Medicine online

Medicine online ask about any medicine Imported and speciality products ... Will be delivered at your door step at lowest price ... Primary Care Trust pharmacists are engaged in commissioning medicine management services for children, influencing prescribing by general practitioners, developing shared care guidelines and ensuring that policies exist for the safe and effective use of medicines across the primary, secondary and tertiary care interfaces.

Community pharmacists are used as an appropriately informed and skilled resource to support self-care for parents, children and young people and sign-posting to other services. Primary Care Trusts and NHS Trusts maximise the contribution of pharmacists, their staff and the premises in which they work to improve health and reduce health inequalities. Pharmacists should take opportunities to provide healthy lifestyle advice including advice on physical activity, stopping smoking, reducing alcohol intake and substance misuse, especially in areas of deprivation. Hospital pharmacists ensure that medicines are managed safely and effectively and that they are appropriate for the age, development and clinical status of the child or young person. They can also provide advice on the clinical and costeffectiveness of medicines. Pharmacists working in Primary Care, in the community and in hospitals have a central role in the safe and effective use of medicines for children and young people. Greater use could be made of community pharmacies as a community health resource. Many consultations with general practitioners or practice nurses for minor illness, could be dealt with by the community pharmacist. Recent evidence also shows that 20% of calls to a primary care out-of-hours centre and at least 8% accident and emergency department consultations could be handled by a community pharmacist. Hospital pharmacists, working as part of multidisciplinary teams, may specialise in neonatal or paediatric pharmacy or in particular specialties, such as oncology, intensive care, cardiac and renal medicine. They have an important role in the provision of a comprehensive hospital service for children and young people. This may include arrangements for the child's treatment following discharge including liaising with community services. Future developments, such as robotic dispensing and electronic prescribing will enhance the contribution that hospital pharmacies and others can make to the multi-disciplinary care of children. Pharmacists may provide Stop Smoking advice and, where appropriate, referral to an NHS Stop Smoking service. They may also act as Stop Smoking advisers and are well-placed to do so. (See Department of Health's national target on Improving the health of the population.) Pharmacists who work in the heart of the community should be encouraged to focus on the most hard-to-reach and vulnerable families in their community, working with health visitors, midwives and others to provide support, information and advice to those who need it most. They also have an important part to play in promoting healthy lifestyle messages in relation to nutrition, physical activity and reducing alcohol intake

Operating as usual

28/10/2020
Available
27/10/2020

Available

Available
27/10/2020

Available

Available on prescription only
27/10/2020

Available on prescription only

Available
27/10/2020

Available

Available Now
15/10/2020

Available Now

Available
14/10/2020

Available

Available
14/10/2020

Available

Available
14/10/2020

Available

Available
14/10/2020

Available

Available
11/10/2020

Available

محتاط رہیں...  یہاں بہت سارے غیر محفوظ اور چال چلنے والے لوگ ہیں جو آپ کو استعمال اور زیادتی کا نشانہ بنائیں گے۔ اگر آپ ...
01/10/2020

محتاط رہیں...
یہاں بہت سارے غیر محفوظ اور چال چلنے والے لوگ ہیں جو آپ کو استعمال اور زیادتی کا نشانہ بنائیں گے۔
اگر آپ شکار ہوگئے ہیں تو ، اپنے غلط فیصلوں پر اپنے آپ کو معاف کریں۔
بہتر ذہنیت کے ساتھ آگے بڑھیں۔
ایسے لوگ ہمیشہ موجود رہیں گے۔

13/09/2020
04/09/2020
کستوری،  دنیا کی مہنگی ترین خوشبو ہے اور کستوری کی جائے تولید ہرن کی ناف ہے ، جس ہرن کی ناف میں یہ کستوری بنتی ہے وہ خود...
03/09/2020

