Dr. Muhammad Riaz

Website

Dr. Muhammad Riaz Dedicated to Health Education, Welfare Projects & Character Building through authentic Islamic guidance.

Quran Therapist | Islamic Psychotherapist | Tibb-e-Nabawi Consultant | Hijama Practitioner............

08/10/2026

دنیا بھر کے حفاظِ کرام کے لیے ایک منفرد، منظم اور بالکل مفت عالمی قرآنی پروگرام۔ 🌍

اسلامک روٹس انٹرنیشنل کے اس پروگرام میں آپ ہر ہفتے قرآنِ پاک کے ایک پارے کا آن لائن تحریری MCQs امتحان دے سکتے ہیں—وہ بھی اپنے گھر، مدرسے، دفتر یا دنیا کے کسی بھی حصے سے۔

📝 گوگل فارم کے ذریعے آن لائن امتحان
📖 ہر ہفتے ایک نیا پارہ
🌍 دنیا بھر کے حفاظ و حافظات کے لیے
💯 بالکل مفت، فی سبیل اللہ
⚡ اپنے حفظ کا جائزہ اور مزید پختگی کا موقع

الحمدللہ، دنیا کے مختلف حصوں سے حفاظِ کرام اس قرآنی سلسلے میں شریک ہو کر اپنے حفظ کا جائزہ لے رہے ہیں اور قرآنِ کریم کو مزید پختہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شاید آپ کی ایک توجہ کسی حافظ کو اپنے حفظ کا دوبارہ جائزہ لینے پر آمادہ کر دے… اور یہی توجہ کسی کے قرآن کو مزید مضبوط کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ 🤍

اس لیے اس دعوت کو صرف اپنے تک محدود نہ رکھیے—کسی حافظِ قرآن تک ضرور پہنچائیے۔
📲 اس عالمی قرآنی پروگرام کا حصہ بننے اور تمام اپڈیٹس حاصل کرنے کے لیے اسلامک روٹس انٹرنیشنل کا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں۔

Islamic Roots International | Satellite Town, Rawalpindi

📝 رجسٹریشن کیلئے۔
📞 واٹس ایپ رابطہ:
0300-5208331 | 0333-5208331

29/09/2026

دل کی حفاظت کا وہ راز جو ہر شخص کو جاننا چاہیے ❤️ | طبِ نبوی اور سائنسی تحقیق

❤️ آپ اپنے دل کی حفاظت کے لیے آج کیا کر رہے ہیں؟
دل ہمارے جسم کا ایک نہایت اہم عضو ہے، لیکن اکثر ہم اس کی صحت پر اُس وقت توجہ دیتے ہیں جب مسئلہ پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔
World Heart Day کے موقع پر ڈاکٹر محمد ریاض کی خصوصی گفتگو میں جانیے:
دل کی صحت کے لیے اہم احتیاطیں، روزمرہ زندگی میں کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے، اور طبِ نبوی اور سائنسی تحقیق اس موضوع کو کس طرح دیکھتی ہیں۔
🎥 ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں۔
❤️ اپنے والدین، دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ Share کریں تاکہ دل کی صحت سے متعلق یہ آگاہی زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اپنی صحت سے متعلق کسی خاص مسئلے یا علاج کے لیے مستند معالج سے ذاتی طبی مشورہ ضرور لیں۔
#صحت

جب انسان اپنی ہی حقیقت پر شک کرنے لگےڈاکٹر محمد ریاض ریکی ماسٹر ،قران تھراپسٹ،ہربلسٹ،اسلامک سائیکو تھراپسٹ گیس لائٹنگ کے...
25/09/2026

جب انسان اپنی ہی حقیقت پر شک کرنے لگے
ڈاکٹر محمد ریاض
ریکی ماسٹر ،قران تھراپسٹ،ہربلسٹ،اسلامک سائیکو تھراپسٹ

گیس لائٹنگ کے رویّوں اور زندگی کے اہم فیصلوں پر اثرات

انسان کی سب سے بڑی طاقت صرف اس کی جسمانی قوت، ذہانت یا دولت نہیں؛ بلکہ اپنی سمجھ، مشاہدے، یادداشت اور فیصلے پر اعتماد بھی اس کی بہت بڑی طاقت ہے۔ جب کسی شخص کو مسلسل یہ باور کروایا جائے کہ وہ غلط سمجھتا ہے، باتیں بھول جاتا ہے، ضرورت سے زیادہ حساس ہے یا ہر معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، تو رفتہ رفتہ اس کا اعتماد دوسروں سے پہلے اپنے آپ پر سے اٹھنے لگتا ہے۔

نفسیات میں اس مسلسل ذہنی manipulation کو گیس لائٹنگ کہا جاتا ہے۔ اس میں ایک شخص دوسرے کے مشاہدے، یادداشت، احساسات اور حقیقت کو بار بار جھٹلاتا، بدلتا یا معمولی ثابت کرتا ہے تاکہ وہ اپنی سمجھ پر شک کرنے لگے۔ یہ رویّہ جذباتی بدسلوکی اور طاقت و اختیار حاصل کرنے کا ایک طریقہ بن سکتا ہے۔

البتہ ہر اختلاف، بھول یا غلط فہمی کو گیس لائٹنگ نہیں کہنا چاہیے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حقیقت سے انکار، الزام، تحقیر اور ذہنی الجھن پیدا کرنے کا رویّہ مسلسل ایک نمونے کی صورت اختیار کرلے۔

گیس لائٹنگ کس طرح کی جاتی ہے؟

ایسا شخص عموماً براہِ راست یہ نہیں کہتا کہ وہ آپ کے ذہن کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ وہ چھوٹے چھوٹے جملوں سے آپ کا اعتماد کمزور کرتا ہے، مثلاً:

