Haq Homoeo Clinic

Haq Homoeo Clinic Haq Homoeo Clinic is a registered Homeopathic Clinic in which we have a team of medical practitioners and professional physicians.

Operating as usual

26/12/2020

ٹائیفائیڈ بخار ، دیر سے سیکھنا، ہاتھوں کا باربار دھونا ، صفائی پسند

حق ہومیوپیتھک کلینک چکلالہ راولپنڈی
ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ
محمد طاہر 03465116855

مریضہ عمر 23 سال ۔ مریضہ نے والدہ کیساتھ کلینک کا وزٹ کیا۔
پیدائش نارمل اور 2 سال کی عمر تک ٹھیک رہی لیکن جب 2 سال کی عمر کو پہنچی تو منہ میں زخم بن جاتے جس کی وجہ سے کھانے پینے میں کافی برابلم ہوتی میانوالی ہسپتال میں داخل رہی جہاں پر عملہ نے خون کی کمی بتاکر خون لگایا اور بچی گھر آگئی۔
ایک سال تک بچی ٹھیک رہی بعد میں جھٹکے شروع ہوگئے ۔ دائیں یا بائیں سائیڈ ہاتھ پاؤں کانپتے ، منہ سے جھاگ آتی اور بے ہوش ہوجاتی ۔ انجکشن لگنے کے 3 گھنٹے بعد ہوش میں آتی تھی ۔ سات سال دم کراتے رہے ہیں اور بچی ٹھیک ہوگئی ۔ سات سالوں میں 3 دفعہ تکلیف ہوئی ۔ اس دوران دوا دارو چلتا رہا کیونکہ بچی کی صحت ٹھیک نہیں رہتی تھی بخار ہوجاتا تھا ۔ بچی چھٹی کلاس سے آگے نہ بڑھ سکی کیونکہ پڑھائی میں کمزور اور اپنی توجہ مرکوز نہیں کر پاتی تھی مگر پڑھنے کا بےحد شوق تھا ۔ سر میں درد رہتا تھا پڑھائی کے دوران اور ویسے بھی ۔ سکول چھڑا کر قرآن پاک پڑھ رہی تھی تو ٹائیفائیڈ بخار ہوگیا ۔ اور ابھی تک بخار کا علاج معالجہ چل رہا ہے کبھی ایک تکلیف اور کبھی دوسری ۔

جسمانی علامات:۔
پیٹ درد ، سردی ، بخار
سانس کی تکلیف
کان بند رہتے ہیں اور اونچا سنائی دیتا ہے
صفائی پسندی ، ہاتھوں کو بار بار دھونا اور نہانا
بچپن میں بولنا اور چلنا دیر سے سیکھا
باتونی پن
کسی کا جھوٹا یا بچا ہوا سالن نہیں کھانا حتی کہ اپنے والدین کا بھی ، کھانا ڈال کر نیچے بیٹھنے کی بجائے کرسی میز پر کھانا پسند کرتی ہے ۔
صفائی پسندی ۔ اپنے لباس کی صفائی ستھرائی کا بہت خیال رکھتی ہے ۔
جانوروں اور پرندوں سے نفرت کیونکہ گندگی کرتے ہیں۔
کسی حد تک ضدی
رمضان میں سارے روزے شوق سے رکھتی ہے
گوشت چاول کی شوقین ، چہرے پر بھورے داغ
ڈر خوف کوئی نہیں
باتیں مسکرا کر کرتی ہے اور لگاتار بولتی چلی جاتی ہے ۔
فیملی میں ٹی بی اور دمہ کی ہسٹری چھوٹی بہن کو دمہ اور پھوپھو کو ٹی بی تھی۔ دادی کو شوگر ہے۔

ذہنی علامات:۔
ذہنی طور پر پسماندہ اور باتیں اٹک اٹک کر جیسے ناک میں بولا جارہا ہو۔
سیکھنے میں پیچھے دیر سے سیکھتی ہے۔ کوئی بھی کام ہو وہ کر لے گی لیکن خراب کرے گی اور بعد میں آہستہ آہستہ سیکھے گی ۔ لیکن جس کام کا شوق ہو وہ کر لے گی ۔
رونے لگے تو بہت دیر تک روتی رہتی ہے لیکن جب ہنسنے لگے تو دیر تک ہنستی رہتی ہے ۔
Bipolar Disorder
روتے ہوئے دم دلاسہ دینے سے چپ کرجاتی ہے ۔ (لیکن کمرے میں جاکر روئے گی سب کے سامنے نہیں )
جذباتی عدم تحفظ ، نظر انداز کرنے سے رونا شروع کردیتی ہے ۔ اور تسلی دینے سے چپ کرجاتی ہے۔
چھوٹے بہن بھائیوں سے بہت پیار کرتی ہے ۔
صفائی پسند ہے ۔
پالتو جانوروں کو پسند نہیں کرتی ۔ کیونکہ وہ گندگی کرتے ہیں ۔
ڈر خوف کوئی نہیں ہے
چٹپٹی اشیاء بہت پسند ہیں ۔ چاول شوق سے کھاتی ہے ۔
نیند میں ہنستی اور روتی ہے ۔ ہنستی زیادہ ہے ۔