کستوری، دنیا کی مہنگی ترین خوشبو ہے اور کستوری کی جائے تولید ہرن کی ناف ہے ، جس ہرن کی ناف میں یہ کستوری بنتی ہے وہ خود اس خوشبو کو سونگھ کر مسحور ہو جاتا ہے اور شنید ہے کہ بعد از طعام ہرن اپنا تمام وقت اس کستوری کو کھوجنے میں صحرا میں بھٹکتا رہتا ہے ، مگر اس چیز سے لا علم رہتا ہے کہ وہ خوشبو اس کی اپنی ناف میں سے آ رہی ہے

ہرن کی لا علمی پر آپ یقینا ہنسیں یہ آپ کا حق ہے مگر خدا نے ایسا کام صرف ہرن کیساتھ ہی نہیں کر رکھا ، بلکہ گھوڑا وہ طاقت ہے جو طاقت کو ناپنے کا بھی معیار ہے ، یہ موٹر اتنے ہارس پاور کی ہے یہ تو سن رکھا ہو گا آپ نے مگر روایت ہے کہ بروز قیامت گھوڑے کو پتہ چلے گا کہ اس کے پاس کتنی طاقت تھی

آپ گھوڑے پر بھی ہنسنے میں حق بجانب ہیں مگر ایسا کام صرف گھوڑے کیساتھ بھی نہیں آپ کیساتھ بھی ہے اور میرے ساتھ بھی ،

کیونکہ حدیث سرور دو عالم ﷺ ہے جس نے اپنے آپ کو پا لیا ، اس نے اپنے رب کو پا لیا ، مگر خود تک
کی رسائی اور معرفت نہ مجھے ہے اور نہ آپ کو

Timeline Photos
24/07/2017

Timeline Photos

Timeline Photos
27/05/2017

Timeline Photos

17/04/2017

کامیابی – سید قاسم علی شاہ
ہر شخص کا مزاج، شخصیت اور ٹیلنٹ مختلف ہوتا ہے، اس لیے کہا جاتا ہے کہ ہر ایک کے لیے کامیابی کی تعریف بھی مختلف ہوتی ہے. جیسے ہی کامیابی کا لفظ سننے میں آتا ہے تو ذہن میں فوری طورپر بڑا گھر، گاڑی اور بہت سے پیسوں کی تصویر آتی ہے. یہ ایک حصہ ضرور ہے لیکن یہ کامیابی کی تعریف نہیں ہے۔ کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ قدرت نے جو ٹیلنٹ اور صلاحیت دی ہے، اس کا بہترین استعمال کر کے زندگی گزارنا۔ لوگوں کی اکثریت اس طرف آتی ہی نہیں، وہ ٹیلنٹ کو تلاش نہیں کرتے، وہ صرف نتیجہ چاہ رہے ہوتے ہیں، وہ پھل کو تلاش کرتے ہیں حالانکہ اس درخت کو تلاش کرنا چاہیے کہ جس پر پھل لگتا ہے. پھر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس کام کے لیے قدرت نے پیدا کیا ہے، وہ کام کیا ہے؟ ایک غزوہ میں ایک صحابی رضی اللہ عنہ شدید زخمی ہوگئے، ان کے آخری سانس چل رہے تھے اور وہ پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ ”خدا کی قسم میں کامیاب ہوگیا“۔ ممکن ہے کسی کے لیے شہادت ہی کامیابی ہو، کسی کے لیے لوگوں کی خدمت کامیابی ہو جیسے عبدالستار ایدھی، کسی کے لیے لوگوں کے لیے کچھ کر کے دکھانا کامیابی ہو جیسے حضرت قائد اعظم محمدعلی جناح ؒ کے لیے پاکستان کو حاصل کرنا کامیابی تھی، یعنی بندہ بدل گیا تو کامیابی کی تعریف بھی بدل گئی۔

