Hussain Kaisrani - Psychotherapist & Homeopathic Consultant

Hussain Kaisrani - Psychotherapist & Homeopathic Consultant Curing with Science and a Touch of Art

Hussain Kaisrani
Psychotherapist & Homeopathic Consultant
www.kaisrani.com
DHMS, BHMS, BSc, MS ST (University of Wales, UK), MBA (TIU).

STAY SAFE STAY HOME - Due to COVID-19, ONLY ONLINE SERVICE AVAILABLE HUSSAIN KAISRANI DHMS, BHMS (UoP), B.Sc. MS ST (University of Wales, UK) MBA (TIU), MA (Philosophy, Urdu, Persian & Political Science). Brief Profile Hussain Kaisrani (aka Ahmad Hussain) is a distinguished Psychotherapist & Chief Consultant at Homeopathic Consultancy, Lahore. He is highly knowledgeable, experienced and capable

STAY SAFE STAY HOME - Due to COVID-19, ONLY ONLINE SERVICE AVAILABLE HUSSAIN KAISRANI DHMS, BHMS (UoP), B.Sc. MS ST (University of Wales, UK) MBA (TIU), MA (Philosophy, Urdu, Persian & Political Science). Brief Profile Hussain Kaisrani (aka Ahmad Hussain) is a distinguished Psychotherapist & Chief Consultant at Homeopathic Consultancy, Lahore. He is highly knowledgeable, experienced and capable

Operating as usual

پرنس چارمنگ – Prince Charming - حسین قیصرانیhttps://www.youtube.com/watch?v=PUT5t_EnkR0زندگی کے عملی حقائق پر مشتمل مختص...
08/08/2021
Prince Charming | Short Film | Mahira Khan | Zahid Ahmed | Sheheryar Munawar| SeePrime | Original |

پرنس چارمنگ – Prince Charming - حسین قیصرانی

https://www.youtube.com/watch?v=PUT5t_EnkR0

زندگی کے عملی حقائق پر مشتمل مختصر ترین دورانیہ کی یہ فلم بتاتی ہے کہ شادی شدہ زندگی کے ابتدائی دنوں اور سالوں میں ایک لڑکی کو کس طرح کے جذباتی اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

"پرنس چارمنگ" میں شادی کے بعد خواتین میں ڈپریشن کے مسائل کو بڑی خوبی اور خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔

نوجوان بچیوں میں یہ مسائل ہمیشہ سے رہے ہیں۔ گذشتہ ڈیڑھ سال میں حالات اس لئے زیادہ خراب ہو گئے ہیں کہ “ورک فرام ہوم” نے گھر اور دفتر کا فرق بھی ختم کر دیا تھا۔ اِن دنوں میں نفسیاتی اور جذباتی مسائل میں مبتلا مریضوں کی تعداد واضح بڑھ چکی ہے۔

ایک شوہر جب ہر وقت اپنے کام میں مصروف رہتا ہے اور اپنی بیوی کو مناسب وقت نہیں دے پاتا تو وہ اپنے خیالوں کی دنیا میں چلی جاتی ہے اور ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ اور پھر جو کیفیت ہوتی ہے، اُس کو سمجھنے کے لئے فلم دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ فلم ہم شوہروں کے رویے اور بیویوں پر ہونے والے اثرات کو دکھانے کی کوشش ہے۔

اگر کسی کا روزمرہ کے کاموں میں دل نہیں لگتا
اگر مایوسی، بیزاری، اور غم کی فضا سوار رہتی ہے،
اگر پینک اٹیک یا گھبراہٹ اکثر ہونے لگی ہے،
اگر اداسی یا بیزاری اور پریشانی چھائی رہتی ہے
اگر بے بسی اور زندگی سے کٹنے کا مزاج ہوتا جا رہا ہے

تو شاید نہیں بلکہ یقینی یہ ڈپریشن اور انگزائٹی کی طرف جانے والا راستہ ہے۔

ہومیوپیتھی میں اِس کا حل موجود ہے۔ اپنے اعتماد کے ڈاکٹر سے کیس ڈسکس کر کے علاج کروائیں۔ یہ مسائل اگر لمبا عرصہ جاری رہیں تو پیچیدہ صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
———————
حسین قیصرانی ۔ سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ ۔ لاہور ۔ فون +92 300 2000210

https://kaisrani.com/%d9%be%d8%b1%d9%86%d8%b3-%da%86%d8%a7%d8%b1%d9%85%d9%86%da%af-prince-charming/

She was promised her Prince Charming. She only wants what was promised, is that too much to ask?A look into the morning of Sheherzade, as she splits her time...

Photos from Hussain Kaisrani - Psychotherapist & Homeopathic Consultant's post
26/07/2021

Photos from Hussain Kaisrani - Psychotherapist & Homeopathic Consultant's post

بچوں کا بستر پر پیشاب کرنا – سبب اور ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانیکوئی تین ہفتے قبل مَیں نے ایک تحریر میں لکھا تھا کہ ب...
25/07/2021

بچوں کا بستر پر پیشاب کرنا – سبب اور ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی
کوئی تین ہفتے قبل مَیں نے ایک تحریر میں لکھا تھا کہ بچے اگر پانچ سال کی عمر تک بستر گیلا (سوتے یا نیند میں پیشاب) کر دیتے ہیں تو اُنہیں تربیت (ٹریننگ) کی ضرورت ہے اور اُس کے بعد ایسا کریں تو اُنہیں علاج کی۔
ایسے بچوں کو ڈانٹنا، شرمندہ کرنا یا مہمانوں، رشتہ داروں کے سامنے ان کی اس تکلیف کا ذکر کرنا اُن کی آنے والی زندگی میں بہت پیچیدگیاں لاتا ہے۔ ایسا کرنے سے بچوں کی خود اعتمادی کو جو نقصان پہنچتا ہے؛ وہ عمر بھر اُن کی خوشگوار اور کامیاب زندگی میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔اِس حوالہ سے کئی خواتین و حضرات نے اپنے یا اپنے بچوں کے تجربات ڈسکس کئے۔ ہر کیس میں ایک بات واضح اور مشترک نظر آئی کہ اِس تکلیف سے گزرنے والے تمام لوگوں میں (چاہے وہ بچے ہوں یا بڑے) اعتماد کی واضح کمی پائی گئی۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا بچوں میں اعتماد (Confidence) کی کمی ہوتی ہے؛ اس لئے بچے بستر پر پیشاب کر دیتے ہیں یا بستر گیلا کر دینے کی وجہ سے اُن میں اعتماد (Confidence) نہیں رہتا۔ یورپ اور امریکہ میں اِس موضوع پر بہت تحقیق ہو چکی ہے اور ریسرچ کا یہ سلسلہ جاری بھی رہتا ہے۔


