Court Marriage Service in Pakistan

Court Marriage Service  in Pakistan Ch.Shoaib Advocate High Court Atif Dawood Center. Office No 10, first floor. Jane Mander Chowk. High Court Lahore [email protected] 03002151013
(4)

Our Law Firm is commonly engaged for court marriages legal services. Our Support Staff shall facilitate court nikahnama as well as affidavit of Free Will, which is legally recognized and enforceable under Muslim Personal Law.

Operating as usual

NADRA DIVORCE CERTIFICATENadra Divorce CertificateHow to Get Nadra Divorce Certificate in Pakistan?Documents that are is...
20/06/2020

NADRA DIVORCE CERTIFICATE
Nadra Divorce Certificate

How to Get Nadra Divorce Certificate in Pakistan?

Documents that are issued to confirm that a divorce has been granted, including details of the specific information contained in the documents and the name of the government body that has authority to grant a divorce; whether the documents have to be registered with a government body, including the name of the government body.

In Pakistan, [a] divorce certificate can be issued by the Family Court OR the Arbitration Council [AC]. The Arbitration Council is the Local Body representative of the area in which the woman resides.
A divorce in Pakistan becomes valid 90 days after the divorce has been announced to the AC (US 8 May 2003). Section 7 of the 1961 Muslim Family Laws Ordinance provides that upon the conclusion of the 90-day period, if no reconciliation has taken place, either party may request a divorce certificate from the AC, which proclaims the date on which the divorce came into effect, thereby enabling either party to remarry (ibid.). This applies to “‘all Muslim citizens of Pakistan wherever they may be'”

The following information pertaining to the issuance of divorce documents under Muslim laws in Pakistan.

1. A confirmation certificate of divorce is issued by the authorized and designated officer under [the] Muslim Family Laws Ordinance and Rules after reconciliation by the officer pursuant to the pronouncement of Talak (divorce), have failed. This certificate usually ends with the following:

“Whereas after receipt of the letter (Talaknama) dated … … … … … … . under Section 7 of the Muslim Family Laws Ordinance 1961 and subsequent correspondence, both parties were contacted for reconciliation but no reconciliation resulted. I, therefore, confirm the divorce.

The Divorce is confirmed under my seal on the … … … month … … … .Year … … … … … authorized officer stamp … … … … … . Signed”.

Ordinance of 1961

“Section 7 (1) Any man who wishes to divorce his wife shall, as Talaq soon as may be after the pronouncement of Talaq in any form whatsoever, give the Chairman a notice in writing of his having done so, and shall supply a copy thereof to the wife”.

“Section 7 (4) Within thirty days of the receipt of notice under Sub-Section (1), the Chairman shall constitute an Arbitration Council for the purpose of bringing about a reconciliation between the parties, and the Arbitration Council shall take all steps necessary to bring about such reconciliation”.

“Rule 5 (6) All decisions of the Arbitration Council shall be taken by majority, and where no decision can be taken, the decision of the Chairman shall be the decision of the Arbitration Council”.

“Rule 5 (7) A copy of the decision of the Arbitration Council duly attested by the Chairman, shall be furnished free of cost to each of the parties to the proceedings”.

“Rule 6 (1) of Muslim Family Laws Rules 1961: Within seven days of receiving an application under Sub-Section (4) of Section 6 or under Sub-Section (1) of Section 9, or a notice under Sub-Section (1) of Section 7, the Chairman shall, by order in writing call upon each of the parties to nominate his or her representative, and each such party shall, within seven days of receiving the order, nominate in writing a representative and deliver the nomination to the Chairman or send it to him by registered post”.

On failure of the reconciliation efforts, the councillor (who is called Chairman of the Arbitration Council) confirms the divorce by a letter/order. He cannot grant divorce as stated above only confirm it. Even if the certificate of confirmation is not issued by him the divorce becomes final after the period of statutory time meant for reconciliation according to the Supreme Court (of Pakistan) and High Court decisions.

The powers to grant divorce rests with the Family Court to whom the wife can make a petition, if she does not have the delegated powers given to her in the marriage contract by the husband whereby she can issue a letter pronouncing divorce for herself as a man would do. The Family Court of the area where she resides has powers to grant her divorce on her petition and normally would grant divorce if she shows that she is entitled to divorce on any of the grounds allowed by “Dissolution of Muslim Marriages Act 1939” or if she claims that she cannot live with him (as mandated by law and religion).