کامیابی کے اوپر جتنی تحقیق ہو چکی ہے، اس کےمطابق کامیابی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے، جو شارٹ کٹ ہوتا ہے، وہ شارٹ ٹرم ہوتا ہے، اور جو شارٹ ٹرم چیز ہوتی ہے، وہ جلدی ختم ہو جاتی ہے۔ وہ عمارتیں زیادہ دیرپا ہوتی ہیں جن کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں، اسی طرح وہ لوگ زیادہ کامیاب ہوتے ہیں، جن کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔ تحقیق کےم طابق دنیا کی تاریخ میں جس کسی نے بھی مختصر وقت میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی، وہ اس کو سنبھال نہیں سکا، بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی حثییت کو برقرار رکھتے ہیں۔ کامیابی اتنی اونچی اور ٹھنڈی ہوا ہوتی ہےکہ وہاں پر قائم رہنے کے لیے بنیاد کا ہونا بہت ضروری ہے۔

دنیا میں جتنے بھی کامیاب لوگ ہیں، ان کو بھی نہیں پتا ہوتا کہ وہ کیوں کامیاب ہیں؟ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کیوں کامیاب ہیں تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے اب ”اللہ تعالیٰ کا کرم“ بولنے میں بہت اچھا ہے، یہ شکرگزاری اور عاجزی کا لفظ ہے لیکن قدرت قاعدے اور قانون کے تحت یہ نظام چلا رہی ہے، یہ ممکن نہیں ہے کہ چلنے اور بیٹھنے والا برابر ہو۔ جب تک اس قاعدے اور قانون کی خبر ہی نہیں ہوگی تب تک بڑا مشکل ہے کہ بندہ گھر سے نکلے اور اس کو منزل پتا چل جائے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ کامیابی کے بارے میں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا نہیں جاتا ہے، اور نہ ہی لوگوں کو اس کی خبر ہے۔ کامیابی میں جتنی زیادہ غلطیاں ہوتی ہیں، اتنا ہی سیکھا جاتا ہے، اور جتنا زیادہ سیکھا جاتا ہے، اتنی ہی زیادہ کامیابی ملتی ہے۔ شروع میں بندہ قدم اٹھاتا ہے،گرتا ہے، تجربےکرتا ہے.گرتا ہے تو اس کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ہار گیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دوران تنقید ہوتی ہے، دل ٹوٹتا ہے، بندہ ہمت ہار جاتا ہے، لیکن یہیں سے راستہ بننا ہوتا ہے، یہیں سے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ میں نے آگے چلنا ہے۔ تاریخ میں بہت لوگ ایسے ہیں جن کو کبھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے جواب میں اتنا کام کیا کہ تاریخ میں مادام کیوری کی صورت میں نام زندہ ہوگیا۔

کامیابی کے اوپر سب سے بہترین تحقیق نپولین ہل کی ہے. وہ تحقیق بتاتی ہے کہ کامیابی کے لیے پہلی چیز جنون ہے، اگر کسی کے پاس جنون نہیں ہے، تڑپ نہیں ہے، طلب نہیں ہے، آگ نہیں ہے، تو وہ کامیاب نہیں ہو سکتا، یہی وجہ ہے کہ جتنے بھی کامیاب لوگ ہوتے ہیں، ان میں جنون ہوتا ہے، جب وہ کسی کام کے پیچھے پڑ جاتے ہیں تو اپنے آپ کو مرنے اور مارنے والی حالت پر لے جاتے ہیں۔ زیادہ تر جنون نوجوانوں میں ہوتا ہے. ایک تحقیق کے مطابق خودکشی کرنے کا سب سے زیادہ چانس بیس سال سے کم عمر میں ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اندر جتنی توانائی ہوتی ہے، آگے اتنا کام نہیں ہوتا۔ جب بھی کسی چیز میں بہت زیادہ توانائی ہوگی اور کام نہیں ہوگا تو وہ چیز منفی ہو جائےگی۔ جنون کے بعد کامیابی کے لیے مقصد بہت اہم ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے شہرت ملے، اس کے پاس پیسہ ہو اور مرنے کے بعد بھی نام ہو، یہ سب ٹھیک ہے مگر اس سے اہم چیز مقصد کا ہونا ہے جس کے پیچھے ان ساری چیزوں نے آنا ہے۔