چند سال ادھر دبئی میں اس حوالہ سے تین روزہ عالمی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس میں دنیا بھر کے نامور سائیکوتھراپسٹ اور سائیکالوجسٹ اپنی تحقیق اور تجربات پیش کرتے رہے۔ ایک ہندوستانی چائلڈ سائیکالوجسٹ کی تحقیق ہمارے معاشرتی رویوں کی بڑی اچھی ترجمانی کرتی محسوس ہوئی۔ اُس کی تحقیق کا نچوڑ یہ تھا کہ جس بچے کو بستر گیلا کرنے کی بیماری ہے وہ اگر پہلے سے نفسیاتی مسائل کا شکار نہیں بھی ہے تو اب ضرور ہو جائے گا۔ اُس نے سب سے پہلے خود اپنی مثال دی۔ اُس کا کہنا تھا کہ

“مَیں کوئی پانچ چھ سال کا ہوں گا کہ جب یہ واقعہ میرے ساتھ ہوا۔ ہوا یوں کہ میری رشتہ کی کزن جو بہت دور کے گاؤں میں بیاہی گئی تھی؛ ہمارے گھر کسی وجہ سے رات ٹھہری۔ باتیں کرتے کرتے مجھے اُس کے بستر پر ہی نیند آ گئی۔ شور سے میری آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ میں نے اُس کے کپڑے خراب کر دیے تھے اور بستر بھی۔ دوسرے دن جو کوئی بھی اُسے ملا؛ اُس نے یہ واقعہ ہر ایک کو سنایا۔ مجھے اُس عمر کا شاید ہی کوئی واقعہ اِس وضاحت سے یاد ہو جتنا کہ یہ۔ مَیں اُس کے بعد اُسے کوئی چار پانچ دفعہ ہی ملا ہوں گا۔ آخری بار اپنی شادی پر اُس سے ملا۔ جونہی میری نظر اُس پر پڑی مجھے وہ سارا واقعہ اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ یاد آ گیا اور میں اپنے اوپر کنٹرول برقرار نہ رکھ سکا۔ شاید اُسے یہ کچھ یاد بھی نہ ہو لیکن اتنا کچھ پڑھنے اور علاج کرنے کے باوجود اگر میں اُس کا نام کسی بھی حوالہ سے سنوں تو میری کیفیت تبدیل ہو جاتی ہے”۔

اُس نے اپنی بات بڑھاتے ہوئے بتایا کہ ایسا واقعہ جب بھی کسی بچے کے ساتھ ہوتا ہے تو والدین کا رویہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ نیند ہی اُن کی غصہ اور طعنہ بھری باتوں بلکہ شور سے کھلتی ہے۔ اگر گھر میں دوسرے افراد بھی ہیں تو بچے کا پہلا ڈر یہ ہوتا ہے کہ سب کو معلوم ہو جائے گا۔ ہر رات بچے کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جاتی ہے کہ آج رات تم نے کیا نا تو خیر نہیں۔ گھر میں کوئی مہمان آیا ہو تو بھی لحاظ نہیں کیا جاتا۔ اگر کسی کے ہاں رات ٹھہریں تو سونے سے پہلے یہ کہانی دہرائی جاتی ہے۔ ایک خاص شیٹ سنبھالی، نکالی اور بچھائی جاتی ہے۔ بچے کو نیند سے اٹھا کر واش روم لے جایا جاتا ہے جس سے اُس کی نیند بے وجہ بھی ڈسٹرب ہوتی ہے۔ بعض اوقات رشتہ دار پوچھتے بھی رہتے ہیں کہ اب بھی یہ پیشاب کر دیتا ہے؟ دوسرے بچوں سے جب کبھی جھگڑا وغیرہ ہوتا ہے تو یہ طعنہ اعلانیہ ملتا ہے۔

کئی بار رات کے وقت بستر گیلا ہونے کا والدین کو بر وقت علم نہیں ہو پاتا اور یہ بچے شرم اور ڈر سے خود بتاتے بھی نہیں۔ ایسی صورتِ حال میں ان کی طبیعت اکثر خراب رہتی ہے جس کے لئے بار بار دوائیاں دینی پڑتی ہیں۔ نزلہ زکام اور کھانسی ایسے بچوں کو جلدی پکڑ لیتی ہے۔ نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے چڑچڑے اور بیزار رہتے ہیں۔ سکول میں بھی توجہ برقرار نہیں رکھ پاتے۔

میرا تجربہ یہ ہے کہ ایسے بچوں کو مارکیٹ میں بنی بنائی دوائیوں، نسخوں یا ٹوٹکوں سے مستقل فائدہ نہیں ہوا کرتا۔ اِن کے نفسیاتی مسائل کو خوب سوچ سمجھ کر علاج کیا جائے تو یہ عادت یا تکلیف ہومیوپیتھک علاج سے کنٹرول ہونے کے ساتھ ساتھ بچے کی خود اعتمادی میں بھی واضح بہتری ہوتی ہے۔

بچوں میں بستر گیلا کر دینے کا ہومیوپیتھی کی کامیاب ترین دوا وہی ہو گی جو باقی معاملات اور مسائل کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ (Constitutional Remedy) بچے کی ہسٹری اور فیملی ہسٹری کو بنیاد بنا کر دی جائے گی۔ تاہم عام طور پر پاکستان کے ماحول میں مندرجہ ذیل دواؤں میں کسی ایک کی ضرورت پڑتی ہے۔

