ جن لوگوں کا قوت ہاضمہ ٹھیک ہے تو اس نسخہ کے استعمال کے بعد آدھ کلو دودھ پیئں تو اور بھی بہتر ہوگا۔

اولاد نہ ھونا.....اولاد نہ ھونے کی وجوھات۔۔ 1-: کمی سپرمز ۔ 2-:بانجھ پن -3-: سپرمز کا مردہ ھونا 4-: بے اولادی - بانچھ پن...
10/08/2020

اولاد نہ ھونا.....

اولاد نہ ھونے کی وجوھات۔۔ 1-: کمی سپرمز ۔
2-:بانجھ پن -
3-: سپرمز کا مردہ ھونا
4-: بے اولادی -
بانچھ پن کا مطلب۔۔۔
بانجھ پن یا عقر کا مطلب
بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی یا بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کا نہ ہونا،
تعریف-:
بانجھ پن کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ 1سال کے عرصے تک نارمل مباشرت ہوتے رہنے کے باوجود اور مانع حمل ادویات استعمال کئے بغیرحمل قرار نہ پانا ھے۔ بانجھ پن کا شکار مرد بھی ہو سکتا ہے اور عورت بھی اس مرض میں مبتلا ہو سکتی ہے۔
بانجھ پن کی اقسام-:
بانجھ پن ابتدائی اور ثانوی دو طرح کا ہوتاھے۔
1-: عمرانیھ پن(Primary Infertility)
عمرانیہ پن سے مراد وہ مریض ہیں جن میں پہلے کبھی حمل نہیں ہوا۔۔۔۔۔
2-: ثانوی بانجھ پن (Secondary Infertility)
--ثانوی بانجھ پن سے مراد وہ مریض جن کے ہاں پہلے حمل واقع ہو چکا ہو
جبکہ ایک اور اصطلاح سٹرلٹی(Sterility)سے مراد بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کا مرد یا عورت میں مکمل طور پر ختم ہو جانا ہے۔
ماضی میں بانجھ پن کے شکار جوڑوں میں بچہ پیدا ہونے کی صلاحیت کم ہوتی تھی
مگر آج جدید دور میں مناسب تشخیص اور علاج سے 85فیصد جوڑے بچہ پیدا ہونے کی اُمید کرسکتے ہیں۔
بانچھ پن میں مبتلا جوڑوں کو بہت زیادہ پریشانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عورت کے لیے تو بانچھ گالی بن جاتی ہے۔
ایسے جوڑے جن کے ہاں بچہ پیدا نہ ہوا ہو سارے کا سارا قصور عورت کا ہی بن جاتا ہے
بچہ نہ پیداکرنے پرطعنے ملتے رہتے ہیں اور لعنت ملامت ہوتی رہتی ہے۔
حالانکہ بانجھ پن کا شکار مرد بھی ہو سکتے ہیں۔
بانجھ پن کی 40فیصد وجوہات مردوں میں پائی جاتی ہیں
آج کل تو بہت جلد اس کی تشخیص ہو سکتی ہے
کہ بانجھ پن کی شکار کو ن ہے مرد یا عورت؟