نپولین ہل کے بعد کامیابی کے اوپر سب سے اہم تحقیق تھامس ٹینلے نے کی، اس نے ہزاروں امیر لوگوں پر تحقیق کرنے کے بعد نتائج اخذ کیے اور پھر ان کو ترتیب دیا۔ تھامس کے مطابق کامیابی کی پہلی وجہ ایمانداری ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں تو ہمیں لوگوں کی بہت بڑی تعداد نظر آتی ہے جو ایماندار ہے لیکن وہ کامیاب نہیں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ چیزیں ایمانداری کے ساتھ جڑی ہیں، ان کا ہونا بہت ضروری ہے. اگر کسی کے پاس صلاحیت ہے اور وژن ہے تو وہ بہت آگے جا سکتا ہے۔ ایمانداری کا آغاز سب سے پہلے اپنے آپ سے ہوتا ہے. حضور اکرمﷺ کے ارشادِ مبارک کا مفہوم ہے کہ جب کوئی چیز بیچی جائے تو اس کی خوبیاں اور خامیاں دونوں بیان کی جائیں۔ تھامس کے مطابق کامیابی کی دوسری وجہ محنت ہے، اگر وژرن اور لگن سے محنت کی ہو تو اس محنت کو اللہ تعالیٰ سنبھال لیتا ہے، اور پھر اجر کی صورت میں اس کو لوٹاتا ہے۔ تھامس کہتا ہے کہ دنیا میں جتنے بھی کامیاب لوگ ہیں ان کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے یا ان کی زندگی میں کوئی ایسا شخص ضرور ہوتا ہے جو ان کو موٹی ویٹ کرتا ہے، جو حوصلہ ٹوٹنے نہیں دیتا۔ جب حضوراکرم ﷺ پر پہلی وحی آئی تو آپﷺ گھبراہٹ کے عالم میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، اس سے ایک پیغام یہ بھی ملتا ہےکہ زندگی میں عورت کا ساتھ غموں کو بانٹتا ہے۔

ہم لوگ دماغ میں کچھ باتیں بٹھا لیتے ہیں، ہم جس طرح کی باتیں سنتے ہیں، جس طرح کے واقعات دیکھتے ہیں، اس سے ہمارے کچھ یقین بن جاتے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ کامیابی اور ناکامی میں قسمت کا کردار ہے۔ کامیابی کے اوپر جتنی بھی تحقیق ہے، وہ یہ کہتی ہےکہ کسی بھی کامیابی اور ناکامی میں قسمت کا کردار بہت کم ہوتا ہے، بلکہ تحقیق یہ کہتی ہےکہ کامیابی بھی ان لوگوں کو ملتی ہے جن میں جنون ہوتا ہے، قسمت بھی ان کا ساتھ دیتی ہےجن کا کوئی مقصد ہوتا ہے۔ اگر کسی کو اپنے کام سے محبت ہے تو وہ خوش قسمت ہے کیونکہ کام سے محبت کرنے میں جنون ہوتا ہے۔ ہمارے کلچر میں ایسی فلمیں نہیں بنتیں جو لوگوں کی زندگیاں بدلیں۔ انگریزی فلم ”ایڈجسٹمنٹ بیورو“ ضرور دیکھنی چاہیے، وہ پوری فلم حضرت علامہ اقبالؒ کے شعر ”خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے، خدا بندے سےخود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے“ کے گرد گھومتی ہے۔ قسمت یہ ہے کہ بندہ پیدا ہوا، یہ اس کے کنٹرول میں نہیں ہے، اس نے مرنا ہے، اس کی تاریخ اس کے کنٹرول میں نہیں ہے، جن کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے کنٹرول میں نہیں ہیں، لیکن زندگی گزارنے کا اختیار اس کے کنٹرول میں ہے، اگر اسے یہ کنٹرول نہ دیا ہوتا تو وہ جواب دہ نہ ہوتا، اگر قیامت کے دن جواب دہی ہونی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بندے کے پاس اختیار ہے۔