اکویزیٹم (EQUISETUM HYEMALE (equis-h.))
بیلاڈونا (Belladonna)
کاسٹیکم (Causticum) - اگر پہلی نیند میں ہی بستر گیلا کر دیں حالانکہ واش روم سے آ کر ہی سوئے ہوں۔
سائنا (CINA) - جن بچوں میں پیٹ کے کیڑے بھی ہوں۔
چائنا (China) - یہ دوا کمزور بچوں کے لئے بہت مفید پائی گئی ہے۔
کریوزیٹم (Kreosotum) - جن بچوں کو جگانا مشکل ہو، اُن کے لئے زیادہ مفید ہے یا جن بچوں کو خواب ایسا آتا ہو کہ وہ پیشاب کر رہے ہیں۔ وہ اپنے طور پر واش روم میں ہی ہوتے ہیں۔
لائیکوپوڈیم (Lycopodium Clavatum) - اگر بچے گھر میں بہت بدتمیز اور جھگڑالو ہوں مگر سکول وغیرہ میں بہت شریف سمجھے جاتے ہوں۔
لیک کنائنم () - یہ دوا بچوں کی بچائے نوجوانوں کے لئے زیادہ مفید ہے۔

کچھ عرصہ قبل ابوظہبی کی ایک فیملی نے اپنے بیٹے کا کیس ڈسکس کیا جس کا اہم مسئلہ اعتماد کی کمی تھی۔ کیس کے دوران مجھے بھی خیال نہ آیا اور انہوں نے بھی ذکر نہ کیا کہ بیٹے کو بستر گیلا کرنے کی مستقل بیماری بھی ہے۔ اگرچہ بہتری تو آ رہی تھی لیکن واضح نہ تھی۔ نئے سرے سے کیس لیا گیا اور کسی بات سے اس بات کا اشارہ مل گیا۔ بیٹے کے تمام مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہومیوپیتھک دوا “آرسنیک البم” (Arsenicum Album) دی گئی۔ والدین کا خوشی سے بھرپور ماہانہ فیڈبیک کل موصول ہوا کہ پورے مہینے میں ایک بار بھی بیٹے نے بستر گیلا نہیں کیا۔

فرماتے ہیں:
ایک اچھی خبر جو آپ کو بتانا ضروری ہے۔ بیٹے نے ایک بار بھی بستر گیلا نہیں کیا۔ ہوتا یوں ہے کہ اب وہ خود آدھی رات کو اٹھتا ہے، واش روم جاتا ہے اور واپس آ کر سو جاتا ہے۔ اُس نے اب پیشاب کا پریشر محسوس کرنا شروع کر دیا ہے جو اُسے رات کو جگا دیتا ہے۔ پچھلے چار ہفتے یعنی پورا مہینہ بالکل ہی صاف گزرا۔ گزشتہ دو ہفتے تو خاص طور پر اہم ہیں کہ جب اُس کا سکول دوبارہ کھل گیا ہے۔

(سکول کھلنے کا خاص طور پر اِس لئے لکھا ہے کیونکہ بچے جلدی سو جاتے ہیں اور دن بھر کے تھکے ہارے ہوتے ہیں۔ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے کہ اُن کی نیند نہ کھل سکے)۔

=============
حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ – لاہور پاکستان فون نمبر 03002000210۔

https://kaisrani.com/%D8%A8%DA%86%DB%92-%D9%BE%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D8%A8-%DB%81%D9%88%D9%85%DB%8C%D9%88%D9%BE%DB%8C%D8%AA%DA%BE%DA%A9-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC-%D9%82%DB%8C%D8%B5%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C/

بچوں کا بستر پر پیشاب کرنا – سبب اور ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی
کوئی تین ہفتے قبل مَیں نے ایک تحریر میں لکھا تھا کہ بچے اگر پانچ سال کی عمر تک بستر گیلا (سوتے یا نیند میں پیشاب) کر دیتے ہیں تو اُنہیں تربیت (ٹریننگ) کی ضرورت ہے اور اُس کے بعد ایسا کریں تو اُنہیں علاج کی۔
ایسے بچوں کو ڈانٹنا، شرمندہ کرنا یا مہمانوں، رشتہ داروں کے سامنے ان کی اس تکلیف کا ذکر کرنا اُن کی آنے والی زندگی میں بہت پیچیدگیاں لاتا ہے۔ ایسا کرنے سے بچوں کی خود اعتمادی کو جو نقصان پہنچتا ہے؛ وہ عمر بھر اُن کی خوشگوار اور کامیاب زندگی میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔اِس حوالہ سے کئی خواتین و حضرات نے اپنے یا اپنے بچوں کے تجربات ڈسکس کئے۔ ہر کیس میں ایک بات واضح اور مشترک نظر آئی کہ اِس تکلیف سے گزرنے والے تمام لوگوں میں (چاہے وہ بچے ہوں یا بڑے) اعتماد کی واضح کمی پائی گئی۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا بچوں میں اعتماد (Confidence) کی کمی ہوتی ہے؛ اس لئے بچے بستر پر پیشاب کر دیتے ہیں یا بستر گیلا کر دینے کی وجہ سے اُن میں اعتماد (Confidence) نہیں رہتا۔ یورپ اور امریکہ میں اِس موضوع پر بہت تحقیق ہو چکی ہے اور ریسرچ کا یہ سلسلہ جاری بھی رہتا ہے۔


چند سال ادھر دبئی میں اس حوالہ سے تین روزہ عالمی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس میں دنیا بھر کے نامور سائیکوتھراپسٹ اور سائیکالوجسٹ اپنی تحقیق اور تجربات پیش کرتے رہے۔ ایک ہندوستانی چائلڈ سائیکالوجسٹ کی تحقیق ہمارے معاشرتی رویوں کی بڑی اچھی ترجمانی کرتی محسوس ہوئی۔ اُس کی تحقیق کا نچوڑ یہ تھا کہ جس بچے کو بستر گیلا کرنے کی بیماری ہے وہ اگر پہلے سے نفسیاتی مسائل کا شکار نہیں بھی ہے تو اب ضرور ہو جائے گا۔ اُس نے سب سے پہلے خود اپنی مثال دی۔ اُس کا کہنا تھا کہ