’’میں نے ایسا کبھی کہا ہی نہیں۔‘‘

’’تمہیں باتیں یاد نہیں رہتیں۔‘‘

’’تم ہر بات کا غلط مطلب نکالتے ہو۔‘‘

’’تم بہت زیادہ حساس ہو۔‘‘

’’یہ سب تمہارا وہم ہے۔‘‘

’’سب لوگ تمہیں ہی غلط سمجھتے ہیں۔‘‘

’’تمہارے فیصلے کبھی درست نہیں ہوتے۔‘‘

’’اگر تم نے مجھے مجبور نہ کیا ہوتا تو میں ایسا نہ کرتا۔‘‘

’’تمہیں کوئی بات سمجھانے کا فائدہ ہی نہیں۔‘‘

’’میں تو مذاق کر رہا تھا، تم نے مسئلہ بنا دیا۔‘‘

کبھی وہ اپنے وعدے سے انکار کرتا ہے، کبھی اپنی غلطی آپ کے سر ڈال دیتا ہے، کبھی آپ کے احساسات کو غیر ضروری قرار دیتا ہے اور کبھی دوسروں کے سامنے آپ کو کم عقل، بھلکڑ یا جذباتی ثابت کرتا ہے۔ مسلسل انکار، ذمہ داری منتقل کرنا، احساسات کو معمولی بنانا اور پچھلی بات یا وعدے سے مکر جانا جذباتی بدسلوکی کی اہم علامتیں ہوسکتی ہیں۔

اس سوچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے رویّے

1۔ اپنی یادداشت پر شک کرنا

متاثرہ شخص سوچنے لگتا ہے:

’’شاید مجھے واقعی بات درست یاد نہیں۔‘‘

وہ واضح واقعے کے بعد بھی یقین سے بات نہیں کرپاتا۔ اسے تاریخ، گفتگو، وعدے اور اپنے مشاہدے کی تصدیق کے لیے بار بار دوسروں کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔

2۔ ہر بات پر معذرت کرنا

وہ اپنی غلطی نہ ہونے کے باوجود معافی مانگتا ہے، کیونکہ اسے تعلق خراب ہونے، غصہ برداشت کرنے یا مزید الزام سننے کا خوف ہوتا ہے۔ رفتہ رفتہ ’’معاف کیجیے‘‘ اس کا مستقل دفاعی جملہ بن جاتا ہے۔

3۔ حد سے زیادہ وضاحتیں دینا

وہ معمولی فیصلوں کی بھی طویل وضاحت پیش کرتا ہے تاکہ کوئی اسے غلط ثابت نہ کرسکے۔ وہ گفتگو سے پہلے اپنے دلائل تیار کرتا اور بعد میں سوچتا رہتا ہے کہ شاید اسے مزید وضاحت دینی چاہیے تھی۔

4۔ فیصلہ کرنے سے گھبرانا

لباس، خریداری، سفر یا ملاقات جیسے چھوٹے معاملات بھی دشوار محسوس ہونے لگتے ہیں۔ شخص سوچتا ہے:

’’اگر میرا فیصلہ غلط ہوگیا تو؟‘‘

جب چھوٹے فیصلوں پر اعتماد ختم ہوجائے تو شادی، تعلیم، ملازمت، کاروبار اور سرمایہ کاری جیسے بڑے فیصلے مزید مشکل ہوجاتے ہیں۔

5۔ ہر وقت دوسروں کی منظوری چاہنا

متاثرہ شخص اپنی رائے پیش کرنے سے پہلے پوچھتا ہے:

’’آپ بتائیں، میں درست سوچ رہا ہوں یا نہیں؟‘‘

وہ اپنے ضمیر اور مشاہدے کے بجائے دوسرے شخص کے ردعمل کو سچائی کا پیمانہ بنانے لگتا ہے۔

6۔ خاموشی اور خود کو الگ کرلینا

جب ہر بات کو غلط ثابت کیا جائے تو انسان سوال کرنا، اختلاف کرنا اور اپنے حقوق بیان کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ آخرکار اسے ہی قصوروار ٹھہرایا جائے گا۔

7۔ لوگوں سے کٹ جانا

وہ دوستوں، رشتہ داروں اور قابلِ اعتماد افراد سے ملنا کم کردیتا ہے؛ کبھی شرمندگی کی وجہ سے اور کبھی اس لیے کہ اسے بتایا جاتا ہے:

’’یہ لوگ تمہیں ہمارے خلاف کررہے ہیں۔‘‘

تنہائی بڑھنے سے اسے حقیقت جانچنے کے متبادل ذرائع بھی میسر نہیں رہتے۔ بدسلوکی میں خاندان اور دوستوں سے الگ کرنا بھی کنٹرول کی ایک اہم علامت ہوسکتا ہے۔

8۔ مسلسل خوف اور چوکنا رہنا

وہ گھر، دفتر یا مجلس میں ہر لفظ سوچ کر بولتا ہے۔ چہرے کے تاثرات اور آواز کے اتار چڑھاؤ سے اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے کہ کہیں سامنے والا ناراض تو نہیں ہونے والا۔ ذہن مسلسل خطرہ تلاش کرنے میں مصروف رہتا ہے۔

9۔ اپنی کامیابیوں کو معمولی سمجھنا

جب صلاحیتوں کی مسلسل نفی کی جائے تو قابل انسان بھی اپنی کامیابی کو اتفاق سمجھنے لگتا ہے۔ تعریف ملنے پر خوش ہونے کے بجائے سوچتا ہے کہ شاید لوگ محض رسمی بات کررہے ہیں۔

10۔ اپنی کمزوریوں کو بڑھا چڑھا کر دیکھنا

ایک معمولی بھول اسے اپنی نااہلی کا ثبوت محسوس ہوتی ہے۔ اس کے برعکس سامنے والے کی بڑی غلطی بھی اسے معمولی نظر آنے لگتی ہے، کیونکہ اسے بار بار یہی زاویہ دکھایا گیا ہوتا ہے۔

11۔ ذمہ داری سے دست بردار ہوجانا

بار بار ناکام، ناسمجھ یا غیر ذمہ دار کہلانے کے بعد انسان کوشش کرنا چھوڑ سکتا ہے۔ وہ کہتا ہے:

’’مجھ سے تو ویسے بھی کچھ درست نہیں ہوتا۔‘‘

یہ کیفیت انسان کو خود مختاری سے محروم کرکے دوسروں پر غیر ضروری انحصار کی طرف لے جاتی ہے۔

12۔ غصہ اندر دبانا یا اچانک پھٹ پڑنا

مسلسل تحقیر برداشت کرنے والا شخص کبھی بالکل خاموش ہوجاتا ہے اور کبھی جمع شدہ دباؤ کے نتیجے میں شدید ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ بعد میں اسی ردعمل کو اس کے خلاف استعمال کرکے کہا جاتا ہے:

’’دیکھا! اصل مسئلہ تمہارے اندر ہے۔‘‘

13۔ جسمانی اور ذہنی تھکن

مسلسل الجھن، خوف اور ذہنی دباؤ نیند، توجہ، کام کی رغبت اور روزمرہ توانائی کو متاثر کرسکتا ہے۔ متاثرہ شخص خود کو بے چین، منتشر، اداس یا تنہا محسوس کرسکتا ہے۔ کام کی جگہ پر مسلسل ہراسانی خود اعتمادی اور کام کرنے کی تحریک بھی کم کرسکتی ہے۔