بخار شام سے شروع ہوتا ہے اور آدھی رات کو تیز ہوجاتا ہے لیکن دن میں کبھی کبھی 1 یا 2 بجے ہوجاتا ہے ۔ رات کو پانی بار بار مانگتی ہے ۔ پانی پینے یا کچھ بھی کھانے سے قے ہوجاتی ہے ۔ پیٹ اور سر میں درد رہتا ہے ۔ کان بند رہتے ہیں ۔ ریشہ کبھی کبھار ہوتا ہے ۔ پیشاب بار بار آتا ہے ۔ کبھی کبھار لوز موشن بھی ہوجاتے ہیں ۔ ہاتھ پاؤں بار بار دھوتی ہے ۔ کہا نہیں مانتی ۔ صفائی پسندی میں بہت حساس ہے اور کسی کے گھر کی چیز نہیں کھاتی ۔ گھر والوں کیساتھ کھانا بیٹھ کر نہیں کھاتی ہے ۔ علیحدہ ٹی وی لانچ میں بیٹھ کر کھاتی ہے ۔ اس کی والدہ میں نے ایک واقعہ سنایا کہ ہم نے چٹنی بنائی اور اس کے والد نے چمچ سے کھالی تو بچی نے چھوڑ دی ۔ اگلی دفعہ بچی نے پہلے سے ہی اپنے لئے ڈال لی ۔

اس طرح کے پرانے اور پیچیدہ کیسز میں مریض کی انفرایت نیچے کئی تہوں میں گم ہوکر رہ جاتی ہے ۔ شاید اس کی وجہ وہ ایلوپیتھک ادویات ہوتی ہیں جو مریض عرصہ دراز سے استعمال کررہا ہوتا ہے ۔ بعض اوقات اسے ہم آرسینک البم سمجھ رہے ہوتے ہیں کبھی مرکسال اور کبھی نائیٹرک ایسڈ لیکن جوں جوں بادل چھٹتے ہیں اور مریض کی تصویر واضع ہوتی ہے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ تو نیٹرم میور ہے یا کچھ اور۔ بحرحال سر دست فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ مریض کا علاج کہاں سے شروع کیا جائے لیکن ہمیں فیصلہ تو بحرحال کرنا ہوتا ہے لہذا
ٹائیفائیڈینم 200 ایک ڈوز
آرسینک البم 200 صبح اور بیلاڈونا200 رات
فیرم فاس اور کالی فاس 6ایکس 2، 2 گولی دن میں 3 بار
روٹی اور فروٹ بند کردیا ۔ دلیہ ، ساگودانہ اور جوس اور دودھ زیادہ استعمال کریں۔

بچی نے بتایا بخار کسی حد تک کم ہوا لیکن کچھ خاص فرق نہیں پڑا۔
والدہ نے بتایا کھانا کھانے سے سانس پھولتا ہے ۔ کان کھل گئے ہیں۔
میں ایسے ذہنی پسماندہ بچوں کی بات پر یقین نہیں کرتا لہذا والدہ جو بھی بتارہی تھی اسے ہی فالو کررہا تھا۔
دوا کو ایک ہفتہ کیلئے دہرا دیا گیا۔
جس رات کو دوا لے کر گئے بہت تیز بخار ہوا
کان دوبارہ بند ہوگئے
بلغم ہوگیا ہے ۔ سبزی مائل گھاڑھا
چونکہ نزلہ پہلے بھی ہوا کرتا تھا اور ایلوپیتھک دوا سے دبا دیا جاتا تھا ۔ میں نےسمجھا کان بند ہونے کی وجہ نزلہ ہوسکتا ہے

ٹیوبرکولینم ہزار ایک ڈوز (فیملی ہسٹری کو مدنظر رکھتےہوئے)
پلسٹیلا 200 ایک ڈوز
فیرم فاس اور کالی فاس 6ایکس

پلسٹیلا نے اچھا کام کیا اور بخار مکمل ختم تو نہیں ہوا لیکن وقفہ بڑھ گیا ہے ۔ اب لمبے وقفہ سے ہوتا اور گاڑھا نزلہ ابھی تک ہے اور ناک میں باتیں کرتی ہے ۔
پلسٹیلا 200 دن میں 3 بار
فیرم فاس اور کالی فاس 6ایکس

بھوک میں کمی ملاحظ کی گئی ، نزلہ پہلے سے کم ہے لیکن ہے ، سردی بدستور لگ رہی ہے اور معمولی بخار ہوجاتا ہے۔
پیٹ درد اور مریضہ میں سردی لگ کر بخار کی کیفیات نہیں جارہی ۔ نئے سرے سے علامات لینے سے پتہ چلا کہ مریضہ کو چٹپٹی اشیاء، بریانی، پکوڑے سموسے بہت پسند ہیں اور اپنی پسند اور مصالحہ دار اشیاء کے علاوہ کھانا نہیں کھاتی۔ سبزیاں تو دیکھتی بھی نہی ہے ۔ لہذا
نکس وامیکا ہزار ایک ڈوز ایک ہفتہ کا فالواپ
بخار سردی کیساتھ ، پیٹ درد اورکان بند
والدہ بچی پر بہت محنت اور مسلسل چیک اپ کیلئے لارہی ہیں ۔ بیٹی کو دوا اپنے ہاتھوں سے کھلاتی ہیں اور ضروری اتار چڑھاؤ کا ذکر کرتی ہیں اور بیٹی کے متعلق فکر مند ہیں ۔ والد کی طرف سے بھی دباؤ کا سامنا کررہی ہیں کہ اتنی مدت سے بیٹی بیمار ہے اور ہم نے اس کے علاج کیلئے کوئی در ایسا نہیں جس پر دستک نہ دی ہو لہذا اسے شفاء نہیں ہورہی اللہ کی رضا سمجھ کر علاج بند کردو۔ والدہ نے مجھ سے ذکر کیا جسے سن کر میں رنجیدہ ہوگیا مگر بخار اور مرض کی شدت میں کمی ضرور آئی تھی لیکن مکمل ٹھیک نہیں ہورہا تھا۔والدہ نے علاج جاری رکھنے کیلئے عزم کا اظہار کیا اور کہاکہ مجھے امیدہے میری بیٹی ٹھیک ہوجائے گی کیونکہ اتنا افاقہ کسی علاج سے نہیں ہوا۔