“مَیں کوئی پانچ چھ سال کا ہوں گا کہ جب یہ واقعہ میرے ساتھ ہوا۔ ہوا یوں کہ میری رشتہ کی کزن جو بہت دور کے گاؤں میں بیاہی گئی تھی؛ ہمارے گھر کسی وجہ سے رات ٹھہری۔ باتیں کرتے کرتے مجھے اُس کے بستر پر ہی نیند آ گئی۔ شور سے میری آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ میں نے اُس کے کپڑے خراب کر دیے تھے اور بستر بھی۔ دوسرے دن جو کوئی بھی اُسے ملا؛ اُس نے یہ واقعہ ہر ایک کو سنایا۔ مجھے اُس عمر کا شاید ہی کوئی واقعہ اِس وضاحت سے یاد ہو جتنا کہ یہ۔ مَیں اُس کے بعد اُسے کوئی چار پانچ دفعہ ہی ملا ہوں گا۔ آخری بار اپنی شادی پر اُس سے ملا۔ جونہی میری نظر اُس پر پڑی مجھے وہ سارا واقعہ اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ یاد آ گیا اور میں اپنے اوپر کنٹرول برقرار نہ رکھ سکا۔ شاید اُسے یہ کچھ یاد بھی نہ ہو لیکن اتنا کچھ پڑھنے اور علاج کرنے کے باوجود اگر میں اُس کا نام کسی بھی حوالہ سے سنوں تو میری کیفیت تبدیل ہو جاتی ہے”۔

اُس نے اپنی بات بڑھاتے ہوئے بتایا کہ ایسا واقعہ جب بھی کسی بچے کے ساتھ ہوتا ہے تو والدین کا رویہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ نیند ہی اُن کی غصہ اور طعنہ بھری باتوں بلکہ شور سے کھلتی ہے۔ اگر گھر میں دوسرے افراد بھی ہیں تو بچے کا پہلا ڈر یہ ہوتا ہے کہ سب کو معلوم ہو جائے گا۔ ہر رات بچے کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جاتی ہے کہ آج رات تم نے کیا نا تو خیر نہیں۔ گھر میں کوئی مہمان آیا ہو تو بھی لحاظ نہیں کیا جاتا۔ اگر کسی کے ہاں رات ٹھہریں تو سونے سے پہلے یہ کہانی دہرائی جاتی ہے۔ ایک خاص شیٹ سنبھالی، نکالی اور بچھائی جاتی ہے۔ بچے کو نیند سے اٹھا کر واش روم لے جایا جاتا ہے جس سے اُس کی نیند بے وجہ بھی ڈسٹرب ہوتی ہے۔ بعض اوقات رشتہ دار پوچھتے بھی رہتے ہیں کہ اب بھی یہ پیشاب کر دیتا ہے؟ دوسرے بچوں سے جب کبھی جھگڑا وغیرہ ہوتا ہے تو یہ طعنہ اعلانیہ ملتا ہے۔

کئی بار رات کے وقت بستر گیلا ہونے کا والدین کو بر وقت علم نہیں ہو پاتا اور یہ بچے شرم اور ڈر سے خود بتاتے بھی نہیں۔ ایسی صورتِ حال میں ان کی طبیعت اکثر خراب رہتی ہے جس کے لئے بار بار دوائیاں دینی پڑتی ہیں۔ نزلہ زکام اور کھانسی ایسے بچوں کو جلدی پکڑ لیتی ہے۔ نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے چڑچڑے اور بیزار رہتے ہیں۔ سکول میں بھی توجہ برقرار نہیں رکھ پاتے۔

میرا تجربہ یہ ہے کہ ایسے بچوں کو مارکیٹ میں بنی بنائی دوائیوں، نسخوں یا ٹوٹکوں سے مستقل فائدہ نہیں ہوا کرتا۔ اِن کے نفسیاتی مسائل کو خوب سوچ سمجھ کر علاج کیا جائے تو یہ عادت یا تکلیف ہومیوپیتھک علاج سے کنٹرول ہونے کے ساتھ ساتھ بچے کی خود اعتمادی میں بھی واضح بہتری ہوتی ہے۔

بچوں میں بستر گیلا کر دینے کا ہومیوپیتھی کی کامیاب ترین دوا وہی ہو گی جو باقی معاملات اور مسائل کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ (Constitutional Remedy) بچے کی ہسٹری اور فیملی ہسٹری کو بنیاد بنا کر دی جائے گی۔ تاہم عام طور پر پاکستان کے ماحول میں مندرجہ ذیل دواؤں میں کسی ایک کی ضرورت پڑتی ہے۔

اکویزیٹم (EQUISETUM HYEMALE (equis-h.))
بیلاڈونا (Belladonna)
کاسٹیکم (Causticum) - اگر پہلی نیند میں ہی بستر گیلا کر دیں حالانکہ واش روم سے آ کر ہی سوئے ہوں۔
سائنا (CINA) - جن بچوں میں پیٹ کے کیڑے بھی ہوں۔
چائنا (China) - یہ دوا کمزور بچوں کے لئے بہت مفید پائی گئی ہے۔
کریوزیٹم (Kreosotum) - جن بچوں کو جگانا مشکل ہو، اُن کے لئے زیادہ مفید ہے یا جن بچوں کو خواب ایسا آتا ہو کہ وہ پیشاب کر رہے ہیں۔ وہ اپنے طور پر واش روم میں ہی ہوتے ہیں۔
لائیکوپوڈیم (Lycopodium Clavatum) - اگر بچے گھر میں بہت بدتمیز اور جھگڑالو ہوں مگر سکول وغیرہ میں بہت شریف سمجھے جاتے ہوں۔
لیک کنائنم () - یہ دوا بچوں کی بچائے نوجوانوں کے لئے زیادہ مفید ہے۔

کچھ عرصہ قبل ابوظہبی کی ایک فیملی نے اپنے بیٹے کا کیس ڈسکس کیا جس کا اہم مسئلہ اعتماد کی کمی تھی۔ کیس کے دوران مجھے بھی خیال نہ آیا اور انہوں نے بھی ذکر نہ کیا کہ بیٹے کو بستر گیلا کرنے کی مستقل بیماری بھی ہے۔ اگرچہ بہتری تو آ رہی تھی لیکن واضح نہ تھی۔ نئے سرے سے کیس لیا گیا اور کسی بات سے اس بات کا اشارہ مل گیا۔ بیٹے کے تمام مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہومیوپیتھک دوا “آرسنیک البم” (Arsenicum Album) دی گئی۔ والدین کا خوشی سے بھرپور ماہانہ فیڈبیک کل موصول ہوا کہ پورے مہینے میں ایک بار بھی بیٹے نے بستر گیلا نہیں کیا۔