So if you have any question about above matter or you wish to get a solution for your problem in Pakistan, do not hesitate to call Advocate Shoaib at 0092-300 2151 013 and if you are calling from abroad you can also Whats App our law firm on the same number which will be replied by the best lawyer Advocate Ch Shoaib himself.

14/04/2018
Court Marriage Service in Pakistan

Court Marriage Service in Pakistan

نکاح اور اس میں موجود کالمز کی تفصیل و اہمیت

نکاح ایک سماجی معاہدہ ہے۔ جو فریقین کے درمیان ایجاب وقبول کے عمل سے مکمل ہو جاتا ہے۔ نکاح نامہ ایک قانونی دستاویز ہے۔ اس کے ذریعے حقوق و فرائض کا تعین ہوتا ہے۔

اکثر لوگ نکاح نامہ کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں اس لیے ضروری ہے کہ نکاح نامہ کی ضرورت کا احساس دلایا جائے کیوں کے عورت کو مذہب اورقانون نے اپنے مستقبل کے بارے میں جن تحفظات کویقینی بنانے کی اجازت دے رکھی ہے

وہ نکاح نامہ کے کالم صحیح کرنے سے ہی ممکن ہے۔ اس لئے نکاح نامہ کے کالم انتہائی احتیاط سے پر کرنے کی ضرورت ہے۔

عام معلومات ( کالم 1 تا 12)

ان کالموں میں دولہا٬ دولہن کا نام ولدیت٬ ضلع٬ عمر٬ یونین کونسل٬ فریقین کی طرف سے وکیل٬ گواہ٬ شادی کی تاریخ اور یہ کی دلہن کنواری٬ بیوہ یا مطلقہ ہے درج کرنا ہوتا ہے

حق مہر (کالم 13تا16)

حق مہر کا نکاح نامہ میں اندراج ضروری ہے۔ جو عورت کا مذہبی اور قانونی حق ہے۔ ارشادات رسول اور عمل رسول کا خلاصہ ہے کہ جو حق مہر شوہر آسانی کے ساتھ ادا کرسکے اور بیوی بھی اس پر راضی ہو وہ شرعی حق مہر ہے ۔

نکاح کے کالم نمبر 14 میں اسکی نوعیت لکھی جاتی ہے کہ وہ معجل ہے یا مؤجل۔

اس طرح اگر مہر کا کچھ حصہ شادی کے موقع پر ادا کیا گیا ہو تو کالم نمبر 15 میں اس کی مقدار درج کی جاتی ہے۔

اگر حق مہر کے عوض کوئی جائیداد وغیرہ دی گئی ہو تو کالم نمبر 16میں اس کی مکمل تفصیل اس کے آگے اور پیچھے کیا ہے۔ اور اس وقت اس کی قیمت کیا ہے درج کی جاتی ہے۔ تاکہ بعد میں دھوکا نہ ہو۔

حق مہر کی اقسام

(1)مہر مؤجل

اگر مہر یا اس کے کسی حصے کی ادائیگی مستقبل میں کسی خاص مدت کے بعد دیاجانا طے پائے تو اس کو مہر مؤجل کہتے ہیں۔

(2)مہر معجل

ماہر معجل سے مراد مہر کا وہ حصہ جسے فورا ادا کرنا ہوتا ہے یعنی مہر کو نکاح کے وقت ادا کیا جاتا ہے یا جب بیوی طلب کریں تو اس کو فوری ادا کرے گا۔

خاص شرائط ( کالم نمبر 17)

کالم نمبر 17 خاص شرائط سے متعلق ہے جس کی خاص اہمیت ہے اس میں ناچاقی کی صورت میں نان و نفقہ کس طرح ادا ہوگا

اور رہائش کے بارے میں بھی لکھا جا سکتا ہے کہ شادی کے بعد دیہات میں رہائش ہو گی یا شہر میں اور شادی کے بعد تعلیم یا ملازمت جاری رکھنے کی اجازت ہوگی یا نہیں وغیرہ اس میں درج کی جاتی ہیں۔

اس شق میں جہیز کی تفصیل بھی درج کی جاسکتی ہے۔

طلاق تفویض (کالم نمبر 18)