گھر اور خاندانی ماحول پر اثرات

گھر وہ جگہ ہونی چاہیے جہاں انسان خود کو محفوظ سمجھے۔ لیکن جب گھر ہی میں کسی فرد کی رائے، احساسات اور یادداشت کو مسلسل جھٹلایا جائے تو گھر سکون کے بجائے امتحان بن جاتا ہے۔

متاثرہ فرد:

اپنے شریکِ حیات یا گھر کے بااثر فرد سے اجازت لیے بغیر معمولی فیصلہ بھی نہیں کرتا۔

اپنی ضروریات، بیماری یا تکلیف بیان کرنے سے گھبراتا ہے۔

مالی معاملات کی معلومات سے محروم رہ سکتا ہے۔

بچوں کے سامنے اپنی رائے دینے سے کتراتا ہے۔

خاندان کے دوسرے افراد سے باتیں چھپاتا ہے۔

ہر تنازعے کا ذمہ دار خود کو سمجھنے لگتا ہے۔

اپنی جائز حدود قائم نہیں کرپاتا۔

گھر چھوڑنے یا مدد لینے کا خیال آنے پر خود کو ہی غلط سمجھتا ہے۔

اس ماحول میں بچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ وہ سیکھ سکتے ہیں کہ طاقت ور فرد کی بات ہی حقیقت ہے، کمزور کو خاموش رہنا چاہیے، غلطی ماننے کے بجائے الزام منتقل کرنا درست ہے اور محبت کے نام پر تحقیر برداشت کی جاسکتی ہے۔ گھریلو بدسلوکی کو دیکھنا بچوں پر بھی سنجیدہ اثرات ڈال سکتا ہے۔

ازدواجی اور دیگر تعلقات پر اثرات

گیس لائٹنگ اعتماد کو آہستہ آہستہ کھا جاتی ہے۔ بظاہر تعلق قائم رہتا ہے لیکن اس میں برابری، کھلا مکالمہ اور جذباتی تحفظ ختم ہونے لگتا ہے۔

متاثرہ شخص:

اپنی پسند اور ناپسند واضح نہیں کرپاتا۔

ہر اختلاف سے پہلے ہی خوف زدہ ہوجاتا ہے۔

حدود قائم کرنے کو بدتمیزی سمجھنے لگتا ہے۔

سامنے والے کی ناراضی سے بچنے کے لیے اپنے اصول بدلتا رہتا ہے۔

دوستوں اور رشتہ داروں سے فاصلے بڑھاتا ہے۔

بدسلوکی کے بعد معمولی محبت کو بڑی مہربانی سمجھتا ہے۔

بار بار سوچتا ہے کہ اگر وہ خود کو مزید بدل لے تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔

تعلق ختم کرنے یا مدد مانگنے میں شدید تذبذب محسوس کرتا ہے۔

محبت انسان کو اپنی شناخت سے محروم نہیں کرتی۔ جس تعلق میں ایک فرد کو سکون قائم رکھنے کے لیے مسلسل اپنے احساسات، مشاہدے اور عزتِ نفس کی قربانی دینا پڑے، وہاں تعلق کی صحت کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔

کاروبار اور پیشہ ورانہ زندگی پر اثرات

گیس لائٹنگ صرف ذاتی تعلقات تک محدود نہیں رہتی۔ کاروباری شراکت، انتظامیہ، ملازمت اور اداروں میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔

مثلاً:

طے شدہ بات یا معاہدے سے مکر جانا۔

ناکامی کا تمام الزام ایک فرد پر ڈال دینا۔

اس کے کامیاب کام کا کریڈٹ خود لے لینا۔

میٹنگ میں اس کی بات رد کرکے بعد میں وہی تجویز اپنے نام سے پیش کرنا۔

ضروری معلومات چھپا کر اسے نااہل ثابت کرنا۔

ہر سوال کو بے اعتمادی یا بدتمیزی قرار دینا۔

حسابات دکھانے سے انکار کرکے کہنا کہ ’’تمہیں کاروبار کی سمجھ نہیں۔‘‘

زبانی فیصلوں کو بعد میں بدل دینا۔

ملازمین یا شراکت داروں کے سامنے اس کی ساکھ خراب کرنا۔

اس کے نتیجے میں قابل شخص بھی:

نئے منصوبے پیش کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

میٹنگ میں خاموش رہتا ہے۔

خطرے کی درست نشان دہی نہیں کرتا۔

غلط معاہدے پر دستخط کرسکتا ہے۔

مالی بے ضابطگی پر سوال نہیں اٹھاتا۔

ضرورت سے کم قیمت پر اپنی خدمات فراہم کرتا ہے۔

ہر فیصلہ کسی غالب فرد کے حوالے کردیتا ہے۔

نقصان کے باوجود کاروباری شراکت ختم کرنے سے ڈرتا ہے۔

مالی معاملات پر اثرات

جب انسان کو اپنی سمجھ پر اعتماد نہ رہے تو وہ مالی طور پر بھی آسانی سے قابو میں آسکتا ہے۔ وہ اپنے بینک اکاؤنٹ، جائیداد، قرض، خریداری یا سرمایہ کاری کے بارے میں آزادانہ فیصلہ نہیں کرپاتا۔

ممکنہ نتائج یہ ہوسکتے ہیں:

دستاویز پڑھے بغیر دستخط کرنا۔

نقصان دہ قرض یا سرمایہ کاری قبول کرلینا۔

مالی حساب مانگنے پر شرمندگی محسوس کرنا۔

اپنے ہی پیسے کے استعمال کے لیے اجازت لینا۔

کاروباری خسارے کا الزام خود پر قبول کرنا۔

ملکیت یا وراثت کے حق سے دست بردار ہوجانا۔

مالی بدعنوانی کو اپنی غلط فہمی سمجھ کر نظرانداز کرنا۔

پیسے یا وسائل تک رسائی کو کنٹرول کرنا، کسی کو کام سے روکنا یا اسے قرض میں پھنسانا معاشی بدسلوکی کی شکلیں ہوسکتی ہیں۔