چونکہ مریضہ کی علامات پلسٹیلا اور آرسینک البم کے گرد گھوم رہی ہیں اسلئے سورائینم،ٹیوبرکولائینم ،سفلائینم اور مذکورہ دونوں ادویات مختلف پوٹنسیوں میں علامات کے مطابق استعمال کرائی گئیں جن سے محض علامات کی شدت میں کمی آئی ۔

مریضہ کا بخار جو ہر روز یا کچھ دن وقفہ دے کرآتا تھا اب ویسا نہیں رہا لیکن بخار سے مکمل نجات نہیں مل رہی ۔جیسا کہ ماضی میں بخار اونچے درجے کا ہوتا تھا مگر اب اس کی شدت میں کمی آگئی ہے ۔
علامات:۔
پیٹ درد
بخار
سردی
ہاتھوں اور جسم کا بار بار دھونا

چہرے کے بھورے داغ ، فیملی میں ٹی بی کی ہسٹری اور دماغ کے اندر کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے کارسینوسن کا انتخاب کیا گیا ۔ 200 کی ایک خوراک دی گئی ۔ جس سے بخار ، سردی اور پیٹ درد کے دورانیے اور شدت میں مزید کمی ملاحظہ کی گئی ۔ کارسن 200 کو تین ماہ کے دوران 6 بار دہرایا گیا لیکن بخار، پیٹ درد اور سردی کی علامات ختم نہیں ہورہیں۔ لیکن ایک پیش رفت ہوئی وہ یہ کہ مریضہ کو بچپن میں ٹانگوں پر خارش اور الرجی کی شکایت تھی جو کہ ادویات سے دب گئیں تھیں وہ ظاہر ہوگئیں اور کارسینوسن سے رفع بھی ہوگئیں اور اسی دوران بیماری سے ہمدردی کے نتیجہ میں ہاتھوں کی جلد پھٹ گئی انتظار کیا گیا لیکن بہتری نہ آنے کی صورت میں پٹرولیم 200 سے بہتر ہوئیں۔ بعد ازاں چند مزید ادویات کی تہیں ظاہر ہوئی اور علامات کے مطابق ادویا ت کو موقع دیا گیا جن سے الحمدللہ مزید بہتری ملاحظہ کی گئی۔ کیس پر جو تالہ پڑا ہوا تھا آہستہ آہستہ کھلنا شروع ہوگیا

تین ماہ بعد کارسینوسینم ایک ہزار دی گئی۔ جس سے بخار سردی اور پیٹ درد کی علامات میں واضع کمی ملاحظہ کی گئی۔
ہیرنگ کے قانون شفاء کے مطابق بیماری کا باہر کی سمت محو سفر ہونا ایک نیک شگون ثابت ہوا اور مریضہ جو کہ بچپن سے بیماری کی گرفت میں تھی 2 سال کے مسلسل علاج سے آزاد ہوگئی۔ الحمدللہ۔

وارننگ:-
(پیج ہذا کسی قسم کی دوا از خود استعمال اور پریکٹس کرنے کی اجازت نہیں دیتا اگر مریض بغیر اجازت دوااستعمال کرتے ہیں تو وہ اپنے رسک پر ہوگا۔ کسی قسم کی ایمرجنسی صورتحال یا کرانک علاج کیلئے معالج سے رابطہ کریں تاکہ وہ آپ کیلئے بہتر دوا کا انتخاب کرسکے)

اچھےہومیوپیتھک ڈاکٹر کی پہچانآپ سچے اور ایمان دار ہومیوپیتھک ڈاکٹر تک کیسے پہنچ سکتے ہیں؟حق ہومیوپیتھک کلینک چکلالہ راو...
29/09/2020

اچھےہومیوپیتھک ڈاکٹر کی پہچان
آپ سچے اور ایمان دار ہومیوپیتھک ڈاکٹر تک کیسے پہنچ سکتے ہیں؟

حق ہومیوپیتھک کلینک چکلالہ راولپنڈی
ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ
محمد طاہر 03465116855