اس شق میں عورت مرد سے طلاق کا حق مانگ سکتی ہے اور اگر شوہر نے بیوی کو طلاق کا حق دے دیا ہے اور اس بارے میں کوئی شرائط مقرر کی ہیں تو وہ بھی اس خانہ میں درج کی جائیں گی۔

اور عورت جب چاہے مقررہ شرائط کو پورا کر کے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو شوہر کی زوجیت سے آزاد کر سکتی ہے۔

عورت کو اس کا نوٹس چیئرمین ثالثی کونسل کو دینا ضروری ہے کے اس نے طلاق تفویض کا حق استعمال کیا ہے۔

شوہر کے حق طلاق پر پابندی( کالم نمبر 19)

اس کالم میں شوہر کے حق کے طلاق پر شرائط مقرر مقرر کی جاتی ہیں۔ مثلا حق مہر کی فوری ادائیگی اور بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری ماں کی ہوگی وغیرہ

حق مہر اور نان و نفقہ کی دستاویز کا اندراج (کالم نمبر 20)

اگر شادی کے موقع پر حق مہر اور نان و نفقہ کے بارے میں کوئی دستاویز تیار کی گئی ہو تو اس کا اندراج کالم نمبر 20 میں کیا جاتا ہے

دوسری شادی کیلئے اجازت نامہ( کالم نمبر 21٬22)

دوسری شادی کی صورت میں عائلی قوانین کے تحت پہلی بیوی اور چیئرمین ثالثی کونسل کا اجازت نامہ لینا ضروری ہے

اور دوسری شادی کی صورت میں بوقت نکاح کالم نمبر21 کو ضروری پر کرنا چاہیے اس میں دوسری شادی کی اجازت ملنے کی تاریخ درج کرنی ہوتی ہے۔

نکاح نامہ کو نکاح رجسٹرار مکمل کرکے یونین کونسل میں رجسٹرڈ کرواتا

14/04/2018

نکاح اور اس میں موجود کالمز کی تفصیل و اہمیت

نکاح ایک سماجی معاہدہ ہے۔ جو فریقین کے درمیان ایجاب وقبول کے عمل سے مکمل ہو جاتا ہے۔ نکاح نامہ ایک قانونی دستاویز ہے۔ اس کے ذریعے حقوق و فرائض کا تعین ہوتا ہے۔

اکثر لوگ نکاح نامہ کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں اس لیے ضروری ہے کہ نکاح نامہ کی ضرورت کا احساس دلایا جائے کیوں کے عورت کو مذہب اورقانون نے اپنے مستقبل کے بارے میں جن تحفظات کویقینی بنانے کی اجازت دے رکھی ہے

وہ نکاح نامہ کے کالم صحیح کرنے سے ہی ممکن ہے۔ اس لئے نکاح نامہ کے کالم انتہائی احتیاط سے پر کرنے کی ضرورت ہے۔

عام معلومات ( کالم 1 تا 12)

ان کالموں میں دولہا٬ دولہن کا نام ولدیت٬ ضلع٬ عمر٬ یونین کونسل٬ فریقین کی طرف سے وکیل٬ گواہ٬ شادی کی تاریخ اور یہ کی دلہن کنواری٬ بیوہ یا مطلقہ ہے درج کرنا ہوتا ہے

حق مہر (کالم 13تا16)

حق مہر کا نکاح نامہ میں اندراج ضروری ہے۔ جو عورت کا مذہبی اور قانونی حق ہے۔ ارشادات رسول اور عمل رسول کا خلاصہ ہے کہ جو حق مہر شوہر آسانی کے ساتھ ادا کرسکے اور بیوی بھی اس پر راضی ہو وہ شرعی حق مہر ہے ۔

نکاح کے کالم نمبر 14 میں اسکی نوعیت لکھی جاتی ہے کہ وہ معجل ہے یا مؤجل۔

اس طرح اگر مہر کا کچھ حصہ شادی کے موقع پر ادا کیا گیا ہو تو کالم نمبر 15 میں اس کی مقدار درج کی جاتی ہے۔

اگر حق مہر کے عوض کوئی جائیداد وغیرہ دی گئی ہو تو کالم نمبر 16میں اس کی مکمل تفصیل اس کے آگے اور پیچھے کیا ہے۔ اور اس وقت اس کی قیمت کیا ہے درج کی جاتی ہے۔ تاکہ بعد میں دھوکا نہ ہو۔