تعلیم اور عملی صلاحیتوں پر اثرات

ایک باصلاحیت طالب علم، استاد یا ملازم بھی مسلسل تحقیر کے بعد اپنی قابلیت پر شک کرنے لگتا ہے۔ وہ امتحان، انٹرویو، تقریر یا نئی ذمہ داری سے دور بھاگ سکتا ہے۔ غلطی سے سیکھنے کے بجائے غلطی کو اپنی پوری شخصیت کی ناکامی سمجھ لیتا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ وہ:

سوال نہیں پوچھتا۔

نئے مواقع قبول نہیں کرتا۔

اپنی اہلیت سے کم مقام پر رہتا ہے۔

کام بار بار چیک کرتا ہے۔

دوسروں کی منظوری کے بغیر کام مکمل نہیں کرتا۔

تنقید کے خوف سے تخلیقی کوشش چھوڑ دیتا ہے۔

اہم فیصلے کس طرح متاثر ہوتے ہیں؟

گیس لائٹنگ کا سب سے خطرناک اثر یہ ہے کہ انسان فیصلہ کرتے وقت حقیقت کے بجائے دوسرے شخص کے ردعمل کو اہمیت دینے لگتا ہے۔

وہ یہ نہیں سوچتا:

’’میرے لیے کیا درست ہے؟‘‘

بلکہ یہ سوچتا ہے:

’’اگر میں نے یہ فیصلہ کیا تو وہ کیا کہے گا؟‘‘

یوں شادی، طلاق، تعلیم، ملازمت، کاروبار، علاج، رہائش، بچوں کی تربیت، جائیداد اور سرمایہ کاری جیسے فیصلے خوف، جرم کے احساس اور ذہنی دباؤ میں کیے جاتے ہیں۔

ایسا شخص:

ضروری فیصلہ مسلسل مؤخر کرتا ہے۔

واضح ثبوت کے باوجود خطرے کو نظرانداز کرتا ہے۔

غلط فرد پر ضرورت سے زیادہ بھروسا کرتا ہے۔

صحیح مشورہ دینے والوں سے بدگمان ہوجاتا ہے۔

اپنے مفاد کے خلاف فیصلہ کرلیتا ہے۔

دوسروں کو خوش رکھنے کے لیے اپنی ضروریات قربان کردیتا ہے۔

نقصان واضح ہونے کے باوجود پرانے فیصلے سے چمٹا رہتا ہے۔

اپنی اندرونی تنبیہ کو ’’وہم‘‘ سمجھ کر دبا دیتا ہے۔

خود کو محفوظ رکھنے کے عملی طریقے

حقیقت کو تحریری شکل میں محفوظ کریں

اہم واقعات، وعدوں، مالی معاملات، تاریخوں اور فیصلوں کا ریکارڈ رکھیں۔ کاروباری معاملات میں زبانی بات پر انحصار کرنے کے بجائے تحریری معاہدہ، ای میل، رسید اور میٹنگ نوٹس محفوظ کریں۔

اپنے احساسات کو فوراً غلط قرار نہ دیں

احساس ہمیشہ پوری حقیقت کا ثبوت نہیں ہوتا، لیکن وہ اہم اشارہ ضرور ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی بات بار بار آپ کو خوف، الجھن یا بے قدری محسوس کرواتی ہے تو اسے نظرانداز نہ کریں۔

قابلِ اعتماد شخص سے بات کریں

ایسے فرد کا انتخاب کریں جو معاملے کو غیر جانب دار انداز میں سن سکے، آپ پر اپنی مرضی مسلط نہ کرے اور راز داری کا لحاظ رکھے۔ طویل ذہنی دباؤ کی صورت میں مستند ماہرِ نفسیات یا کونسلر سے مشورہ مفید ہوسکتا ہے۔

اپنی حدود واضح کریں

مختصر اور واضح جملے استعمال کریں:

’’مجھے اپنی بات مکمل کرنے دیں۔‘‘

’’میں اس واقعے کو مختلف طرح یاد کرتا/کرتی ہوں۔‘‘

’’تحقیر کے انداز میں گفتگو قبول نہیں۔‘‘

’’اہم فیصلہ تحریری معلومات دیکھنے کے بعد ہوگا۔‘‘

’’میں دباؤ میں آکر ابھی فیصلہ نہیں کروں گا/گی۔‘‘

بڑے فیصلے جلدی میں نہ کریں

جائیداد، نکاح، کاروباری شراکت، قرض، سرمایہ کاری یا ملازمت چھوڑنے جیسے فیصلوں میں آزادانہ قانونی، مالی یا پیشہ ورانہ مشورہ حاصل کریں۔

حفاظت کو پہلی ترجیح دیں

اگر معاملے میں دھمکی، تعاقب، مالی قید، جسمانی تشدد یا بچوں کو نقصان پہنچانے کا خطرہ ہو تو براہِ راست تصادم ہمیشہ محفوظ نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں قابلِ اعتماد خاندان، مقامی مددگار ادارے یا متعلقہ قانونی و حفاظتی خدمات کے تعاون سے محفوظ منصوبہ بنائیں۔

آخری بات

گیس لائٹنگ صرف جھوٹ بولنے کا نام نہیں؛ یہ وہ مسلسل عمل ہے جس میں ایک انسان دوسرے کی حقیقت، اعتماد اور فیصلہ سازی کو کمزور کرکے اس پر اختیار حاصل کرتا ہے۔

اس کا سب سے بڑا نقصان یہ نہیں کہ انسان ایک واقعہ غلط یاد کرنے لگتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی پوری شخصیت، صلاحیت اور فہم پر شک کرنے لگتا ہے۔ پھر وہ گھر میں خاموش، تعلقات میں محتاج، کاروبار میں غیر فیصلہ کن اور زندگی کے اہم موڑ پر دوسروں کا تابع بن جاتا ہے۔

اپنی ہر سوچ کو حتمی سچ سمجھنا دانش مندی نہیں، لیکن اپنی ہر سوچ کو غلط سمجھنا بھی ذہنی آزادی نہیں۔

اپنی یادداشت کو حقائق سے جانچیں، اہم معاملات کو محفوظ کریں، قابلِ اعتماد لوگوں سے مشورہ کریں اور کسی دوسرے انسان کو یہ اختیار نہ دیں کہ وہ آپ کو آپ ہی کی عقل، احساس اور حقیقت سے بے دخل کردے۔

سب سے خطرناک قید وہ ہے جس میں دروازہ کھلا ہو، مگر انسان کو یقین دلادیا جائے کہ وہ باہر نکلنے کے قابل ہی نہیں۔