تحریر:۔ ظفر احمد خان
پوسٹ:۔ حسین قیصرانی
موجودہ دور میں جہاں ہر چیز نے ترقی کی ہے وہیں ہومیوپیتھی طریقہ علاج نے بھی خوب ترقی کی ہے۔ جب کوئی معیاری چیز مارکیٹ میں آتی ہے تو اس کے معیار کی شہرت دور دور تک پھیلتی ہے اور اس کی شہرت سے فائدہ اٹھا کر کچھ موقع پرست عناصر غیر معیاری اشیاء ملتے جلتے ناموں سے مارکیٹ میں لے آتے ہیں۔ ہومیوپیتھی علاج کے ساتھ بھی کچھ اسی طرح کے حالات پیش آئے۔
ویسے تو ہومیوپیتھی کا یہ بیج آج سے ڈھائی سو سال قبل جرمنی کے ڈاکڑ فیڈرک باہمین نے بویا تھا جس کی آبیاری اس کے ہونہار شاگردوں نے کی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی شہرت پوری دنیا میں پھیلنے لگی اور آج یہ ایک قد آور درخت بن چکا ہے۔ دنیا کا وہ کون سا ملک ہے جو ہومیوپیتھی کے نام سے واقف نہیں۔
بین الاقوامی ادارہ صحت (WHO) جو کے یونائیڈڈ نیشن کا ذیلی ادارہ ہے۔ اس کے سروے کے مطابق ہومیوپیتھی کا علاج پوری دنیا میں بیماریوں کے خلاف استعمال ہونے والی تھراپی میں دوسرے نمبر پر ہے۔ پوری دنیا میں لاکھوں ہومیوپیتھک کالجز اور ہسپتال ہیں۔
لاکھوں کتب ہومیوپیتھی کے موضوع پر لکھی جا چکی ہیں۔ لوگوں میں شعور و آگاہی کا رجحان پہلے کے مقابلے میں بڑھا ہے۔ پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا بھی اس کی شہرت کا باعث بنے ہیں۔ آج ملکوں ملکوں، شہر شہر، گلی گلی میں ہومیوپیتھک ڈاکٹر موجود ہے۔ سینکٹروں فارماسیوٹیکل کمپنیز کام کر رہی ہیں۔ ان ڈاکٹرز کے ہجوم میں اچھے ڈاکٹرز بھی ہیں اور محض اشتہاری ڈاکٹرز بھی ہیں جو محض جعلی ڈگریاں حاصل کر کے اسے بزنس کے طور پر چلا رہے ہیں۔ نہ ان کے پاس قابلیت ہے اور نہ خلوص۔ وہ فقط لوگوں کی جان و مال سے کھیل رہے ہیں۔
اس گھمبیر صورتحال میں آج کا مریض چاہتا ہے کہ وہ کسی اچھے ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے علاج کرائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے وہ ایک اچھا اور قابل ہومیوپیتھک ڈاکٹر کیسے تلاش کرے۔ یہاں پر تو چمکتے دمکتے کلینک، خوش پوش عملہ، دیواروں پرچسپاں ڈگریوں کے انبار آپ کو نظر آئیں گے۔ متعدد برانڈ کی ادویات آپ کو دی جائیں گی۔ لیکن اتنا سب کچھ کر کے بھی آپ شفاء یابی حاصل نہ کر پائے تو یہ بات آپ کے لئے کافی مایوس کن ہو گی۔
اچھے ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی تلاش کے لئے مشورے
اگر آپ اصلی ڈاکٹر کی پہچان کرنا چاہتے ہیں تو کچھ ایسی نشانیاں ھم آپ کو بتاتے جس کو ڈھونڈ کر آپ با آسانی اصلی ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی پہچان کر سکتے ہیں اور پھر ان کے دی گئی ادویات کو استعمال کر کے، اللہ کے فضل و کرم سے شفاء پا سکتے ہیں، تو جانئے اصلی ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی پہچان۔
* قابل ہومیوپیتھک ڈاکٹر سادگی پسند اور با اصول ہوگا۔
* اس ڈاکٹر کی کلینک میں ظاہری چمک دمک نہیں ہوگی۔
* مریضوں سے پرخلوص ہوگا، مریض کی صحت اور جیب دونوں سے ہمدردی رکھے گا۔
* ادویات کم اور معیاری ہوں گی۔
* سنگل ریمیڈی اور کلاسیکل ہومیوپیتھی کا قائل ہوگا۔
* مریض کا اطمینان اور سکون سے معائنہ کرے گا۔
* مریض سے زیادہ سے زیادہ سوالات کرے گا تاکہ بیماری کی صحیح تشخیص ہوسکے۔
* اس ڈاکٹر کی شہرت کا راز اس کے اشتہارات نہیں بلکہ وہ مریض ہوں گے جو ان کے ہاتھوں شفاء پا چکے ہوں۔
یہ چند نشانیاں ہیں جس کی بدولت آپ سچے اور ایمان دار ہومیوپیتھک ڈاکٹر تک پہنچ سکتے ہیں۔

25/09/2020

سورائنم نوسوڈ ، مخصوص علامات ، کلینیکل علامات ، اشارے

حق ہومیوپیتھک کلینک چکلالہ راولپنڈی
ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ
محمد طاہر 03465116855

ایم ایل ٹیلر ڈرگ پکچر میں لکھتی ہیں کہ :۔
اس دوا کا مریض اپنی بدقسمتی کا رونا ہی روتا رہتا ہے ۔لوگ جنہیں سورائینم کی ضرورت ہوتی ہے اپنے آپ کو بےکس اور غریب خیال کرتے ہیں اور وہ سوچتے ہیں کہ انہوں نے زندگی میں سب کچھ کھودیا ہے اور کچھ حاصل نہیں کیااور اسی چیز کو لیکر وہ اپنی بد قسمتی کو کوستے رہتے ہیں۔قبل رحم اور خود ترسی کی سوچیں انہیں مستقل طور پر اداس اور کمزور رکھتی ہیں اور آخر کار مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہیں ۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہر چیز غلط وقوع پذیر ہورہی ہے زندگی میں کچھ ٹھیک نہیں ہورہا اسی ذہنی دباؤ کا شکار ہوکر امید کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔
چونکہ سورائینم کی تکالیف سورا نامی زہر کی وجہ سے بار بار حملہ آور ہوتی ہیں اسلئےمریض اپنی بیماری سے مایوس ہوجاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اب شفا یاب نہیں ہوسکتا اور اپنی بیماری کو لاعلاج قرار دیتا ہے ۔ ایسا مریض سمجھتا ہے کہ اس کی زندگی میں کچھ بھی ٹھیک نہیں چل رہا بلکہ حالات بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں اور اس کا واحد حل یہی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ختم دے۔

جہاں سورا میازم کی سرتاج دوا سلفر کو مانا جاتاے وہاں سوراینم کا درجہ بھی کچھ کم نہیں ہے ۔
جہاں علامات حاد نوعیت کی ہوں وہاں سلفر لیکن جہاں مرض کرانک صورت اختیار کر جائے وہاں سورائینم کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہ کوئی حتمی رائےنہیں کہ کرانک علامات میں سورائینم ہی استعمال ہوگی اور سلفر کو نظرانداز کر دیا جائے گا اگر علامات سلفر کی ہیں تو سلفر ہی کا انتخاب کیا جائے گا ۔