حق مہر کی اقسام

(1)مہر مؤجل

اگر مہر یا اس کے کسی حصے کی ادائیگی مستقبل میں کسی خاص مدت کے بعد دیاجانا طے پائے تو اس کو مہر مؤجل کہتے ہیں۔

(2)مہر معجل

ماہر معجل سے مراد مہر کا وہ حصہ جسے فورا ادا کرنا ہوتا ہے یعنی مہر کو نکاح کے وقت ادا کیا جاتا ہے یا جب بیوی طلب کریں تو اس کو فوری ادا کرے گا۔

خاص شرائط ( کالم نمبر 17)

کالم نمبر 17 خاص شرائط سے متعلق ہے جس کی خاص اہمیت ہے اس میں ناچاقی کی صورت میں نان و نفقہ کس طرح ادا ہوگا

اور رہائش کے بارے میں بھی لکھا جا سکتا ہے کہ شادی کے بعد دیہات میں رہائش ہو گی یا شہر میں اور شادی کے بعد تعلیم یا ملازمت جاری رکھنے کی اجازت ہوگی یا نہیں وغیرہ اس میں درج کی جاتی ہیں۔

اس شق میں جہیز کی تفصیل بھی درج کی جاسکتی ہے۔

طلاق تفویض (کالم نمبر 18)

اس شق میں عورت مرد سے طلاق کا حق مانگ سکتی ہے اور اگر شوہر نے بیوی کو طلاق کا حق دے دیا ہے اور اس بارے میں کوئی شرائط مقرر کی ہیں تو وہ بھی اس خانہ میں درج کی جائیں گی۔

اور عورت جب چاہے مقررہ شرائط کو پورا کر کے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو شوہر کی زوجیت سے آزاد کر سکتی ہے۔

عورت کو اس کا نوٹس چیئرمین ثالثی کونسل کو دینا ضروری ہے کے اس نے طلاق تفویض کا حق استعمال کیا ہے۔

شوہر کے حق طلاق پر پابندی( کالم نمبر 19)

اس کالم میں شوہر کے حق کے طلاق پر شرائط مقرر مقرر کی جاتی ہیں۔ مثلا حق مہر کی فوری ادائیگی اور بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری ماں کی ہوگی وغیرہ

حق مہر اور نان و نفقہ کی دستاویز کا اندراج (کالم نمبر 20)

اگر شادی کے موقع پر حق مہر اور نان و نفقہ کے بارے میں کوئی دستاویز تیار کی گئی ہو تو اس کا اندراج کالم نمبر 20 میں کیا جاتا ہے

دوسری شادی کیلئے اجازت نامہ( کالم نمبر 21٬22)

دوسری شادی کی صورت میں عائلی قوانین کے تحت پہلی بیوی اور چیئرمین ثالثی کونسل کا اجازت نامہ لینا ضروری ہے

اور دوسری شادی کی صورت میں بوقت نکاح کالم نمبر21 کو ضروری پر کرنا چاہیے اس میں دوسری شادی کی اجازت ملنے کی تاریخ درج کرنی ہوتی ہے۔

نکاح نامہ کو نکاح رجسٹرار مکمل کرکے یونین کونسل میں رجسٹرڈ کرواتا

Court Marriage Service  in Pakistan
13/03/2018

Court Marriage Service in Pakistan

#نکاح_فارم

نکاح ایک سماجی معاہدہ ہے۔ جو فریقین کے درمیان ایجاب وقبول کے عمل سے مکمل ہو جاتا ہے۔ نکاح نامہ ایک قانونی دستاویز ہے۔ اس کے ذریعے حقوق و فرائض کا تعین ہوتا ہے۔

اکثر لوگ نکاح نامہ کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں اس لیے ضروری ہے کہ نکاح نامہ کی ضرورت کا احساس دلایا جائے کیوں کے عورت کو مذہب اورقانون نے اپنے مستقبل کے بارے میں جن تحفظات کویقینی بنانے کی اجازت دے رکھی ہے وہ نکاح نامہ کے کالم صحیح کرنے سے ہی ممکن ہے۔ اس لئے نکاح نامہ کے کالم انتہائی احتیاط سے پر کرنے کی ضرورت ہے۔