ہم لوگ حضرت بابا بلھےشاہؒ، حضرت سلطان باہوؒ، حضرت علامہ اقبالؒ کے کلام کو سن کر جھومتے ہیں، انجوائے کرتے ہیں، لیکن کبھی اس کلام پر غور نہیں کرتے کہ حضرت بابا بلھے شاہؒ نےفرمایا ”اپنے اندر جھاتی مار“ یا حضرت علامہ اقبال ؒ نے فرمایا ”اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی۔“ ان لوگوں کے لیے ترقی کرنا، کامیاب ہونا اور آگے بڑھنا بڑا آسان ہوتا ہے جو اپنے اندر کی آواز کو سننے کے عادی ہوتے ہیں۔ انسان کی وہ بات چیت جو اپنے ساتھ ہوتی ہے، اس کو پالش کرنے کے لیے ضرور سوچنا چاہیے بلکہ اس کے لیے استاد ہونا چاہیے۔ دنیا میں بہت سارے پرانے علوم ہیں، ان میں مراقبہ بھی شامل ہے. مراقبہ بتاتا ہے کہ اپنے اندر کی گفتگو کو کیسے پکڑنا ہے اور اس کو کیسے کام کا بنانا ہے۔ اگر اپنے اندر کی گفتگو مثبت نہیں کر رہی تو پھر دنیا کے کسی بھی شخص کی گفتگو بھی مثبت نہیں کر سکتی۔ بعض اوقات اندر جوگفتگو چل رہی ہوتی ہے وہ منفی ہوتی ہے، جب تک وہ گفتگو چبھتی نہیں تب تک وہ مثبت نہیں ہوسکتی، اس کا مطلب ہے کہ سب سے پہلے اپنے اندر سے آواز آنی چاہیے ”میں کیوں تکلیف والی باتیں سوچتا ہوں“۔ بعض اوقات بندے کا ریموٹ دوسرے کے ہاتھ میں ہوتا ہے، ایسی صورت میں لیکن لازم نہیں ہے کہ ان لوگوں کا انتظار کیا جائے جو ریموٹ کو دوسروں کے ہاتھ سے چھڑائے بلکہ خود ہی کوشش کر کے اپنا ریموٹ کنٹرول کرنا چاہیے، جو اپنی اصلاح نہیں کرسکتا اس کی کوئی اصلاح نہیں کر سکتا۔ سکندر اعظم کہتا ہے کہ دنیا کو فتح کرنے سے بہتر ہےکہ میں اپنے آپ کو بہتر کرتا، جس نے خود کو فتح کیا اس نے پوری دنیا کو فتح کر لیا کیونکہ اپنا قلعہ فتح کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ دنیا کی طاقتور چیز سوچ ہے اور اس سے طاقتور چیز اپنی سوچ ہے اور اس کو پکڑنا سب سے مشکل کام ہے۔

قسمت کی طرح کامیابی میں تعلیم کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے، معاشرے میں بےشمار لوگ ہیں جو کامیاب ہیں، لیکن ان کی تعلیم زیادہ نہیں ہے۔ تعلیم ایک ذریعہ ضرور ہے لیکن یہ آخری ذریعہ نہیں ہے۔ تعلیم اور علم کا اتنا فرق ہےکہ جتنا قطرے اور سمندرکا ہے، بعض اوقات بندے نے پی ایچ ڈی کی ہوتی ہے لیکن اس شعبےکا علم اتنا نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ جتنے ہمارے دانشور تھے، وہ بابوں کو تلاش کرتے تھے، بابے تعلیم یافتہ نہیں ہوتے تھے لیکن ان کے پاس علم ہوتا تھا، اور علم بولتا ہے۔ جب تک کسی میں علم کی طلب سچی نہیں ہوگی تب تک علم اس کے دروازے کی باندی نہیں بنےگا. علم اس کےگھر کی باندی بنتا ہے جس کے پاس علم کی طلب سچی ہوتی ہے، جب بندے کی پیاس سچی ہوتی ہے تو کنواں بھی چل کر پاس آتا ہے۔ جب علم کی طلب سچی ہوتی ہے تو پھر فہم، ادراک اور سوچ بھی تیز ہوتی ہے، پھر جس بھی شعبے میں جایا جائے، اس شعبے کا علم آ جاتا ہے۔ ایک بہت امیر شخص بیٹھا ہوا تھا، کسی نے پوچھا ”آپ کی تعلیم کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا کہ ”میں نےگریجویشن کے دوران کالج چھوڑ دیا تھا“ پھر پوچھا ”اس کے بعد کیا کیا؟“ اس نے جواب دیا ”میں نے کاروبار شروع کیا، جب وہ چل گیا تو میری کلاس میں جتنے ذہین ساتھی تھے، ان سب کو میں نے جاب پر رکھ لیا۔“ کاروبار کے لیے یا کامیابی کے لیے بہت زیادہ تعلیم ضروری نہیں ہوتی بلکہ کچھ اصول و ضوابط پر پورا اترنا ہوتا ہے، اگر کسی میں وہ صلاحیتیں ہیں جن سے کامیابی ملتی ہے تو وہ ایک پی ایچ ڈی سے زیادہ بہتر ہے۔

ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ناممکن کو سوچتے ہیں، حالانکہ کچھ بھی ناممکن نہیں ہے، کچھ ایسا نہیں ہے جو نہ ہو سکے، ہمارے چلنے کی رفتار بہت کم ہوتی ہے، ہم ہمت بہت جلد ہار جاتے ہیں۔ اگر آج کا استاد کسی بچے میں فقط یقین پیدا کر دے کہ تم کچھ بن سکتے ہو تو وہ بچہ بن جاتا ہے۔ اگر ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ ہوسکتا ہے تو پھر قدرت مدد کرتی ہے، کسی کو نظر آ رہا ہو یا نہ آ رہا ہو، اس بندے کو راستے نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ جو سوشیالوجی اور انتھرپالوجی کے ایکسپرٹ کہتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں میں خود اعتمادی نہیں ہے، انہیں اپنے آپ پر اعتماد نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ تعلیم ان میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی، گھروں میں کلچرنہیں ہے، گرومنگ نہیں ہے، گروپس نہیں ہیں اور نہ ہی ایسے بابے ہیں جو تربیت کرتے تھے۔ اگر کوئی ایسا بندہ زندگی میں داخل ہو جائے جو بندے کے ذہن میں یقین پیدا کر دے تو پھر نالائق سے نالائق بھی لائق ہو سکتا ہے، اور بہت آگے جا سکتا ہے۔ پہلا انعام ذہین کو نہیں یقین کو ملتا ہے۔