حمل کے لیے شرائط
Conditions For
Pregnancy

1-: مرد اور عورت دونوں کا تندرست ہونا بہت ضروری ہے۔
2-: مرد کو سرعت انزال اور ضعف باہ کا مریض نہیں ہونا چاہئے ۔
3-: مرد کی طرف سے اس کے مادہ منویہ نارمل اورمناسب جرثومہ منویہ(Spermatozoon) )پیدا ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔
سپرمز کی صورتِ حال-:
سپرم کی صورت حال کچھ اس طرح سے ہونی چاہئے کہ کم ازکم 72گھنٹے کے پرہیز کے بعد مرد میں (حاصل ہونے والے)مادہ منویہ کا تجزیہ کرنے پر مادہ منویہ کی مقدار 1.5ملی لیٹر سے 5ملی لٹر تک ، ایک ملی لٹر مادہ منویہ میں 20ملین یا اس سے زائد سپرم 50سے 60فیصد تک حرکت کرنے والے (Motile) اور 60فیصد سے زائد نارمل شکل و صورت والے سپرم ہونے چاہئیں ۔۔
مر د کو سپرم کی تعداد میں کمی (Oligospermia)یعنی سپرم کی تعداد کا ایک ملی لیٹر میں 20ملین سے کم ہونا یا مادہ منویہ میں سپرم کا موجود نہ ہونا(Azoospermia)کا مریض نہیں ہونا چاہئیے۔
عورت-:
’’عورت کو بھی صحت مند اور توانا ہونا چاہئیے عورت کو
* ورم رحم،
* سیلان الرحم،
* ماہواری کی بے قاعدگی،
* ہارمونز کے توازن میں خرابی،
* ماہواری یا حیض کی بندش،
* حیض کی تنگی وغیرہ کا شکار نہ ہونا چاہئیے۔
* عورت کی طرف سے اس کی میض یا اووری (Ovary)سے ایک مکمل نمو یافتہ اور صحت مند بیضہ (Oocyte)پیدا ہو کر اسے قاذف نالی(Uterine Tube)میں پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
* عورت میں بیضہ خارج ہونے کے عمل کو عمل تبویض (Ovulation)کہتے ہیں۔
* ہر ماہ بیضہ ایک یا دوسری اووری سے خارج ہو کر قاذف نالیوں(Fallopian Tubes)میں پہنچتا ہے۔
* بیضہ خارج ہونے پر عورت کچھ اس طرح کے احساسات کا تجربہ کرتی ہے۔
* جسم کادرجہ حرارت 1oF تک بڑھ جاتا ہے۔
*اگر حمل قرار نہ پائے تو ماہواری آنے تک) 13سے 14دن تک( بڑھتا رہتا ہے۔
* چھاتیوں میں بھراؤ اور وزنی پن محسوس کرتی ہے۔
* مہبلی(Vaginal)رطوبت کم ہوجاتی ہیں۔
* معمولی سا محیطی اوذیما(Peripheral Odema) جسکے ساتھ وزن میں معمولی سا اضافہ محسوس ہوتا ہے۔
*ایسی علامات ان عورتوں میں نہیں پائی جاتی جوبیضہ خارج نہیں کرتی ہیں۔
* بیضہ خارج ہونے پر عورت کے رحم کے منہ میں لگے ہونے بلغم کا پلگ پروجیسٹرون (Progesteron)ہارمون کے اثر سے چمکدار اور نرم مخاط میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
* ایسا ہو نا ضروری ہوتا ہے
* تاکہ سپرم آسانی سے رحم کے منہ میں داخل ہو سکے۔
* حمل ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ صحبت اس وقت کی جائے جب بیضہ خارج ہو چکا ہو پھر سپرم اور بیضہ کا کامیابی سے ملاپ ہونا چاہئیے
* سپرم کو اس قابل ہو نا چاہئے کہ وہ بیضہ کی بیرونی جھلی کو اپنے خامروں سے توڑ کر بیضہ میں داخل ہو سکے جب بیضہ بار آور (Fertilize)ہو چکا ہو تو اسی دوران نسوانی جنسی ہارمونز ایسٹروجن (Estrogen)اور پروجیسٹرون کے زیر اثر رحم کی اندرونی جھلی بطانہ رحم (Endometrium) کی لائنگ مکمل ہو چکی ہو۔
* تاکہ بار آور بیضہ رحم میں پہنچ کر آسانی سے دھنس (Implant) ہو سکے
* اور یہاں تقریباف 9ماہ اور دس دن اپنی نشوونما جاری رکھے بیضہ کا رحم کے اندر صحیح طرح امپلانٹ نہ ہونے سے ضائع ہو جاتے ہیں۔
بانجھ پن کے اسباب -:
بانجھ پن کے مردوں اور عورتوں میں علیحدہ علیحدہ اسباب ہوتے ہیں۔
عورتوں میں بانجھ پن کے اسباب-:

عورتوں میں 60فیصد اسباب بانجھ پن کا سبب بنتے ہیں۔جس میں سے 30فیصد اسباب عمل تبویض نہ ہونا یعنی بیضہ خارج نہ ہونا (Anovulation)اور 30فیصد عورت کے تو لیدی اعضاء کی ساختی / تشریحی خرابیاں (Anatomic Defects) شامل ہیں۔
بیضہ کی خارج ہونے کی سب سے عام وجہ پیچوٹری گلینڈ(Pitutary Gland)کے اگلے حصے (Adenohypophsis) سے گونیڈوٹرافک (Gonadotrophic) ہارمونز کا کم خارج ہونا ہے
ایسی ماہواری جس میں بیضہ نہ ہو(Anovulatory Cycle) کی شناخت عورت میں پیشاب میں (Pregnanedoil) کی شناخت سے ہوسکتی ہے۔
جو کہ پروجیسٹرون میٹا بولزم کی پیدا وارہوتی ہے۔
عام طور پر بیضہ خارج ہو نے کے وقت عورت کے خون میں پروجیسٹرون کے ارتکاز میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
حیضی دور کے بعد کے حصے میں پیشاب میں پریگنے نی ڈول کا اضافہ نہ ہونا بیضہ خارج نہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کے بعد زنانہ بانچھ پن کی ایک اور عام وجہ ورم درون رحم (Endometriosis) ہے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی تبدیلیاں عورت کے تولیدی اعضاء کی تشریحی ساخت میں خرابی پیدا کرتی ہیں۔
اینڈومیٹری اوسس میں رحم کے اندر کی طرح کی ساخت جہاں سے حیض خارج ہوتا ہے
رحم کے باہر پیٹرو میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
حیض کے دوران رحم کی اندرونی اینڈومیٹریم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے قاذف نالیوں سے گذر کر پیٹرومیں آسکتے ہیں۔
پیٹرو میں اس ساخت پر نسوانی جنسی ہارمونز کے وہی اثرا ت ہوتے ہیں۔ جو رحم کی اندر کی ساخت پر ہوتے ،
رحم میں تو حیض جاری ہونے کا ایک قدرتی راستہ ہوتا ہے
مگرپیٹرو میں چونکہ خون خارج ہونے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا اس لئے خون اندرہی جمع ہوتا رہتا ہے۔
پیٹرو میں جریان خون درد کا سبب بنتا ہے
اس سے پیٹرو کے اعضاء میں لیفی ساخت (Fibrosis) بننے کو تحریک ملتی ہے۔
یہ اوریزکا مکمل (encase) بندکرتا ہے
اور بیضہ خارج نہیں ہونے دیتا اینڈو میٹری اوسس کے نتیجے میں پیٹرو کے اعضاء میں باہمی چپکاؤ (Adhesion) واقع ہو جاتا ہے اور قاذف نالیاں بند ہو جاتی ہیں۔
بعض عورتوں میں کسی پیلوک انفلے میٹری ڈزیز (PID) یا سوزاک وغیرہ کے نتیجے میں قاذف نالیاں بند ہو جاتی ہیں
انفکشن رحم کے منہ میں لگے ہوئے لیسدار بلغم کی پیدائش کو بھی تحریک دیتا ہے
جس کے نتیجے میں سپرم رحم کے منہ میں داخل نہیں ہو پاتے یہ بھی قابل غور بات ہے کہ بہت زیادہ کم عمر اور بہت زیادہ عمر والی خواتین میں بھی حمل قرار نہیں پاتا اگر ویجائنہ کی پی ایچ (PH)بہت کم ہو تو بھی سپرم ایسے ماحول میں زندہ نہیں رہ پاتے اور حمل قرار نہیں پاتا
اسکے علاوہ ایسی کریمیں، جیلی اور لبریکنٹس جو سپرم کو ہلاک کردیں۔
ورم رحم (Metritis) یا رحم کی لیفی رسولیاں (Fibroids) کی موجودگی مبیضی کیسے (Ovarian cyst) کی وجہ سے ایک یا دونوں اووریز متاثر ہو سکتی ہیں۔
جس کی وجہ سے وہ ہارمونز کا توازن برقرار نہیں رکھ پاتی جو کہ ایک فولیکل کے میچور ہونے اور رحم کی اندرونی لائنگ کے لیے ضروری ہوتے ہیں
اور ایک متاثرہ اووری ایک صحت مند بیضے کو قاذف نالی میں خارج کرنے میں ناکام رہتی ہے۔
اسکے علاوہ دباؤ (Stress)غذا کی کمی ،وزن کی کمی، وزن کی زیادتی کی وجہ سے ہارمونز کا توازن قائم نہیں رہتا جس سے رحم کی اندرونی لائنگ اور فم رحم کی بلغم متاثر ہوتی ہے۔ مانع حمل (Contracepives) بھی ہارمون کے قدرتی توازن کو غیر متوازن کردیتی ہیں۔ اور ماہواری کو بے قاعدہ کردیتی ہیں۔ ان ادویات کو چھوڑنے کے کافی عرصے بعد تک بھی ماہواری بے قاعدہ رہ سکتی ہے۔
انٹرایوٹرائن ڈیواسز (IUDs) رحم اور قاذف نالیوں میں سوزش اور سیلان الرحم کا سبب بنتی ہیں ۔
جسکے نتیجے میں ورم کے ٹھیک ہونے کے بعد سکارنگ (Scarring)کی وجہ سے نالیاں بند ہوسکتی ہیں۔سگریٹ نوشی بھی تولیدی نظام کے نارمل فعل کو خراب کر سکتی ہے
اس سے تولیدی اعضاء میں خون کی سپلائی کی کمی اور قاذف نالیوں کے اندر لگے ہوئے بال نما ابھار (Cilia) کی حرکت متاثر ہوتی ہے ان بال نما ابھاروں کی حرکت سے بیضہ کو قاذف نالیوں میں حرکت کرنے اور آگے جانے میں مدد ملتی ہے۔ بواسیر الرحم (Polyps) یاکسی جراحی کے نتیجے میں رحم کی خرابی، رحم نہ ہونا، رحم کا میلان خلفی(Retoversion)بھی بانجھ کا سبب بنتے ہیں۔ کیفین کا لگا تار استعمال تھائرائیڈ گلینڈ کے فعل میں کمی غذائی اجزاء مثلاً وٹامن B12, E, A, B2, B6زنک (Zinc) فولک ایسڈ ضروری امینوترشے میگنیشیم کی کمی جو فرٹیلٹی کے لیے ضروری ہیں۔ دباؤ نہ صرف ہارمونز کے توازن کو خراب کرتا ہے بلکہ قاذف نالیوں کے سکڑنے کا سبب بھی بنتا ہے جس سے بیضے کو ان نالیوں سے گذرنے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور پیٹرو میں خون کی سپلائی کی وجہ سے رحم کی اندرونی لائنگ بھی متاثر ہوتی ہے اور ویجائنہ کے سکڑنے سے سیکس کاعمل بھی متاثر ہوتا ہے.......

Address

Sabzazar Lahore
Lahore
54500

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rao Herbal Dawakhana Sabzazar Lahore. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Nearby health & beauty businesses


Other Medical & Health in Lahore

Show All