عم پارے کے متشابھات یہاں سے یاد کریں 👇👇👇https://youtu.be/Icn1Nrh7GPs?si=6wH5QiLoiG-ia3Uyکیا تیسویں سپارے کی ملتی جلتی آی...
24/09/2026

عم پارے کے متشابھات یہاں سے یاد کریں 👇👇👇

https://youtu.be/Icn1Nrh7GPs?si=6wH5QiLoiG-ia3Uy

کیا تیسویں سپارے کی ملتی جلتی آیات حفظ اور دَور کے دوران آپ کو بھی الجھن میں ڈال دیتی ہیں؟

اس خصوصی ویڈیو میں پورے تیسویں سپارے یعنی جزوِ عمّ کے اہم متشابہات کو نہایت آسان، منظم اور تقابلی انداز میں سمجھایا گیا ہے۔ ملتے جلتے الفاظ، آیات کے آغاز، الفاظ کی تبدیلی اور مختلف سورتوں میں آنے والے مشابہ مقامات کو ساتھ رکھ کر واضح کیا گیا ہے، تاکہ فرق ذہن میں مضبوطی سے محفوظ ہوجائے۔

یہ ویڈیو خصوصاً ان افراد کے لیے مفید ہے جو:

• قرآنِ مجید حفظ کر رہے ہیں
• حفظِ قرآن کا دور اور مراجعہ کرتے ہیں
• متشابہ آیات میں بار بار غلطی کرتے ہیں
• تیسویں سپارے کو پختہ کرنا چاہتے ہیں
• طالبات کو متشابہات پڑھانے والی معلمات ہیں
• مقابلۂ حفظ یا زبانی امتحان کی تیاری کررہے ہیں

اس ویڈیو کو صرف ایک مرتبہ دیکھنے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ قرآنِ مجید سامنے رکھ کر ہر متشابہ مقام کو بار بار دہرائیں۔ ان شاء اللہ مسلسل مشق سے آیات کے درمیان فرق واضح ہوگا، حفظ مضبوط ہوگا اور تلاوت کے دوران ہونے والی غلطیوں میں نمایاں کمی آئے گی۔

ویڈیو مکمل دیکھیے، اہم مقامات نوٹ کیجیے اور اپنے حفظِ قرآن کے ساتھیوں، طالبات، معلمات اور حفاظ کے ساتھ ضرور شیئر کیجیے۔ ممکن ہے آپ کا ایک شیئر کسی کے حفظِ قرآن کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن جائے۔

تحقیق و ترتیب: ام حنظلہ
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر محمد ریاض
پیشکش: اسلامک روٹس انٹرنیشنل

چینل کو Subscribe کریں اور قرآنِ مجید، حفظ، تجوید اور متشابہات سے متعلق مزید علمی و تربیتی ویڈیوز کے لیے Notification Bell ضرور دبائیں۔

سردی کے اثرات اور روایتی تدبیرڈاکٹر محمد ریاضریکی ماسٹر، قرآن تھراپسٹ، ہربلسٹ، اسلامک سائیکو تھراپسٹموسم کی شدت، ٹھنڈی غ...
23/09/2026

سردی کے اثرات اور روایتی تدبیر

ڈاکٹر محمد ریاض
ریکی ماسٹر، قرآن تھراپسٹ، ہربلسٹ، اسلامک سائیکو تھراپسٹ

موسم کی شدت، ٹھنڈی غذاؤں کا زیادہ استعمال، جسمانی کمزوری یا مزاج میں سردی کی زیادتی کے باعث بعض افراد میں درج ذیل علامات محسوس ہو سکتی ہیں:

• ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہنا
• معدے میں ٹھنڈک، بھاری پن یا ہاضمے کی سستی
• پٹھوں میں درد، کھچاؤ یا اکڑاؤ
• جسمانی سستی اور کام کاج میں دل نہ لگنا
• چھینکیں، بے چینی اور جسم میں درد
• ہلکا درجۂ حرارت
• پیشاب کا بار بار آنا یا مقدار میں تبدیلی

روایتی نسخہ

ہُوَ الشَّافِی

تج (دارچینی/قرفہ) — 1 تولہ
لونگ — 2 تولہ
مصطگی — نصف تولہ

تیاری کا طریقہ

تج اور لونگ کو الگ الگ باریک پیس لیں۔ مصطگی کو کوٹنے کے بجائے کسی صاف، خشک سطح یا کھرل میں آہستہ آہستہ رگڑ کر باریک سفوف بنائیں۔ تمام اجزا کو اچھی طرح ملا کر کسی صاف، خشک اور ہوا بند شیشی میں محفوظ کر لیں۔

طریقۂ استعمال

چوتھائی چائے کا چمچ صبح اور شام نیم گرم پانی یا ہلکی سبز چائے کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حساس معدے والے افراد اسے کھانے کے بعد استعمال کریں۔

اجزائے نسخہ کا تحقیقی تعارف

تج یا دارچینی میں خوشبودار نباتاتی مرکبات پائے جاتے ہیں اور اسے مختلف روایتی نظامِ طب میں ہاضمے اور جسمانی راحت کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم جدید تحقیق کسی ایک بیماری کے یقینی علاج کے طور پر اس کے اثرات کو ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں کرتی۔

لونگ کا نمایاں قدرتی جزو یوجینول ہے، جس کے اینٹی آکسیڈنٹ، جراثیم مخالف، درد میں کمی اور سوزش کے خلاف ممکنہ اثرات پر تحقیق ہوئی ہے۔

مصطگی، درخت Pistacia lentiscus سے حاصل ہونے والی قدرتی رال ہے۔ اس کے ہاضمے اور بعض معدے کی علامات پر ممکنہ فوائد کا مطالعہ کیا گیا ہے، مگر اسے کسی تشخیص شدہ بیماری کی باقاعدہ طبی دوا کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

اہم طبی احتیاط

یہ ایک روایتی معاون تدبیر ہے، کسی بیماری کی حتمی تشخیص یا یقینی علاج نہیں۔ اگر بار بار پیشاب، پیشاب میں سفیدی یا دھندلا پن، جلن، غیر معمولی پیاس، بخار، کمر یا پہلو میں درد موجود ہو تو شوگر، پیشاب کے انفیکشن یا گردوں کے مسئلے کی جانچ کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ سبز چائے میں موجود کیفین بعض افراد میں پیشاب کی حاجت بڑھا سکتی ہے؛ ایسے افراد اسے نیم گرم پانی کے ساتھ استعمال کریں۔

حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین، بچے، جگر یا گردوں کے مریض، معدے کے السر والے افراد اور خون پتلا کرنے، شوگر یا کسی دائمی مرض کی دوا لینے والے مریض معالج کے مشورے کے بغیر یہ نسخہ استعمال نہ کریں۔ لونگ یا دارچینی کی زیادہ مقدار نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
#دارچینی #لونگ #مصطگی
خالص قدرتی مصنوعات کی دستیابی

تمام قدرتی جڑی بوٹیاں، منتخب دیسی ادویاتی اجزا اور طبِ نبوی ﷺ کی معیاری مصنوعات خالص، تازہ اور احتیاط سے منتخب شدہ صورت میں دستیاب ہیں۔

شفا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے؛ درست تشخیص، مناسب غذا، اعتدال اور ماہر معالج کی رہنمائی علاج کی بنیادی شرائط ہیں۔

موجودہ اختلاف میں ماضی کے زخم نہ کھولیںآپ کا شریکِ حیات، والدین، اولاد یا کوئی قریبی فرد ہمیشہ نیا زخم نہیں دیتا؛ کبھی ا...
22/09/2026

موجودہ اختلاف میں ماضی کے زخم نہ کھولیں

آپ کا شریکِ حیات، والدین، اولاد یا کوئی قریبی فرد ہمیشہ نیا زخم نہیں دیتا؛ کبھی اس کی ایک بات آپ کے اندر موجود کسی پرانے زخم کو جگا دیتی ہے۔

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ:

ایک معمولی سا جملہ…

چند لمحوں کی خاموشی…

کسی وعدے کا بھول جانا…

یا کسی بات سے اختلاف کرنا…

بعض اوقات انسان کو اتنا شدید پریشان کیوں کر دیتا ہے کہ اس کی آنکھیں بھر آتی ہیں، آواز بلند ہو جاتی ہے، دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے یا وہ بالکل خاموش ہو کر تعلق سے پیچھے ہٹ جاتا ہے؟

سوال یہ ہے کہ:

کیا ہمارا ردِعمل صرف آج پیش آنے والی بات کے مطابق ہوتا ہے، یا آج کا واقعہ ماضی کے کسی نامکمل درد کو بھی بیدار کر دیتا ہے؟

نیورو سائیکالوجی کیا بتاتی ہے؟

انسانی دماغ موجودہ واقعے کو ہمیشہ ایک بالکل نئی اور الگ چیز کے طور پر نہیں دیکھتا۔ وہ اسے ماضی کی یادوں، سیکھے ہوئے خدشات اور سابقہ جذباتی تجربات کے ساتھ ملا کر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

جب کوئی موجودہ جملہ، لہجہ یا رویّہ ماضی کے کسی تکلیف دہ تجربے سے مشابہ محسوس ہو تو دماغ کا خطرے کو پہچاننے والا نظام متحرک ہو سکتا ہے۔ اس عمل میں خصوصاً ایمیگڈالا، ہپوکیمپس اور پری فرنٹل کارٹیکس سے متعلق دماغی نظام اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سادہ الفاظ میں:

- ایمیگڈالا ممکنہ خطرے پر فوری جذباتی ردِعمل میں حصہ لیتا ہے۔
- ہپوکیمپس موجودہ واقعے کو سابقہ یادوں اور حالات کے پس منظر سے جوڑتا ہے۔
- پری فرنٹل کارٹیکس صورتِ حال کو سمجھنے، جذبات منظم کرنے اور سوچ سمجھ کر جواب دینے میں مدد دیتا ہے۔

اگر کسی شخص نے بچپن یا گزشتہ تعلقات میں مسلسل بے توجہی، تحقیر، سخت تنقید، عدم تحفظ یا جذباتی محرومی کا سامنا کیا ہو تو بعض موجودہ حالات اس کے لیے معمول سے زیادہ خطرناک محسوس ہو سکتے ہیں۔ تحقیق ابتدائی نامساعد تجربات کو جذباتی نظم اور امیگڈالا–پری فرنٹل نظام کے فرق سے وابستہ کرتی ہے؛ تاہم ہر حساس ردِعمل کو لازماً صدمہ یا ذہنی بیماری قرار دینا درست نہیں۔

یہ رویّہ کیا کہلاتا ہے؟

اس کیفیت کے مختلف پہلوؤں کے لیے نفسیات میں مختلف اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں:

1۔ Emotional Trigger — جذباتی محرک

آج کا کوئی لفظ، لہجہ یا واقعہ ماضی کے درد، خوف یا احساسِ محرومی کو دوبارہ فعال کر دے۔

2۔ Emotional Reactivity — شدید جذباتی ردِعمل

موجودہ واقعے کی شدت سے کہیں زیادہ شدید غصہ، خوف، رنج، خاموشی یا دفاعی رویّہ ظاہر ہونا۔

3۔ Emotional Flooding — جذباتی طغیانی

جذبات اتنے شدید ہو جائیں کہ انسان کی سننے، سمجھنے اور متوازن گفتگو کرنے کی صلاحیت عارضی طور پر کم ہو جائے۔

4۔ Overgeneralization — حد سے زیادہ عمومی نتیجہ نکالنا

ایک موجودہ غلطی کی بنیاد پر کہنا:

“تم ہمیشہ ایسا کرتے ہو۔”

“تم نے کبھی میری قدر نہیں کی۔”

“تمہارے پورے خاندان کا یہی رویّہ ہے۔”

5۔ Kitchen-Sinking — ہر پرانی شکایت ایک ساتھ نکال دینا

ایک موجودہ اختلاف میں گزشتہ کئی برسوں کے واقعات، سابقہ غلطیاں اور غیر متعلقہ شکایات شامل کر دینا۔ یوں ایک قابلِ حل مسئلہ متعدد الزامات کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔

یہ تمام اصطلاحات ایک ہی باقاعدہ تشخیص نہیں ہیں، بلکہ گفتگو اور جذبات کے مختلف غیر مفید نمونوں کو بیان کرتی ہیں۔

ماضی حال پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟

اگر بچپن میں کسی بچے کی بات بار بار نظر انداز کی گئی ہو تو بڑے ہو کر شریکِ حیات کی معمولی مصروفیت بھی اسے یہ پیغام محسوس کرا سکتی ہے:

“میں اہم نہیں ہوں۔”

اگر محبت صرف کامیابی، فرمانبرداری یا سب کو خوش رکھنے کے بدلے ملی ہو تو وہ شخص بالغ ہونے کے بعد بھی ہر تعلق میں خود کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہ سکتا ہے۔