20/03/2017

Listen carefully

Timeline Photos
11/03/2017

Timeline Photos

درد سے 1 گھنٹے پہلے ۔۔۔۔
19/02/2017

درد سے 1 گھنٹے پہلے ۔۔۔۔

Nokia mobiles launches nokia 3310 again....But with android
19/02/2017

Nokia mobiles launches nokia 3310 again....
But with android

15/02/2017

Ha ha ha ha
Must watch

Timeline Photos
15/02/2017

Timeline Photos

15/02/2017

گناہ سے بچنے کا طریقہ

15/02/2017

On Drug act 2017

Pharmacist online
23/01/2017

Pharmacist online

Timeline Photos
21/01/2017

Timeline Photos

Timeline Photos
21/01/2017

Timeline Photos

Timeline Photos
15/06/2016

Timeline Photos

Timeline Photos
10/06/2016

Timeline Photos

Timeline Photos
07/06/2016

Timeline Photos

Timeline Photos
29/05/2016

Timeline Photos

Timeline Photos
24/05/2016

Timeline Photos

24/05/2016

عورت کا پردہ...
بچپن میں کزن نے چھیڑا .. ماں نے سمجھایا پردہ رکھو بھائی ہے بھائی ہے .. ماموں کا بیٹا ہے . چچا زاد ہے .
کچھ سال گزرے تو سکول کالج کے رستے میں کھڑے لڑکوں نے آوازے کسے .. ماں کو شکایت کی تو ماں نے کہا پردہ رکھو .. بھائیوں کو پتا لگا تو ایسا نہ ہو غیرت میں کوئی مسئلہ بن جائے . پردہ رکھو ..
اگر باپ بھائی تک بات چلی بھی گئی تو گلی کے نکڑ پر کھڑے مجنوں تو غائب ہوئے یا نہیں لڑکی ضرور پردے کے نام پر گھر میں بٹھا دی جائے گی . تعلیم سے ہاتھ دھوئے گی . کسی کے جرم کی قیمت اپنی تعلیم اور کیریئر سے محرومی کی صورت میں
چکا ئے گی .
پھر اگر تعلیمی سلسلہ بحال رہا تب بھی خدا جانے کتنے پردوں کی امانت کا بوجھ اٹھائے تعلیم جاری رکھے گی ..
شادی ہو گی تو میکے کے مان سلامت رکھنے کے لئے ادھر کے پردے رکھے گی اور میکے میں سسرال کی عزت بنانے کے لئے سسرالیوں کے پردے رکھتی رہے گی ..
چند سال بعد شوہر کہیں متوجہ ہو جائے گا تو میکے اور سسرال کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اپنی وقعت بنائے رکھنے کے لئے شوہر کے پردے رکھے گی .. کام زیادہ تھا . اوور ٹائم کر رہے تھے میٹنگ تھی ایک مسکراہٹ کے ساتھ سارے پردے سنبھال سنبھال کر رکھتی عورت کبھی جب اپنی زات کے اندر جھانکتی ہے تو تہہ در تہہ پردہ بن چکی ہوتی ہے ..
حق کے لئے آواز اٹھائے تو مار کھائے .. نہ اٹھائے تو حق گوائے .. مار کھا کر زخم چھپاتی عورت .. نیل پر ہنس کر گر '' گئ تھی'' کہتی عورت .. پردے دار عورت پردہ شعار عورت
دوسروں کے پردے رکھتی رکھتی اپنے آپ سے پردے رکھنے لگتی ہے . دوسروں سے زیادہ خود کو فریب دے رہی ہوتی ہے. . یہ سب حقیقت سے فرار ہے .. اگر پردے نہ رکھے تو ایک ایک کر کے ہر رشتہ کھو دے .. زندہ نہ رہ پائے..
اور صرف عورت ہی رشتے نہ کھوئے اس کا شوہر اور بچے بھی رشتوں سے محروم ہو جائیں
یہ جو جوائنٹ فیملی کو اکثر مرد فخر سے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں کہ عورتوں کے آپس کے اختلافات کے باوجود ہم بھائی اکٹھے رہ رہے ہیں . دراصل اس کی بنیاد اس جوائنٹ فیملی کی ایک ایک عورت کے سنبھال کر رکھے پردوں نے فراہم کی ہوتی ہے .. کوئی ایک عورت اپنے زباں کے تالے کھول دے تو خاندان کا شیرازہ بکھر جائے .. اور مرد کی گردن کا سریا ہمیشہ کے لیے ٹیڑھا ہو جائے ۔ ۔ ۔
سادہ سی تحریر ہے مگر سوچنے لائق ہے کہ ہم جتنی تلقین اپنی بہن بیٹی کو پردے میں رکھنے کی کرتے ہیں اگر اس کا دس فیصد بھی اپنے بھائی بیٹے کو نگاہ نیچی رکھنے کی کریں تو اتنا بگاڑ پیدا نہ ہو۔ اللہ پاک نے جس آیت میں عورت کے پردے کا حکم دیا ہے اسی آیت میں پہلے مرد کو نگاہ نیچی رکھنے کا حکم ہوا ہے۔ اور ہم آیت کے ایک حصے کو ہی عمل پیرا دیکھنا چاہتے ہیں۔ دوسرے پہ کب توجہ دیں گے؟

Address

Rawalpindi
44000

Telephone

+923225044787

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Medicine online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Nearby health & beauty businesses


Other Health/Medical/ Pharmaceuticals in Rawalpindi

Show All

Comments

PHARM.D REQUIRED AS Training and Effectiveness executive RAWALPINDI /ISLAMABAD SHARE YOUR RESUME [email protected]