فرماتے ہیں:
ایک اچھی خبر جو آپ کو بتانا ضروری ہے۔ بیٹے نے ایک بار بھی بستر گیلا نہیں کیا۔ ہوتا یوں ہے کہ اب وہ خود آدھی رات کو اٹھتا ہے، واش روم جاتا ہے اور واپس آ کر سو جاتا ہے۔ اُس نے اب پیشاب کا پریشر محسوس کرنا شروع کر دیا ہے جو اُسے رات کو جگا دیتا ہے۔ پچھلے چار ہفتے یعنی پورا مہینہ بالکل ہی صاف گزرا۔ گزشتہ دو ہفتے تو خاص طور پر اہم ہیں کہ جب اُس کا سکول دوبارہ کھل گیا ہے۔

(سکول کھلنے کا خاص طور پر اِس لئے لکھا ہے کیونکہ بچے جلدی سو جاتے ہیں اور دن بھر کے تھکے ہارے ہوتے ہیں۔ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے کہ اُن کی نیند نہ کھل سکے)۔

=============
حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ – لاہور پاکستان فون نمبر 03002000210۔

https://kaisrani.com/%D8%A8%DA%86%DB%92-%D9%BE%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D8%A8-%DB%81%D9%88%D9%85%DB%8C%D9%88%D9%BE%DB%8C%D8%AA%DA%BE%DA%A9-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC-%D9%82%DB%8C%D8%B5%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C/

بچوں کا دیر سے چلنا، جسمانی اور نفسیاتی مسائل – ہومیوپیتھک دوا اور علاج – حسین قیصرانیبچوں کے ابتدائی چند سال ہی اُن کے ...
05/07/2021
بچوں کا دیر سے چلنا، جسمانی اور نفسیاتی مسائل - ہومیوپیتھک دوا اور علاج - حسین قیصرانی

بچوں کا دیر سے چلنا، جسمانی اور نفسیاتی مسائل – ہومیوپیتھک دوا اور علاج – حسین قیصرانی
بچوں کے ابتدائی چند سال ہی اُن کے مستقبل کی بنیاد ہوتے ہیں۔ والدین کو چاہئے کہ اُن کے اندر ظاہر ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھیں؛ اُن کے مسائل کو سمجھیں اور حل کرنے کے صحیح طریقے اختیار کریں۔ ہر مسئلے کو انجیکشن، سخت دوائیوں اور انٹی بائیوٹیکس سے دبا دینا مسائل کا حل یا علاج نہیں ہے۔
بچوں کے جسمانی، ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی مسائل پر اکثر لکھتے رہتے ہیں۔ ہمارا آج کا موضوع ہے کہ کچھ بچے دیر سے کیوں چلنا شروع کرتے ہیں اور اس معمولی مسئلہ کو صحیح طور پر حل نہ کرنے سے اُن کی مستقبل کی زندگی کس بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔ زندگی کی دوڑ میں اُن کے پیچھے رہنے کا امکان کیوں بڑھ جاتا ہے۔
ہومیوپیتھی اصولوں کے مطابق علاج کا صحیح طریقہ تو یہی ہے کہ ایسے بچوں کے والدین کا باقاعدہ انٹرویو لے کر اُن کے تمام مسائل کا علاج کیا جائے۔ چونکہ ہم میں سے اکثر کے لئے کئی وجوہات کی بنا پر ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا سو اس مسئلہ کو آسان کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستانی معاشرہ میں بچوں کے دیر سے چلنے کی عموماً دو وجوہات ہوتی ہیں اور ہر وجہ کے لئے ایک ہومیوپیتھک دوائی۔
جو بچے دیر سے چلنا شروع کرتے ہیں اُن کو بالعموم برائٹا کارب (Baryta Carbonica) کی ضرورت پڑتی ہے یا کلکیریا کارب (Calcarea Carbonica) کی۔ دونوں دیر اور دور تک بہت گہرا اثر کرنے والی دوائیاں ہیں۔ کس بچے کو کون سی دوا کی ضرورت ہے اِس کے لئے تھوڑا سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اِس کی تفصیل بہت طول طویل ہے جسے ہومیوپیتھی کا گہرا علم نہ رکھنے والے والدین کے لئے سمجھنا ذرا مشکل ہے۔ اسے سادہ اور مختصر انداز میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:
بچہ موٹا ہو یا موٹاپے کی طرف مائل ہو، اُس کا جسم پلپلا ہو اور وہ سست ہو۔ سوتے میں چہرہ، سر اور گردن پر پسینہ آتا ہو تو بچے کی ہڈیاں کمزور ہیں اور اُس کے پیروں میں جان نہیں ہے۔ اس طرح کے بچے کو جسمانی مسئلہ ہے اور وہ اس وجہ سے لیٹ یا دیر سے چلتا ہے۔ یہ بچے عام طور پر بہت زیادہ مسائل کا شکار نہیں ہوتے۔ تھوڑے بڑے ہو کر ان کو مٹی اور ریت کھانے کی عادت پڑ سکتی ہے۔ انڈے کھانے کی رغبت بھی ہوتی ہے۔ اگر کوئی اَور مسئلہ نہیں ہے یا بہت دوائیاں استعمال نہیں کی گئی ہیں تو ن بچوں کی دوا کلکیریا کارب 200 (Calcarea Carbonica) کی صرف ایک خوراک ہے۔ اللہ کے فضل سے تھوڑے دنوں کے اندر بچہ چلنا بھی شروع کر دے گا اور اُس کی صحت میں بھی واضح بہتری آنا شروع ہو جائے گی۔
اِس میں ایک مسئلہ یہ ہو سکتا ہے کہ بچے کا موٹاپا کم ہونا شروع ہوتا ہے تو گھر والے پریشان ہو جاتے ہیں کہ بچہ بیمار ہو رہا ہے۔ وہ خواہ مخواہ کھلانے پلانے پر زور لگاتے ہیں یا کوئی طاقت کی دوا شروع کروا دیتے ہیں جس سے مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید خراب ہوتا ہے۔ جب ہومیوپیتھک دوا دی جائے تو اُس کا عمل پورا ہونے دینا بہت ہی اہم ہے۔ اِس دوران ہونے والا نزلہ، زکام، بخار یا پیٹ کی خرابی بہت عارضی ہوتی ہے اور بیماری کو باہر نکالنے کا ذریعہ۔ اِسے کسی دوائی سے روکنا دراصل بچے کے اندر آنے والی بہتری کو روکنا ہے۔