عام معلومات ( کالم 1 تا 12)

ان کالموں میں دولہا٬ دولہن کا نام ولدیت٬ ضلع٬ عمر٬ یونین کونسل٬ فریقین کی طرف سے وکیل٬ گواہ٬ شادی کی تاریخ اور یہ کی دلہن کنواری٬ بیوہ یا مطلقہ ہے درج کرنا ہوتا ہے

حق مہر (کالم 13تا16)

حق مہر کا نکاح نامہ میں اندراج ضروری ہے۔ جو عورت کا مذہبی اور قانونی حق ہے۔ ارشادات رسول اور عمل رسول کا خلاصہ ہے کہ جو حق مہر شوہر آسانی کے ساتھ ادا کرسکے اور بیوی بھی اس پر راضی ہو وہ شرعی حق مہر ہے ۔

نکاح کے کالم نمبر 14 میں اسکی نوعیت لکھی جاتی ہے کہ وہ معجل ہے یا مؤجل۔

اس طرح اگر مہر کا کچھ حصہ شادی کے موقع پر ادا کیا گیا ہو تو کالم نمبر 15 میں اس کی مقدار درج کی جاتی ہے۔

اگر حق مہر کے عوض کوئی جائیداد وغیرہ دی گئی ہو تو کالم نمبر 16میں اس کی مکمل تفصیل اس کے آگے اور پیچھے کیا ہے۔ اور اس وقت اس کی قیمت کیا ہے درج کی جاتی ہے۔ تاکہ بعد میں دھوکا نہ ہو۔

حق مہر کی اقسام

(1)مہر مؤجل

اگر مہر یا اس کے کسی حصے کی ادائیگی مستقبل میں کسی خاص مدت کے بعد دیاجانا طے پائے تو اس کو مہر مؤجل کہتے ہیں۔

(2)مہر معجل

ماہر معجل سے مراد مہر کا وہ حصہ جسے فورا ادا کرنا ہوتا ہے یعنی مہر کو نکاح کے وقت ادا کیا جاتا ہے یا جب بیوی طلب کریں تو اس کو فوری ادا کرے گا۔

خاص شرائط ( کالم نمبر 17)

کالم نمبر 17 خاص شرائط سے متعلق ہے جس کی خاص اہمیت ہے اس میں ناچاقی کی صورت میں نان و نفقہ کس طرح ادا ہوگا اور رہائش کے بارے میں بھی لکھا جا سکتا ہے کہ شادی کے بعد دیہات میں رہائش ہو گی یا شہر میں اور شادی کے بعد تعلیم یا ملازمت جاری رکھنے کی اجازت ہوگی یا نہیں وغیرہ اس میں درج کی جاتی ہیں۔

اس شق میں جہیز کی تفصیل بھی درج کی جاسکتی ہے۔

طلاق تفویض (کالم نمبر 18)

اس شق میں عورت مرد سے طلاق کا حق مانگ سکتی ہے اور اگر شوہر نے بیوی کو طلاق کا حق دے دیا ہے اور اس بارے میں کوئی شرائط مقرر کی ہیں تو وہ بھی اس خانہ میں درج کی جائیں گی۔

اور عورت جب چاہے مقررہ شرائط کو پورا کر کے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو شوہر کی زوجیت سے آزاد کر سکتی ہے۔

عورت کو اس کا نوٹس چیئرمین ثالثی کونسل کو دینا ضروری ہے کے اس نے طلاق تفویض کا حق استعمال کیا ہے۔

شوہر کے حق طلاق پر پابندی( کالم نمبر 19)

اس کالم میں شوہر کے حق کے طلاق پر شرائط مقرر مقرر کی جاتی ہیں۔ مثلا حق مہر کی فوری ادائیگی اور بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری ماں کی ہوگی وغیرہ

حق مہر اور نان و نفقہ کی دستاویز کا اندراج (کالم نمبر 20)

اگر شادی کے موقع پر حق مہر اور نان و نفقہ کے بارے میں کوئی دستاویز تیار کی گئی ہو تو اس کا اندراج کالم نمبر 20 میں کیا جاتا ہے

دوسری شادی کیلئے اجازت نامہ( کالم نمبر 21٬22)