Hay Fever جسے ہم الرجی (چھینکیں ، ناک بہنا ، سانس کی علامات) کی خاص دواہے ۔
موسم کی تبدیلی ، ہر موسم کے تبدیل ہونے کی ، باہر جانے پر ٹھنڈی ہوا لگنے کی ، اور وہ ہوا جسے ہم ٹھنڈی کہتے ہیں نہ صرف اس میں بلکہ ہر کھلی ہوا کی ، بہترین دوا ہے ۔ اور جس میں نزلہ بہتا ہے اور چھینکیں آتی ہیں ، الرجک ہوجانا اور سانس کے معاملات کا ڈسٹرب ہوجانا شامل ہے ۔ یعنی ناک ، کان اور گلا کے مسائل ہوں ، سردی اور باہر جانے کے مسائل ہوں ، خاص سردی یا ہر موسم کی تبدیلی کے مسائل ہوں اور اگر اس کے ساتھ جلدی امراض بھی ساتھ ہوں تو سورائینم پر پکی مہر لگ جاتی ہے ۔ (اگر مریض ایلوپیتھی سے ہوکر آتا ہے تو علاج سورائینم سے کرنا چاہئے)ڈاکٹر حسین قیصرانی

کبھی کبھار گرمیوں میں بارش ہوجانے سے جیسا کہ آج کل بارشوں کا سیزن ہے رات کو سونے پر ہمیں کمبل یا چادر کی ضرورت پڑتی ہے ایسے میں سورائینم پر لازمی غور کرنا چاہئے ۔ علاج کے دوران ایک مریض نے فون پر بتایا کہ ڈاکٹر صاحب دوا لینے آنا تھا لیکن سردی بہت ہے بستر سے نکلنے کو دل ہی نہیں کر رہا سورائینم کی چند خوراکیں بھجوائیں گئیں دوسرے دن مریض کلینک پر چیک اپ کیلئے موجود تھا۔

سورائینم کا مریض اسقدر سرد مزاج ہوتا ہے یا سردی سے حساس ہوتا ہے کہ سردیوں میں گرم کپڑوں سے خوب پیک ہوکر رہتا ہے اور گرمیوں میں بھی اونی ٹوپی پہنے رکھتا ہے اور پانی گرم کرکے نہاتا ہے ۔ یا سردیاں گزر جانے پر جب باقی عوام گرمیوں کے کپڑے پہننا شروع کردیتی ہے لیکن یہ صاحب سردیوں کے لباس میں گھوم پھر رہے ہوتے ہیں۔ سورا کے مریض کوباقی لوگوں کی نسبت سردی زیادہ لگتی ہے۔

سورائینم مریض کےجسم سے ناگوار بو مشاہدہ کی گئی ہے ۔ باوجود نہانے دھونے کے بھی مریض کے جسم سے بونہیں جاتی ہے ۔ سورائینم کے تمام اخراجات بدبودار ہوتے ہیں ان میں مردار کی سی بو ہوتی ہے ۔

مریض کی گردن، ماتھا ، چہرہ پر کچھ خاص جگہیں میلی نظر آتی ہیں مریض کہتا ہے ہر روز نہانے اور صاف ستھرا رہنےکے باوجود میل نہیں جاتی ایسےمیں سورائینم کی چند خوراکیں مریض کو آپ کا مرید خاص بنا ڈالتی ہیں۔

کسی بیماری کے ہونے والے بار بار حملوں یا کسی بھی بیماری کے حملے کو روک دیتی ہے ۔ اور کسی بیماری سے اگر مکمل شفاء نہ ہورہی ہو تو مکمل شفاء سے ہمکنار کرتی ہے یا بیماری کے بعد صحت مکمل طور پر بحال نہ ہورہی ہو یا کمزوری باقی رہ گئی ہوتو کیس کو مکمل کرتی ہے۔

اگر حاملہ خواتین کو حمل کے دوران سورائینم ایک ہزار کی ڈوز دے دی جائے تو نہ صرف پیدائش کے بعد صحت جلد بحال ہوجاتی ہے بلکہ بچہ خاندانی امراض کو ساتھ لانے سے کسی حد تک بچا رہتا ہے ۔ لیکن لازم ہے کہ خاندان میں مطلوبہ بیماری کی موجودگی کا اگردرست علم ہے تو احتیاط سے نوسوڈ کا استعمال کیا جائے۔

سورائینم میں فوطوں پر یا ان کے نچلے حصے میں ایک خاص قسم کی نمدار کھجلی پائی جاتی ہے ۔ جس میں کھجلانے کے بعد نمی محسوس ہوتی ہے اور ہاتھ لگانے سے درد ہوتا ہے اوردوسرے دن اس پر ایک باریک سیاہ رنگ کاچھلکا اترتا ہے ۔ ایک خارش زدہ مریض نے مجھے بتایا کہ میرے ذہن میں جب بھی برے خیالات آتے ہیں تو میرے فوطوں پر کھجلی شروع ہوجاتی ہے ۔ سرد مزاج مریض تھا سورائینم اور آرسینک البم سے شفاء ہوئی۔

مشاہدہ میں آیا ہے کہ پرانے اور پیچیدہ امراض میں وقت آنے پر باقی ادویات کیساتھ کیساتھ سورائینم کی ضرورت لازمی محسوس ہوتی ہے ۔ کیونکہ کسی بھی دوا کے دینے کا ایک وقت ہوتا ہے علامات ممکنہ دوا کی طرف ضرور اشارہ کرتی ہیں اور معالج کو دوا کے اشارے سمجھنے چاہئیں۔