دوسری قسم یہ ہوتی ہے کہ بچہ بظاہر ٹھیک ٹھاک ہے۔ اُس کے جسم میں طاقت اور ہڈیوں میں بھی جان ہے مگر پھر بھی وہ لیٹ یعنی دیر سے چلتا ہے۔ ایسے بچوں کا مسئلہ جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی ہے۔ یہ دیر سے چلتے نہیں بلکہ “دیر سے چلنا سیکھتے ہیں”۔ ایسے بچوں کی دوا برائٹا کارب 200 (Baryta Carbonica) کی صرف ایک خوراک ہے۔ اگر بچے کو کسی بھی وجہ سے بہت زیادہ دوائیں نہیں دی جا چکی ہیں تو اُس کے ہر مسئلے میں، اللہ کے فضل سے، اِسی دوا سے کافی بہتری آ جائے گی۔ شرط یہ ہوا کرتی ہے کہ دوائی کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔ طبیعت میں جو وقتی خرابی آئے؛ اُس کو ہمت اور حوصلہ سے برداشت کیا جائے تاکہ اندر کی خرابیاں باہر نکل سکیں۔ اگر ایک ماہ کے اندر کوئی تبدیلی نہ آئے یا واضح فائدہ نہ ہو یا مسائل بڑھ جائیں تو ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ اور باقاعدہ علاج ضروری ہو جاتا ہے۔

جو بچہ دیر سے چلنا “سیکھتا” ہے وہ ہمارا آج کا موضوع ہے۔ ایسا بچہ بالعموم بولنا بھی دیر سے ہی “سیکھتا” ہے (Late Learning To Talk) تاہم اس کو کسی اَور وقت ڈسکس کریں گے۔ اور یہ دیر اُس کی زندگی کا خاصہ ہونا شروع ہو جاتی ہے بالکل منیر نیازی صاحب کی اس نظم کی طرح:
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں مَیں، ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے يہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

یہ بچہ جب اپنے سنگِ میل (Milestone) وقت پر پورے نہیں کر پاتا تو اپنے ہم عمر رشتہ دار بچوں سے پیچھے رہ جاتا ہے۔ اپنی اس کیفیت کا جب احساس ہونا شروع ہوتا ہے تو احساسِ کمی و کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔ رشتہ دار، ماں باپ اور بہن بھائی اُس کو طعن و تشنیع سے نوازنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے۔ ایسے بچوں کا سہارا رہ سہہ کے ماں ہی رہ جاتا ہے۔ وہ جہاں جاتا ہے وہ اپنی ماں سے چپکا رہتا ہے۔ گھر میں کوئی مہمان آ جائیں تو وہ بچتا بلکہ چھپتا پھرے گا۔ اگر مجبوراً سامنے آنا بھی پڑے تو منہ نیچے کئے رہنے کی متواتر کوشش ہو گی۔ دور سے دیکھتے رہنے کی خواہش ہوتی ہے مگر سامنے آ کر سلام کرنا اِن کے لئے جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے۔ ان کا قد اور جسم بھی متاثر ہوتا ہے تاہم دماغ کی پروسیسنگ خاص طور پر ڈسٹرب ہو جاتی ہے۔ وہ ہر بات کا جواب دینے سے پہلے سوچیں گے۔ اکثر تو ان کو سوال سمجھنے میں ہی دقت ہو گی۔ اِس مسئلے کا لاشعوری حل وہ اِس طرح نکالتے ہیں کہ وہ اجنبی لوگوں سے رابطہ رکھنے سے بچتے ہیں۔ یہ رویہ انہیں اکیلا کرتا جاتا ہے۔ اِس کا لازمی نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ تعلقات بنانے اور نبھانے کی صلاحیت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ان کا دوست عموماً ایک ہی ہوتا ہے جس پر ہی مکمل انحصار ہوتا ہے۔ اُس کی شادی یا کہیں اَور شفٹنگ اِن کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ پاکستان میں مجھے ایسی ہی دو نوجوان لڑکیوں اور ایک لڑکے کا کامیاب علاج کرنے کا موقع ملا ہے جن کے والدین اِس وجہ سے پریشان تھے کہ یہ بچے “ہم جنس پرست” (Homosexual) ہیں۔ بالکل بھی ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ چونکہ مجھے برطانوی اور یورپی معاشروں کے مشاہدہ کا ذاتی تجربہ تھا سو معاملہ سمجھنے میں زیادہ دقت نہیں ہوئی۔ وہاں کئی لوگ اپنے دوست کے ساتھ زندگی گزار دیتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ اُن میں کوئی عجیب یا بُری عادت ہو۔ اللہ نے کرم کیا اور یہ بچے علاج اور سائکوتھراپی سے نارمل ہو گئے۔ وجہ صرف یہی تھی وہ بکھیڑوں، تبدیل ماحول اور نئے لوگوں سے بچنا چاہتے تھے اور اپنے / اپنی دوست کے ساتھ ہر لحاظ سے مطمئن تھے۔

بیٹیاں اگر اس انداز کے مزاج کی ہوں تو جوانی کی عمر میں بھی بچیاں ہی رہتی ہیں۔ ملنے ملانے یا بات چیت کے بجائے وہ گڑیوں (فیس بک، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو آج کی گڑیاں وغیرہ سمجھئے) سے کھیلنے میں سکون محسوس کریں گی۔ ان کی ہر بات میری امی سے شروع ہو کر میری امی تک ختم ہو گی۔ وہ اپنی عمر کے حساب سے چلنا، بیٹھنا اور بولنا نہیں کر پاتیں۔ وہ یہ سب کچھ سیکھ نہیں پاتیں کیونکہ “سیکھنے کا عمل” بہت سست ہوتا ہے۔

