11/09/2026
بیٹی زِحمت نہیں رحمت ہوتی ہے۔۔۔۔۔!
الحمدللہ آئرہ فاطمہ ایک سال کی ہوگئی ہیں، مُجھے اب بھی یاد ہے کہ جب بچے کی جنس کی تصدیق ایک بیٹی سے ہوئی تو میری بیوی تھوڑا سا گھبرائی ہوئی تھیں کہ شاید میں بھی اس پر افسردہ ہوں کہ میرے ہاں پہلا بیٹا کیوں نہیں ہوا؛ کیوں کہ معاشرتی لحاظ سے تقریباً اکثر لوگ بیٹے کے پیدا ہونے پر خوشیاں مناتے ہیں کہ ہمارا وارث آگیا ہے، ہمارا خاندان بڑھے گا، باپ کا سہارا بنے گا۔۔۔بلا بلا؛ مگر بیٹی کی پیدائش پر خوشی کی بجائے ایسا ماحول بنا ہوتا ہے جیسے ناصر کاظمی کے مُطابق :
ہمارے کمرے میں ناصر
اُداسی بال کھولے سو رہی ہے
مگر مُجھے جیسے بیٹی کو نوید سُنائی گئی، اُسی وقت اللہ سبحان و تعالیٰ کا شُکر ادا کیا، خداوندِ باری تعالیٰ کی عطاء کردہ نعمت پر تمام رشتہ داروں میں خوشی کے طور پر مٹھائی تقسیم کی۔
حالاں کہ اس وقت میں ایم بی بی ایس کے تیسرے سال میں تھا، پڑھائی کے علاوہ اس وقت مالی طور پر میں والدین پر مُنحصِر تھا، لو
لیکن اللہ پر بھروسہ بڑا پختہ تھا کہ :
“جو ذات لوتھڑے سے انسان بنانے پر قادر ہے وہی رزق کے ذرائع بھی خود نکال کر اس انسان کو پروان چڑھانے پر بھی مکمل قاد ہے۔”
میں اس نظریے کا قائل ہوں کہ رزق کے تمام ذرائع اللہ سبحان و تعالیٰ کے مُحتاج ہیں نا کہ اللہ ان ذرائع کا، تو پھر کیوں نا اُس بادشاہ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کیا جائے جو ان سارے وسائل و ذرائع پر قدرت رکھنے والا ہے۔ لیکن اس تعلق کے ساتھ وسائل و ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی طرف سے کوشش ضرور کرنی چاہیے اور ساتھ یقین یہ ہو کہ اللہ ضرور عطاء کرے گا مگر اپنے مقررہ وقت پر۔
پس اسی نظریے پر پُختہ رہ کر اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ مالی طور پر بھی خود کو مُستحکم کرنے کےلیے مختلف پروجیکٹس پر کام کرتا رہا۔ آئرہ کے پیدا ہونے کے تقریباً ایک ہفتے بعد میں واپس اپنی پڑھائی کے سلسلے میں چلا گیا تھا پھر وہی وقت کا مقابل کرنا، اللہ سے اپنا تعلق مزید مضبوط کرتے ہوئے یقین کے ساتھ پڑھائی اور کام دونوں کو جاری رکھا۔ یہ وقت میرے لیے مشکل تھا مگر ناممکن نہیں کیوں کہ میرا اللہ پر یقین اتنا پُختہ تھا کہ میں جس کام کا ارداہ کرتا پس اُس میں گھُس جاتا اور یہ کہتا کہ:
“اے اللہ! اب اس کے نتیجے سے میں بری الذمہ ہوں مجھے جتنی توفیق دی میں نے کوشش کی اب تیرے حوالے۔۔۔۔”
پس پھر نتائج جب اللہ کے حوالے کردیے جائیں تو پھر وہ کوئی میڈیکل کی مُشکل سے مشکل پڑھائی ہو، مالی استحکام کی کوششیں ہوں یا کوئی بھی خواہشیں وہ ضرور انسان کی بھلائی میں ثابت ہوتی ہیں۔
ایم بی بی ایس کا تیسرا سال اچھے نمبروں سے پاس ہوا، مالی طور پر اللہ نے اتنا عطاء کیا کہ اس عُمر میں مشکل پڑھائی کے ساتھ ساتھ رزلٹ کی خوشی سے بھی بڑی خوشی یعنی عُمرے کی سعادت نصیب ہوئی اور وہ بھی اپنی چھوٹی سی فیملی کے ساتھ۔ اللہ سبحان و تعالیٰ نے میری اس خواہش کو جو کہ میں نے شادی سے پہلے دل میں سما کے رکھی ہوئی تھی کہ میں نکاح کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ عُمرہ کروں گا اس کے بعد پھر کہیں گھومنے جاؤں گا عُمرے سے پہلے نہیں-
اب شادی کے ایک سال دو مہینے لگاتار اللہ سے یقین کے ساتھ دُعا کی شاید اُس وقت تاخیر تھی لیکن مصلِحت کے ساتھ وقت ضرور مقرر تھا۔ شاید پہلے ہم اکٹھے عُمرہ کرت ہوئے بہت خوش ہوتے لیکن عُمرے کے دوران اپنی آئرہ کو اُٹھائے طواف کرنے، پھر صفا مروہ وغیرہ، کرنے سے ہماری خوشیوں کے ساتھ ساتھ اللہ پر توکل اور بھی بڑھ گیا کہ یقیناً وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ جو بھی دیکھتا بہت خوش ہوتا پیار دیتا کہ اتنی چھوٹی بچی ہے کتنے اچھے نصیب ہیں کہ عُمرہ کی سعادت اس عُمر میں نصیب ہوئی ہے۔
ہم آج بھی میاں بیوی اکثر بیٹھ کے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ شاید ہمارے گھر میں اتنی رحمت اور خوشیوں کی ایک وجہ آئرہ ہے کہ جس کے پیدا ہونے پر ہم نے دلی طور پر اللہ کی رضا پر شُکر ادا کیا-
آئرہ ماشاءاللہ سے اب ایک سال کی ہوگئی ہیں اور مزے کی بات کہ سب سے پہلے “بابا” کا لفظ سیکھی ہیں، کیوں کہ بابا اُن سے پیار ہی اتنا کرتا ہے اور وہ بابا سے اور بھی زیادہ پیار کرتی ہیں۔
ہمارے مُعاشرے میں بیٹیوں کو رحمت کی بجائے زِحمت سمجھا جاتا ہے حالاں کہ اسلام نے عورت کو بہت عزت بخشی ہے، کوشش کریں کہ مُعاشرے کی اس ناسور رسم اور نظریے کی نفی کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں سے بے حد پیار کریں، ان کے پیدا ہونے پر اللہ کا شُکر ادا کریں اور ہمیشہ بیٹیوں سے پیار اور احترام کا رشتہ رکھیں۔ آپ یہ محسوس کریں گے :
“کہ بیٹی ہر لحاظ سے واقعی زحمت نہیں رِحمت ہوتی ہے۔ “
تحریر: شعیب ملک
゚viralシ