کنفرم علامات کے باوجود اگر سلفر کام نہ کرے تو سورائینم کبھی مایوس نہیں کرے گی۔

تمام نوسوڈز کیساتھ مزاجی علامات رکھنے والی ادویات کا استعمال لازمی ہوتا ہے اور تب ہی نوسوڈز فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں ۔ اور مریض صحت کی شاہراہ پرگامزن ہوسکتا ہے ورنہ علاج ادھورارہ جاتا ہے ۔

مختصرالفاظ میں سورائینم کا ناک نقشہ

پیسہ نہیں ، کھانا نہیں ، کام نہیں ، پیار نہیں

غربت کا خوف ، بیماری کا خوف ، مستقبل کا خوف

مایوسی ، ناامیدی ، ڈپریشن ، بدمزاجی

میلا کچیلا ، گندا ، بدبودار،
ایم ایل ٹیلر


وارننگ:-
(پیج ہذا کسی قسم کی دوا از خود استعمال اور پریکٹس کرنے کی اجازت نہیں دیتا اگر مریض بغیر اجازت دوااستعمال کرتے ہیں تو وہ اپنے رسک پر ہوگا۔ کسی قسم کی ایمرجنسی صورتحال یا کرانک علاج کیلئے معالج سے رابطہ کریں تاکہ وہ آپ کیلئے بہتر دوا کا انتخاب کرسکے)

20/07/2020

ٹیوبرکولینم نوسوڈ ، مخصوص علامات ، کلینیکل علامات ، اشارے

حق ہومیوپیتھک کلینک چکلالہ راولپنڈی
ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ
محمد طاہر 03465116855

پچھلے آرٹیکل میں عرض کیا تھا کہ میازم ایک تھیوری ہے اور اس میں ترمیم و اضافہ ہوتا چلا آرہا ہے اور نہایت پیچیدہ مضمون ہے .عموما لوگ اس پر بات کرنے سے کتراتے ہیں اور میازم پر اپنی عمر کے آخری حصے میں ہی قلم اٹھاتے ہیں.اگر ہم میازم کی بجائے میازمیٹک ادویات کو اچھے طریقے سے سمجھ لیں تو نہ صرف ہمارا کام آسان ہوجائے بلکہ ہماری پریکٹس کو چار چاند لگ جائیں۔
اگر میازم کی تعریف مختصر الفاظ میں مقصود ہو تو کچھ ہوں ہوگی
سورا..... کمی
سائیکوسس ..... زیادتی
سفلس ....... کجی (ڈاکٹر بنارس خان)

اس دوا کی مکمل آزمائشی علامات تندرست انسانوں پر حاصل نہیں کی گئیں بلکہ ہمیشہ مریضوں پر ہی استعمال کرکے علامات حاصل کی گئیں یا محض تجربہ کی بنیاد پر دوسرے معالجین سے حاصل کی گئیں۔ ڈاکٹر کینٹ نے ایک دفعہ اس دوا کی آزمائش اپنے اوپر کرنی چاہی مگر وہ نہ کرسکےکیونکہ یہ دوا اس قدر عمیق اثر رکھنے والی ہے کہ کوئی انسان دیدہ اور دانستہ اس دوا کی آزمائش اپنے اوپر کرنے کی جرات نہیں کرتا۔ ٹیوبرکولینم کی جس قدر اقسام رائج الوقت ہیں ان سب کی علامات مختلف طریقوں سے اکھٹی کی گئی ہیں اوراسقدرمخلوط ہوگئیں ہیں کہ کوئی معالج ان کی تفریق نہیں کرسکتا اور ہر شخص اپنی اپنی سمجھ بوجھ کےمطابق ایک یا دوسری قسم استعمال کر رہا ہے۔
ڈاکٹر سوان نے پھیپھڑوں کی دق سے ٹیوبرکولینم تیار کی اور استعمال کی اسے انہوں نے "ٹیوبرکولینم "کا نام دیا۔
ڈاکٹر برنٹ نے پھیپھڑوں کے ماؤف شدہ حصہ کی دیواروں سے حاصل کیا اور اس کا نام انہوں نے "بسی لینم" رکھااور استعمال کیا۔
ڈاکٹر کینٹ نے مویشیوں کے سلی غدودوں سے زہر حاصل کیا اور اس کا نام انہوں نے" ٹیوبرکولینم بووینم" رکھا۔
اسی طرح کسی اور نے مرغوں کے سلی ریشوں سے مواد حاصل کرکے اس کا نام انہوں "ٹیوبرکولینم اویاری" رکھا ۔
ڈاکٹر کوچ کی لمف بھی ٹیوبرکولینم کے نام سے مشہور ہے اور اس کی بھی کئی ساخت آرہی ہیں ۔
غرضیکہ اس وقت ٹیوبرکولینم کی اس قدر ساخت ہیں کہ کہنا مشکل ہوگیا ہے کہ کون سی علامت کس دوا کی ساخت سے متعلق ہے ۔ لہذا ٹیوبرکولینم کے متعلق جس قدر لٹریچر ہمیں ملتا ہے اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ تمام اقسام محض تجربہ کی بنیاد پر استعمال کی گئی ہیں ۔
(سائیکلوپیڈیا آف ہومیوپیتھک ڈرگس حصہ دوم ۔ ڈاکٹر کاشی رام)