دوسری شادی کی صورت میں عائلی قوانین کے تحت پہلی بیوی اور چیئرمین ثالثی کونسل کا اجازت نامہ لینا ضروری ہے اور دوسری شادی کی صورت میں بوقت نکاح کالم نمبر21 کو ضروری پر کرنا چاہیے اس میں دوسری شادی کی اجازت ملنے کی تاریخ درج کرنی ہوتی ہے۔

نکاح نامہ کو نکاح رجسٹرار مکمل کرکے یونین کونسل میں رجسٹرڈ کرواتا

#نکاح_فارمنکاح ایک سماجی معاہدہ ہے۔ جو فریقین کے درمیان ایجاب وقبول کے عمل سے مکمل ہو جاتا ہے۔ نکاح نامہ ایک قانونی دستا...
13/03/2018

#نکاح_فارم

نکاح ایک سماجی معاہدہ ہے۔ جو فریقین کے درمیان ایجاب وقبول کے عمل سے مکمل ہو جاتا ہے۔ نکاح نامہ ایک قانونی دستاویز ہے۔ اس کے ذریعے حقوق و فرائض کا تعین ہوتا ہے۔

اکثر لوگ نکاح نامہ کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں اس لیے ضروری ہے کہ نکاح نامہ کی ضرورت کا احساس دلایا جائے کیوں کے عورت کو مذہب اورقانون نے اپنے مستقبل کے بارے میں جن تحفظات کویقینی بنانے کی اجازت دے رکھی ہے وہ نکاح نامہ کے کالم صحیح کرنے سے ہی ممکن ہے۔ اس لئے نکاح نامہ کے کالم انتہائی احتیاط سے پر کرنے کی ضرورت ہے۔

عام معلومات ( کالم 1 تا 12)

ان کالموں میں دولہا٬ دولہن کا نام ولدیت٬ ضلع٬ عمر٬ یونین کونسل٬ فریقین کی طرف سے وکیل٬ گواہ٬ شادی کی تاریخ اور یہ کی دلہن کنواری٬ بیوہ یا مطلقہ ہے درج کرنا ہوتا ہے

حق مہر (کالم 13تا16)

حق مہر کا نکاح نامہ میں اندراج ضروری ہے۔ جو عورت کا مذہبی اور قانونی حق ہے۔ ارشادات رسول اور عمل رسول کا خلاصہ ہے کہ جو حق مہر شوہر آسانی کے ساتھ ادا کرسکے اور بیوی بھی اس پر راضی ہو وہ شرعی حق مہر ہے ۔

نکاح کے کالم نمبر 14 میں اسکی نوعیت لکھی جاتی ہے کہ وہ معجل ہے یا مؤجل۔

اس طرح اگر مہر کا کچھ حصہ شادی کے موقع پر ادا کیا گیا ہو تو کالم نمبر 15 میں اس کی مقدار درج کی جاتی ہے۔

اگر حق مہر کے عوض کوئی جائیداد وغیرہ دی گئی ہو تو کالم نمبر 16میں اس کی مکمل تفصیل اس کے آگے اور پیچھے کیا ہے۔ اور اس وقت اس کی قیمت کیا ہے درج کی جاتی ہے۔ تاکہ بعد میں دھوکا نہ ہو۔

حق مہر کی اقسام

(1)مہر مؤجل

اگر مہر یا اس کے کسی حصے کی ادائیگی مستقبل میں کسی خاص مدت کے بعد دیاجانا طے پائے تو اس کو مہر مؤجل کہتے ہیں۔

(2)مہر معجل

ماہر معجل سے مراد مہر کا وہ حصہ جسے فورا ادا کرنا ہوتا ہے یعنی مہر کو نکاح کے وقت ادا کیا جاتا ہے یا جب بیوی طلب کریں تو اس کو فوری ادا کرے گا۔

خاص شرائط ( کالم نمبر 17)

کالم نمبر 17 خاص شرائط سے متعلق ہے جس کی خاص اہمیت ہے اس میں ناچاقی کی صورت میں نان و نفقہ کس طرح ادا ہوگا اور رہائش کے بارے میں بھی لکھا جا سکتا ہے کہ شادی کے بعد دیہات میں رہائش ہو گی یا شہر میں اور شادی کے بعد تعلیم یا ملازمت جاری رکھنے کی اجازت ہوگی یا نہیں وغیرہ اس میں درج کی جاتی ہیں۔