اگر کسی نے طویل عرصے تک تنقید اور تحقیر سنی ہو تو شریکِ حیات کا نرم سا مشورہ بھی اسے اپنی بے قدری محسوس کرا سکتا ہے۔

اگر کسی نے جدائی، بے وفائی یا عدم تحفظ کا تجربہ کیا ہو تو جواب میں معمولی تاخیر بھی اس کے اندر چھوڑ دیے جانے کا خوف جگا سکتی ہے۔

اس وقت انسان صرف سامنے موجود شخص سے گفتگو نہیں کر رہا ہوتا؛ اس کے اندر ماضی کی یادیں، خوف اور نامکمل جذبات بھی بول رہے ہوتے ہیں۔

اصل اختلاف اکثر ظاہری مسئلے سے بڑا ہوتا ہے

بہت سے خاندانی جھگڑے بظاہر وقت، گھر کے کام، بچوں، پیسوں یا موبائل کے استعمال پر ہوتے ہیں، مگر ان کے پیچھے چھپے سوال یہ ہو سکتے ہیں:

“کیا میں آپ کے لیے اہم ہوں؟”

“کیا میری بات سنی جاتی ہے؟”

“کیا میری عزت محفوظ ہے؟”

“اگر میں کمزور پڑ جاؤں تو کیا آپ میرا ساتھ دیں گے؟”

یہ سوال زبان سے کم اور رویّوں سے زیادہ پوچھے جاتے ہیں۔

لیکن ایک اہم حد یاد رکھیے

اپنے زخموں کو پہچاننا شفا کی ابتدا ہے، مگر انہیں ہر غلط رویّے کا جواز بنا لینا شفا نہیں۔

یہ کہنا درست ہو سکتا ہے:

“اس بات نے میرے اندر ایک پرانا درد جگا دیا ہے۔”

لیکن یہ کہنا درست نہیں:

“چونکہ میں زخمی ہوں، اس لیے مجھے چیخنے، تحقیر کرنے، الزام لگانے یا دوسرے کو سزا دینے کا حق ہے۔”

ماضی آپ کے ردِعمل کی وضاحت کر سکتا ہے، لیکن ہر نامناسب رویّے کو درست ثابت نہیں کرتا۔

جذباتی پختگی یہ ہے کہ انسان خود سے کہے:

“میرے ساتھ جو کچھ ہوا، شاید وہ میرے اختیار میں نہیں تھا؛ لیکن اب میں اپنے درد کے ساتھ کیا کرتا ہوں، یہ میری ذمہ داری اور میرا انتخاب ہے۔”

موجودہ اختلاف میں صرف موجودہ مسئلے پر بات کیوں ضروری ہے؟

جب ہم آج کے مسئلے میں دس سال پرانی غلطیاں شامل کر دیتے ہیں تو سامنے والا اصل مسئلے کو سمجھنے کے بجائے اپنے دفاع میں چلا جاتا ہے۔ گفتگو مسئلے کے حل سے ہٹ کر کردار کشی، الزام اور حساب برابر کرنے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

اس کے برعکس، جب گفتگو ایک واضح اور موجودہ مسئلے تک محدود رہے تو دماغ کے لیے خطرے کے احساس سے نکل کر تجزیے، ہمدردی اور مسئلہ حل کرنے کی طرف آنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔

صحت مند گفتگو کا اصول ہے:

ایک وقت میں ایک مسئلہ، ایک واضح مثال اور ایک قابلِ عمل درخواست۔

مثلاً یہ نہ کہیں:

“تم ہمیشہ مجھے نظر انداز کرتے ہو؛ تم نے پانچ سال پہلے بھی یہی کیا تھا۔”

اس کے بجائے کہیں:

“آج جب میں بات کر رہی تھی اور آپ نے موبائل دیکھنا شروع کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ میری بات نہیں سنی گئی۔ کیا ہم دس منٹ موبائل ایک طرف رکھ کر بات کر سکتے ہیں؟”

پہلا جملہ شخصیت پر حملہ کرتا ہے۔

دوسرا جملہ واقعہ، احساس اور ضرورت واضح کرتا ہے۔

اختلاف کے وقت دماغ کو پرسکون کرنے کا عملی طریقہ

1۔ رُک جائیں

شدید غصے یا رنج کی حالت میں فوری فیصلہ، الزام یا پیغام نہ بھیجیں۔ چند لمحوں کا توقف کمزوری نہیں، ذہنی پختگی ہے۔

2۔ اپنے احساس کو نام دیں

خود سے کہیں:

“مجھے غصے کے ساتھ بے قدری بھی محسوس ہو رہی ہے۔”

“مجھے اس وقت چھوڑ دیے جانے کا خوف محسوس ہو رہا ہے۔”

تحقیق کے مطابق جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا بعض حالات میں جذباتی شدت کم کرنے اور دماغ کے تنظیمی حصوں کو فعال کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

3۔ حال اور ماضی میں فرق کریں

اپنے آپ سے پوچھیں:

“اس وقت حقیقتاً کیا ہوا ہے؟”

“میں اس واقعے میں کتنا ردِعمل آج کی بات پر دے رہا ہوں اور کتنا ماضی کے تجربے پر؟”

4۔ صرف ایک مسئلہ منتخب کریں

موجودہ اختلاف کے ساتھ پرانی دس شکایات نہ جوڑیں۔ اگر کوئی پرانا مسئلہ واقعی حل طلب ہے تو اس کے لیے الگ وقت مقرر کریں۔

5۔ الزام کے بجائے کیفیت بیان کریں

“آپ ایسے ہی ہیں” کے بجائے کہیں:

“جب ایسا ہوا تو مجھے یہ محسوس ہوا، اور مجھے آپ سے یہ تعاون چاہیے۔”

6۔ جذباتی طغیانی میں وقفہ لیں

اگر آواز بلند ہونے لگے، جسم کانپے، دل تیز دھڑکے یا ذہن بند محسوس ہو تو باہمی رضامندی سے وقفہ لیں۔ لیکن واضح کریں:

“میں بات چھوڑ نہیں رہا؛ ہم پرسکون ہو کر دوبارہ بات کریں گے۔”

7۔ مرمت کا راستہ کھلا رکھیں

“شاید میں نے آپ کی بات غلط سمجھی۔”

“میرا لہجہ درست نہیں تھا۔”

“آئیے دوبارہ سکون سے بات کرتے ہیں۔”