ایسے بچے (اور بڑے) جب کوئی دماغی کام کرتے ہیں یا دماغ پر زور دیتے ہیں تو ان کی جسمانی، ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ بات پوچھی جائے تو وہ سوچ میں پڑ جاتے ہیں اور فوراً جواب نہیں دے پاتے۔ اس دوران ماں باپ یا ٹیچر اگر ڈانٹنا شروع کر دیں تو بہت ڈسٹرب ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ آئے دن جاری رہے تو اِن کو ذہنی تشدد کی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ جب ہم ایسے بچوں کو پڑھاتے ہیں تو بار بار پڑھانے اور سمجھانے کے باوجود انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا مگر اگر بہت کوشش کے بعد کسی طرح اور کچھ سمجھ جائیں تو بھر سنا نہیں پاتے۔ ابھی وہ زبان کھولنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو پڑھانے والے کا غصہ دیکھ کر سب بھول جاتے ہیں۔ کئی بار لکھنے میں تو آسانی ہوتی ہے مگر بول کر کچھ سنانا یا بتانا بہت ہی مشکل۔ یہ عام بچوں کی طرح فوراً جواب نہیں دے پاتے سو ان کے متعلق منفی رائے قائم کر لی جاتی ہے۔ گھر والے طنز، شرارت یا شغل میں ان کو ثابت کروانے پر ہر وقت تُلے رہتے ہیں کہ یہ تو ہے ہی ایسے۔ مثلاً اس بچے سے پوچھا جائے کہ کیا کھا رہے ہو تو اُسے سوال کو سمجھنے اور جواب دینے میں وقت درکار ہوتا ہے اور ہم کہہ دیتے ہیں اتنا بھی اِس کو نہیں پتہ؛ اِس کا دماغ بالکل بھی کام نہیں کرتا۔ یہ سلسلہ چلتا رہے تو پھر ڈر، خوف اور احتیاط دماغ پر حاوی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ان کا دماغ ایک وقت میں کئی معاملات نہیں سنبھال سکتا سو اِن کو بھولنے کا مسئلہ شروع ہو جاتا ہے۔ مثلاً کوئی چیز اُٹھانے یا کہیں سے لینے جائیں گے اور خوب یاد کرتے جائیں گے کہ کہیں بھول نہ جاؤں مگر آخرکار اصل بات یا کام بھول جائیں گے۔ ہومیوپیتھک لٹریچر میں اِس کی مثال یہ لکھی ملتی ہے کہ سٹور سے کچھ لینے جائے گا تو پیسے دے کر خالی ہاتھ آ جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ اُس دوران کسی اَور بات (بقایا وغیرہ لینے) پر اُس کی توجہ چلی گئی اور اصل بات ذہن سے محو ہو گئی۔ دماغ اُلجھا رہنے لگتا ہے اور خود اعتمادی آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی ہے۔ ذمہ داری والا کام کرنا ان کے بس کا کام نہیں رہتا۔

یہ بات سمجھنے میں بھی دیر لگ جاتی ہے کہ ان کے اندر کوئی کمی ہے یا وہ دوسرے بچوں کی طرح نہیں ہیں۔ جب احساس ہو جاتا ہے تو اپنی خامی اور کمی کو چھپانا چاہتا ہے۔ ایسا وہ اِس لئے بھی کرتا ہے کہ اُسے تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اب وہ محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں رہتا ہے جو صرف اُس کے اپنے لوگ ہوتے ہیں جن کو پہلے ہی سب کچھ معلوم ہوتا ہے۔ اجنبی یا نئے لوگوں سے رابطہ تعلق بنانے سے ہر ممکن طور پر بچتا ہے۔ مہمانوں کو ملنے سے اِس کی جان جاتی ہے۔ اُس کو ڈر لگتا ہے کہ وہ لوگ اِس کی کمی کو جان نہ لیں۔ یہ جاننے کے لئے کہ مہمان کا ردِعمل کیسا ہے وہ عجیب نظروں سے مہمان کو دیکھے گا۔ ہو سکتا ہے کہ چہرے پر ہاتھ رکھ لے اور انگلیوں کے درمیان سے دیکھے۔ منہ چھپانے سے سمجھتے ہیں کہ وہ خود بھی چھپ گئے ہیں اور اُن کی خامیاں بھی۔ اب مہمان پوچھیں گے کہ آپ کا نام کیا ہے؟ اس کو ڈر ہوتا ہے کہ کوئی غلطی نہ ہو جائے تو ماں کی طرف دیکھیں گے کہ وہی جواب دے۔ اگر ماں جواب نہ دے یا اصرار کرے کہ خود بتاؤ تو یہ ماں کے ساتھ لگنا شروع ہو جائیں گے کہ جیسے چھپنا چاہ رہا ہو۔

ذرا بڑے ہوتے ہیں تو یہ بہت شکی مزاج ہو جاتے ہیں۔ اپنے قریبی لوگوں کو آپس میں باتیں کرتا دیکھ کر ان کو شک ہونے لگتا ہے کہ اُس کے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔ جوانی تک یہ شرمیلے رہتے ہیں۔ اپنی معاشرتی روابط کی کمی کو تعلیم پر زور لگا دیتے ہیں۔ تقریبات میں جانے سے بچتے ہیں لیکن اگر جانا پڑ بھی جائے تو خاموش رہتے ہیں۔ سوسائٹی سے بالکل کٹ کر اپنے خاندان میں ہی پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ ہومیوپیتھک لٹریچر میں ان کے کے لئے علامت (Rubric) ملتی ہے: اجنبیوں سے خوف اور اپنوں میں رہنا پسند۔ انہیں، اِس لئے، دوست اور اپنے خاندان کی بہت فکر رہتی ہے اور اُن کو کھو دینے کا وہم، ڈر، خوف اور فوبیا ہو جاتا ہے۔

جسمانی طور پر ان کے تولیدی (جنسی) اعضاء کی نشو و نما میں خلل پڑنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اگر مریضہ بچی ہے تو امکان ہے کہ بڑی ہونے پر اُس کی بچہ دانی / رِحم چھوٹے سائز کا رہ جائے۔ اگر بچہ ہے تو اُس کے پرائیویٹ اعضاء ڈھیلے یا چھوٹے رہ جانے کا امکان ہوتا ہے۔ پیٹ بڑا ہونے اور باقی اعضاء نسبتاً کمزور رہنے اور جِلد میں جھریاں پڑنے کا رجحان ہوتا ہے۔