علامات:-
سورا اور سفلس کی آمیزش سے تیار شدہ نوسوڈ ہے لیکن علامات کا مطالعہ کریں تو سورا کا عنصر غالب نظر آتا ہے ۔ جن خاندانوں میں ٹی بی کی ہسٹری ملتی ہو وہاں اس کا استعمال ناگزیر ہوجاتا ہے ۔ ٹی بی کے مریضوں میں ایک چیز اندر اور ایک باہر ہوتی ہے ۔ اگر اندر کا علاج کریں تو باہر کی سر اٹھاتی ہے اور باہر کا علاج کریں تو اندر کی سر اٹھاتی ہے ۔ ڈاکٹر کینٹ نے نہایت خوبصورت الفاظ میں ٹی بی کا نقشہ کھینچا ہے ۔ گرچہ یہ بیان نہایت مایوس کن ہے لیکن حقیقت پر مبنی ہے ۔
"جب کوئی شخص اچھی طرح سے سل کے درجہ دوم او سوم میں داخل ہوجاتا ہے تو اس شخص کے جانے (مرنے) کی توقع کی جاسکتی ہے۔ سل سے شفایابیوں میں نہ تو یقین ہی رکھو اور نہ ہی اس بلا کے متعلق پر امید ہوکر سوچا کرو۔ ہر تھوڑے عرصہ بعد کوئی نہ کوئی ٹی بی کا "نیا مرض" لے کر پیدا ہو جاتا ہے۔ جو معالج ٹی بی کی کیفیات سے بخوبی واقفیت رکھتا ہے ایسی باتوں پر بھروسہ نہیں کر سکتا اور یقینا اس شخص کی میرے دل میں کوئی عزت نہیں جو یہ کہتا ہو کہ میں ٹی بی کا علاج رکھتا ہوں ایسا شخص میرے نزدیک بالکل دیوانہ ہوگا۔ حقیقت میں وہ شخص اس رقم کے پیچھے لگا ہوتا جو اس کی جیب میں جا رہی ہوتی ہے لہذا کوئی شخص جو اپنا ضمیر بھی رکھتا ہو اور سل کو بھی جانتا ہو دنیا کے سامنے ٹی بی کا علاج پیش نہیں کر سکتا"

حقیقت میں سورا بھی نفس انسانی کی طرح ایک منہ زور گھوڑا ہے جسے مثبت خیالات سے لگام ڈال کر سواری کی جاسکتی ہے نہ کہ اسے ادویات سے ختم کرنے کے سہانے خواب دیکھے جائیں۔

سانس کی تکالیف پائی جاتی ہیں ۔ گردن اور گلے کے گرد تنگ چیزیں پہننا مشکل ہوتا ہے کیونکہ شہ رگ جس سے زندگی کا دارومدار ہے اور جوکہ سانس کے آرگن ہوتے ہیں لہذا ان کے گرد جب گھیرا تنگ ہوتا ہے تو مریض کہتا ہے کہ میں مرا کہ مرا ، میری سانس بند ہوجائے گی ۔ ہائی نیک پہننے سے سانس رکتا ہے۔ لیکسس، آرسینک البم اور نیٹرم میور جیسی پولی کریسٹ ادویات اس کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔(ڈاکٹر حسین قیصرانی)

ایسے مریضوں کی ناک اندر یا باہر سے اکثر پکی رہتی ہے ۔ ایک مریض کی جوانی میں ناک پر زخم تھا بہت علاج ہوا لیکن زخم نہیں ٹھیک ہوا ۔ کسی دوا سے وہ زخم دب گیا اور کچھ عرصہ بعد ٹی بی نے آگھیرا پھر مرتے دم تک انٹی ٹی بی گولیاں اور ٹیکے استعمال کیں لیکن ٹی بی جیسے مرض سے چھٹکارا ممکن نہ ہوسکا ۔ دمکشی کا علاج کرتے جسکا وقتی آرام آتا تو بواسیر آگھیرتی اس کا علاج ہوتا تو خارش اور موٹے موٹے پھوڑےاور کاربنکل نکل آتے وہ ٹھیک ہوتے تو دوبارہ دمکشی اور ریشہ تھوکنا شروع کردیتے لہذا بیسیوں بار ایمرجنسی کی کیفیت سے گزرے ۔

ٹیوبرکولینم بچے ٹک کر گھر میں نہیں بیٹھ سکتے سیر سپاٹے کے بہت شوقین ہوتے ہیں ۔ (کلکیریافاس، کارسینوسن)

تبدیلی ان کی رگ رگ میں سمائی ہوتی ہے ، نیا موبائل ، نئے کپڑے ، نئے جوتے ، نئی نوکری ،نیا کاروبار نیا پیشہ، سیروسیاحت اور دنیا گھومنے کے شوقین جہاں بھی جائیں وہاں سے دوسری جگہ جانا چاہیں ، کتابوں میں انہیں پردیسی یا مسافر کےنام سے جانا جاتا ہے ، نئے نئے شوق الغرض یکسانیت سے جلد اکتا جاتے ہیں۔ ایسے بچوں میں High Sex Derive پائی جاتی ہے اور چھوٹی عمر میں مشت زنی شروع کردیتے ہیں۔ ایک وقت میں کئی لوگوں سے تعلقات رکھنے والے ، جس طرح نکس وامیکا شراب کا رسیا ہوتا ہے اسی طرح ٹیوبرکولائینم چرس کا دلدادہ ہے۔

انہیں جب بھی تھکاوٹ ہوگی سب سے پہلے نچلی ٹانگوں یا پنڈلیوں میں ظاہر ہوگی ایسے بچے دن بھر کی اچھل کود کے بعد اکثر رات کو ماں سے ٹانگیں دبواتے ہیں۔