اس شق میں جہیز کی تفصیل بھی درج کی جاسکتی ہے۔

طلاق تفویض (کالم نمبر 18)

اس شق میں عورت مرد سے طلاق کا حق مانگ سکتی ہے اور اگر شوہر نے بیوی کو طلاق کا حق دے دیا ہے اور اس بارے میں کوئی شرائط مقرر کی ہیں تو وہ بھی اس خانہ میں درج کی جائیں گی۔

اور عورت جب چاہے مقررہ شرائط کو پورا کر کے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو شوہر کی زوجیت سے آزاد کر سکتی ہے۔

عورت کو اس کا نوٹس چیئرمین ثالثی کونسل کو دینا ضروری ہے کے اس نے طلاق تفویض کا حق استعمال کیا ہے۔

شوہر کے حق طلاق پر پابندی( کالم نمبر 19)

اس کالم میں شوہر کے حق کے طلاق پر شرائط مقرر مقرر کی جاتی ہیں۔ مثلا حق مہر کی فوری ادائیگی اور بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری ماں کی ہوگی وغیرہ

حق مہر اور نان و نفقہ کی دستاویز کا اندراج (کالم نمبر 20)

اگر شادی کے موقع پر حق مہر اور نان و نفقہ کے بارے میں کوئی دستاویز تیار کی گئی ہو تو اس کا اندراج کالم نمبر 20 میں کیا جاتا ہے

دوسری شادی کیلئے اجازت نامہ( کالم نمبر 21٬22)

دوسری شادی کی صورت میں عائلی قوانین کے تحت پہلی بیوی اور چیئرمین ثالثی کونسل کا اجازت نامہ لینا ضروری ہے اور دوسری شادی کی صورت میں بوقت نکاح کالم نمبر21 کو ضروری پر کرنا چاہیے اس میں دوسری شادی کی اجازت ملنے کی تاریخ درج کرنی ہوتی ہے۔

نکاح نامہ کو نکاح رجسٹرار مکمل کرکے یونین کونسل میں رجسٹرڈ کرواتا

Address

Office No 10, 1st Floor, Dawood Atif Center, Jane Mander Chowk, Lahore
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Court Marriage Service in Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Court Marriage Service in Pakistan:

Our Story

Ch. Shoaib Anjum prides itself in the advocacy skills of its lawyers. However, we also know that success is not contingent upon the lawyer, but on the commitment and dedication he shows in his work.

We endeavour to provide the best services to our clients. At every stage of the legal process, we work in close relationship with our clients, which enable us to find the best legal solution and relief for them.

Our mission is to serve our clients and achieve their goals by providing high-quality services in a time and cost-effective manner. The undeniable truth that forms the basis of our mission is:

Nearby health & beauty businesses


Other Lahore health & beauty businesses

Show All

Comments

Name: Malik Jamil Age: 29Yrs Cast: Malik (Awan) Country: Pakistan City: Islamabad Complexion: whitish (Fair) Height: 5'9 Weight: 68KG Religion: Islam Maslaq: Sunni Marital Status: Single Education: MLIS JOB in Multinational Company as Accounts Manager. Hobbies : Music and Traveling How Many Sister & Brother: 2 bro and 2 sisters How Many Sis & Bro Married: One sis married – Looking for: Gender: female Age : 21 to 28 Height. 5.2 to 5.6 Well manners educated family, Beautiful and educated girl. Contact No: +923455083472 Whatsapp and IMO Available
Searching Well Educated Bride. Gender: Male, Education: M.Phil, Marital Status: Single. Age: 29, Cast: Rajpoot, Sunni, Weight: 70, Height: 5.8", Complexion: Wheatish Fair. Good Job, Own Business, Family Middle Class, Well Educated, Own House. Siblings: 5 (4 sisters, 2 sis vet dr, 1sis PhD frm abroad), City: Faisalabad 03127705049 03029150061 JazakAllah!
Searching Well Educated Bride. Gender: Male, Education: M.Phil, Marital Status: Single. Age: 29, Cast: Rajpoot, Sunni, Weight: 70, Height: 5.8", Complexion: Wheatish Fair. Good Job, Own Business, Family Middle Class, Well Educated, Own House. Siblings: 5 (4 sisters, 2 sis vet dr, 1sis PhD frm abroad), City: Faisalabad 03127705049 03029150061 JazakAllah!