سب سے اہم ترین مسئلہ ان بچوں کے غدود بالخصوص ٹانسلز سوج جانے کا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ آئے دن بیمار رہنے لگتا ہے کیونکہ خوراک باقاعدہ نہیں لی جا سکتی۔ ٹانسلز اور ایڈینائیڈز کے سوجے رہنے کی وجہ سے مجبوراً منہ سے سانس لینا پڑتی ہے جس سے چہرہ کی ساخت و بناوٹ میں بھی خرابی ہو جاتی ہے۔ جسم کو آکسیجن صحیح نہیں پہنچ پاتی اور رات کی نیند متاثر ہو جاتی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہے یا بار بار انٹی بائیوٹیکس دینی پڑیں تو جسامت اور قد میں بھی رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ چہرے پر بچوں والی مخصوص رونق نہیں آ پاتی۔ اگر صحیح علاج نہ ہو پائے تو بچے کے چہرے سے بھی دماغی کمزوری اور نادانی جھلکنے لگتی ہے۔

اس طرح کے بچوں اور بڑوں کو پھل فروٹ اور میٹھی چیزیں کھانے سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ ان کو بے شمار قسم کے وہم، خوب اور فوبیا ہو جاتے ہیں۔ مثلاً اندھیرے، اکیلا رہنے، گھر میں اکیلا ہونے، جن بھوت وغیرہ سے ڈرتے ہیں۔

حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ، لاہور پاکستان
۔ فون +92 300 2000210
https://kaisrani.com/%D8%A8%DA%86%D9%88%DA%BA-%D8%AF%DB%8C%D8%B1-%DA%86%D9%84%D9%86%D8%A7-%DB%81%D9%88%D9%85%DB%8C%D9%88%D9%BE%DB%8C%D8%AA%DA%BE%DA%A9-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC-%D9%82%DB%8C%D8%B5%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C/

بچوں کے ابتدائی چند سال ہی اُن کے مستقبل کی بنیاد ہوتے ہیں۔ والدین کو چاہئے کہ اُن کے اندر ظاہر ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھیں؛ اُن کے

Address

Bahria Town
Lahore
53720

Opening Hours

Monday 17:00 - 21:00
Tuesday 18:00 - 20:00
Wednesday 18:00 - 20:00
Thursday 18:00 - 20:00
Friday 18:00 - 20:00

Telephone

+923002000210

Products

Allergy treatment
Stomach disorder
Psychotherapy
Counselling
Homeopathic Consultancy

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hussain Kaisrani - Psychotherapist & Homeopathic Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hussain Kaisrani - Psychotherapist & Homeopathic Consultant:

Videos

Our Story

Hussain Kaisrani (aka Ahmad Hussain) , The Chief consultant at HOMEOPATHIC Consultancy, Lahore, is highly educated, experienced, capable, rational, scholarly, writer, psychotherapist and blogger. – kaisrani.blogspot.com and hkaisrani.blogspot.com Hussain kaisrani belongs to the progeny of noble family of Taunsa Sharif. His father Allama Arshad (MA Arabic & Islamic Studies, Fazil Darse Nizami, Fazil Farsi) is a renowned scholar, khateeb and teacher whose students are great in number. Since his childhood, Hussain Kaisrani had started learning religion, its laws and Persian language from his father. He has done his Masters in Philosophy, Urdu Language & Literature, Political Science and Persian Language & Literature from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic Medical College, Lahore (No. 163N/LR/99-2000) and is a registered Homeopathic practitioner (No. 129825) from The National Council of Homeopathy, Islamabad, Pakistan. He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and Printing Company since 1992. Mr. Hussain went to the UK for higher education and done his MS from the University of Wales, UK (No.00000779). He completed his dissertation under supervision of Prof Dr Abhijit Ganguli at British Institute (BITE) Ramford Road, London, UK. (No. 41280) During his stay in the UK (2010-2011) and visiting Norway, Sweden, France he got opportunity to learn from the world renowned homeopathic writers and practitioners. He also attended a short course on Homeopathic Philosophy in London (No. Ph-04753) to enhance his understanding about homeopathy. Besides this course, he also attended many international level seminars and workshops in the UK. Mr. Husain Kaisrani is highly influenced by the work, thoughts and treatment of George Vithoulkas, the founder of International Academy of Classical Homeopathy, Athens, Greece. He attended a course of advance classical homeopathy (2011-13). Mr. Kaisrani has benefited from the knowledge and wisdom of classical homeopathic practitioners who has been treating patients in UK, USA, Norway and Pakistan. This is helping him to treat his patients as per international standards of classical homeopathy. His establishment is registered and approved by the Punjab Healthcare Commission, Govt. of Punjab (No. R-31768) He has been living in Bahria Town Lahore, Pakistan and providing classical homeopathy consultancy in Lahore, Pakistan since 2006. His contact details are as follows: Hussain Kaisrani DHMS, MS ST (University of Wales, UK), MBA (Marketing & Management, The International University TIU), MA (Philosophy, Urdu, Persian and Political Science) Chief Consultant & Director HOMEOPATHIC Consultancy, Lahore – 53720 PAKISTAN Email: [email protected] Phone: (0092) 03002000210 Websites: www.kaisrani.com; Facebook: fb.com/hussain.kaisrani

Nearby health & beauty businesses


Other Lahore health & beauty businesses

Show All

Comments

میرے سیدہے گٹھنے میں چر چر کی آواز آتی کوئ درد بھی نہیں ہے، عمر 39 ، برائے مہربانی کوئ علاج یا ورزش ھومیو حضرات بتائیں۔۔
1 right kidney mein 3 stone hain 24 mm ki .. any solution?
Sataphisagery Q acid.phos Q اس میڈیسن کیسے ورق کرتی ہے
Sataphisagery Q acid.phos Q
Kindly dubly patly logon k healthy hony k liye kuvh suggest kr dain
Asalam o alaikum Mjy ksi ne rcmnd kia hy cineria maritima schwabe eye drops with alcohol for eyesight.mene ly lia hy pr mjy smj ni a rhi k where is its expiry date?+ What is lot number mentioned on it?
How to reduce belly size?or how to control it?