ایسے مختصر جملے اختلاف کو مقابلے سے تعاون کی طرف لا سکتے ہیں۔

والدین کے لیے ایک اہم پیغام

بچے صرف نصیحت سے جذبات سنبھالنا نہیں سیکھتے؛ وہ بڑوں کا انداز دیکھ کر سیکھتے ہیں۔

اگر گھر میں ہر اختلاف کے دوران پرانی غلطیاں دہرائی جائیں، طعنے دیے جائیں اور شخصیت کو نشانہ بنایا جائے تو بچہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ اختلاف کا مطلب ذلت، خوف اور تعلق کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔

لیکن اگر والدین ایک مسئلے پر پُرسکون گفتگو کریں، غلطی تسلیم کریں، معافی مانگیں اور حل تلاش کریں تو بچہ سیکھتا ہے:

“اختلاف کے باوجود تعلق محفوظ رہ سکتا ہے۔”

ابتدائی نامساعد حالات کا سامنا کرنے والے بچوں میں والدین کی جذباتی رہنمائی ان کے جذبات منظم کرنے کے انداز سے مضبوط تعلق رکھتی ہے۔

یاد رکھیے

ہر اختلاف دشمنی نہیں۔

ہر خاموشی نفرت نہیں۔

ہر مشورہ تحقیر نہیں۔

اور ہر موجودہ تکلیف صرف اس شخص کی پیدا کردہ نہیں ہوتی جو اس وقت آپ کے سامنے کھڑا ہے۔

کبھی کبھی ہمارے آنسو آج کے لیے نہیں ہوتے؛ وہ برسوں پرانے درد کا راستہ تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔

مگر رشتہ اس وقت محفوظ اور مضبوط بنتا ہے جب ہم یہ سمجھیں:

سامنے والا ہمارے ماضی کا مجرم نہیں، اور ہمارا ماضی موجودہ انسان کو سزا دینے کا لائسنس نہیں۔

اپنے زخموں کو پہچانیے، ان کے اثرات کو سمجھیے، ضرورت ہو تو کسی مستند ماہرِ نفسیات سے مدد لیجیے—مگر ہر نئے اختلاف کو پرانی عدالت نہ بنائیے۔

کیونکہ صحت مند تعلق وہ نہیں جس میں کبھی اختلاف نہ ہو؛ صحت مند تعلق وہ ہے جس میں اختلاف کے دوران بھی عزت، انصاف اور جذباتی تحفظ باقی رہے۔

ماضی سے سبق لیجیے، لیکن حال کو ماضی کی سزا مت دیجیے۔

ڈاکٹر محمد ریاض
ریکی ماسٹر، قرآن تھراپسٹ، ہربلسٹ، اسلامک سائیکوتھیراپسٹ

21/09/2026

ڈاکٹر ریاض صاحب کا کراچی دورہ ❤️ | قرآن، صحت اور خدمتِ انسانیت کا پیغام
Description:
کراچی میں ڈاکٹر محمد ریاض صاحب کی خصوصی ملاقات کی خوبصورت جھلکیاں۔
قرآن سے تعلق، صحت کے بارے میں آگاہی اور انسانیت کی خدمت—یہی وہ پیغام ہے جسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ویڈیو اچھی لگے تو ❤️ Reaction دیں، اپنی رائے Comment میں لکھیں اور دوسروں تک Share ضرور کریں۔
📍 کراچی، پاکستان
Dr. Muhammad Riaz | Quran Therapy

21/09/2026

ڈاکٹر ریاض صاحب کا کراچی دورہ ❤️ | قرآن، صحت اور خدمتِ انسانیت کا پیغا
کراچی میں ڈاکٹر محمد ریاض صاحب کی خصوصی ملاقات کی خوبصورت جھلکیاں۔
قرآن سے تعلق، صحت کے بارے میں آگاہی اور انسانیت کی خدمت—یہی وہ پیغام ہے جسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ویڈیو اچھی لگے تو ❤️ Reaction دیں، اپنی رائے Comment میں لکھیں اور دوسروں تک Share ضرور کریں۔
📍 کراچی، پاکستان
Dr. Muhammad Riaz | Quran Therapy

19/09/2026

✨ قرآن پاک MCQs ٹیسٹ پروگرام

ایک منفرد قرآنی پروگرام، جسے سالوں کی محنت، تجربے اور خوبصورت ترتیب کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔

بہت سے حفاظِ قرآن اس پروگرام کے ذریعے اپنی تیاری کو بہتر بنانے کا فائدہ حاصل کر چکے ہیں۔

اب آپ بھی اس علمی سفر کا حصہ بنیں۔ 🤍

📖 19ویں پارے کا ٹیسٹ
"وَقَالَ الَّذِينَ"

📅 21 ستمبر 2026 — بروز پیر

💻 Online Test: رات 8:00 بجے
🏫 On Campus Test: صبح 7:30 بجے

📲 شامل ہونے کے لیے WhatsApp کریں:

03335208331 | 03005208331

Islamic Roots International















16/09/2026

قرآن سے علاج کیسے ممکن ہے؟ | ڈاکٹر ریاض صاحب کا خصوصی پیغام | Quran Therapy

کیا قرآنِ کریم صرف پڑھنے کے لیے ہے، یا اس میں ہمارے لیے شفا اور رہنمائی بھی موجود ہے؟ 🌿📖

اس خصوصی گفتگو میں ڈاکٹر ریاض صاحب قرآنِ کریم کی روشنی میں علاج، روحانی رہنمائی، علم اور عمل کی اہمیت پر گفتگو کر رہے ہیں۔

قرآن ہماری زندگی کے لیے ہدایت، رحمت اور شفا کا عظیم ذریعہ ہے۔ ❤️
ویڈیو آخر تک دیکھیں اور یہ اہم پیغام اپنے دوستوں اور گھر والوں تک ضرور پہنچائیں۔

👉 آپ قرآن سے علاج اور Quran Therapy کے بارے میں مزید ویڈیوز دیکھنا چاہتے ہیں؟ کمنٹ میں بتائیں۔
👍 ویڈیو پسند آئے تو Like کریں
↗️ دوسروں کے ساتھ Share کریں
➕ Page کو Follow کریں تاکہ آئندہ ویڈیوز آپ تک پہنچتی رہیں۔

قرآن سے جڑیں — علم، عمل اور بہتر زندگی کی طرف بڑھیں۔

Address

Qurantherapy Center, D Block Satellite Town
Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Muhammad Riaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share