سردی یا ٹھنڈے پانی سے تکلیف ۔ گلا خراب ہوگا تو آواز بھاری ہوجائے گی اور نزلہ زکام فورا چھاتی کو پکڑ لے گا۔
استاد محترم ڈاکٹر بنارس خان فرماتے ہیں کہ :-
راولپنڈی کے ڈاکٹر طارق صاحب نے بہت زمانہ پہلے ٹیوبرکولینم اور بیسیلینم کے انتخاب کے لیے ایک نکتہ ارشاد فرمایا تھا:-
اگر مسائل ای این ٹی کے ہوں تو علاج ٹیوبرکولینم سے شروع کریں
اور اگر ٹھنڈ نیچے سینے میں اتر جائے تو علاج بےسیلینم سے شروع کریں
ڈاکٹر حسین قیصرانی صاحب فرماتے ہیں کہ بے سیلینم جلد رزلٹ دیتی ہے جبکہ ٹیوبرکولینم کے اثرات لمبے ہوتے ہیں۔
میرے نزدیک جن فیملیز میں ٹی بی کی ہسٹری ہو وہاں کی جلدی بیماریوں میں بےسیلینم زیادہ اچھا کام کرتی ہے لیکن بعد ازاں ٹیوبرکولینم کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے۔

جب فیملی ہسٹری کو دیکھتے ہیں تو سانس کی تکالیف واضع پائی جاتی ہیں ۔ جب ہم مریض سے سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ کی فیملی میں ٹی بی یا دمہ کی ہسٹری رہی ہے تو وہ کہتے ہیں نہ نہ وہ تو آخری عمر میں ہوئی تھی اور ایسے لوگ سوچتے ہیں کہ یہ ڈاکٹر ہم پر ٹی بی تھونپ رہا ہے ۔ ہم نے ٹی بی کا ٹیسٹ بھی کرایا ہے لیکن ٹی بی نہیں ہے ۔ ایسے لوگ کنفرم ٹیوبرکولینم مریض ہوتے ہیں جو ٹی بی کا نام سنتے ہی بھدک جاتے ہیں اور جن کی فیملی میں سانس اور دمہ کی تکالیف واضع پائی جاتی ہوں تو ہم کہتے ہیں کہ یہ سورا میازم میں آتے ہیں جہاں سورا کا مریض ہوگا وہاں خارش اور کھجلی لازمی پائی جائے گی اور ایسے مریضوں میں کنفرم خارش اور کجھلی کا سراغ ملتا ہے یا کہیں نہ کہیں دبی ہوئی پائی جاتی ہے بس کریدنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسے مریضوں کے علاج میں نہایت احتیاط برتی جاتی ہے ۔ اب یہاں ملٹی میازمیٹک ادویات کی ضرورت پڑتی ہے جیسے سلفر ، کلکیریا کارب ، لائیکو پوڈیم وغیرہ ۔ جب ہم ان ادویات کو ایک خاص ترکیب سے استعمال کراتے ہیں تو یہ کافی ساری چیزیں نکھر کر سامنے آجاتی ہیں ۔ ایک خاص بات یہ تینوں ادویات سارے میازم کو کور کرتی ہیں ۔ دوسری طرف جائیں تو سورائینم ، ٹیوبرکولینم اور بیسی لینم خاص الخاص میڈیسن ہیں ۔ ایسے مریضوں نے زندگی کے کسی حصے میں ایلوپیتھک دوائیں بے تحاشہ استعمال کی ہوتی ہیں ۔ ٹیسٹ پر ٹیسٹ کراتے ہیں اور بہت ڈسٹرب ہوتے ہیں لیکن بیماری کسی قابو میں نہیں ہوتی۔ ایسے مریضوں کی تمام تکالیف فنکشنل یعنی سافٹ ویئر لیول کی ہوتی ہیں جو کسی ٹیسٹ میں نظر نہیں آتیں۔ کتنی عجیب بات ہے مریض کہتا ہے میں بیمار ہوں لیکن ٹیسٹ کہتے ہیں تم ٹھیک ہو۔ (ڈاکٹر حسین قیصرانی)

میٹھے کے شوقین ، انتہائی ضدی ، جھگڑالو اور بدتمیز بچے ، غصہ اور چیزوں کو توڑنے پھوڑنے کا رحجان ، کھلی ہوا کی خواہش دروازے اور کھڑکیاں کھلی رکھنا چاہے ، ایسی اونچی جگہیں جہاں خوب ہوا چلتی ہو پسند یا موٹر سائیکل کی سواری سے یا پہاڑی مقامات ، بلی کو دیکھنے یا چھونے سے کوفت خاص طور پر کتوں سے خوف ، یا کتے اور بلی کے بالوں سے الرجی

خظاب یا بال رنگنے سے سر میں دانے نکل آٸیں یا الرجی میں یہ دوا اپنا ثانی نہیں رکھتی۔

اس دوا کے مریض دبلے پتلے ، تنگ چھاتی والے ،سرخ ہونٹ لمبی پلکیں، تند و تیز اور مضبوط اعصاب کے مالک ہوتے ہیں ۔لائیکو اور سلیشیا کی طرح جسمانی طور پر کمزور لیکن ذہنی طور پر چوکس ہوتے ہے ، بھوک بہت زیادہ حتی کہ راتوں کا اٹھ اٹھ کر کھائے (فاسفورس ، سورائینم) درندوں جیسی بھوک ، اچھا بھلا کھانے کے باوجود وزن میں تیزی سے کمی ۔

ایسے مریض جن کے جسم یا خاص طور پر پشت پر بالوں کی زیادتی ہو یا پشت پر بالوں کا گچھا ، ایک بچہ عمر 14 سال جس کی فیملی ہسٹری میں کینسر تھا کا پیشاب غیرارادی طور پر خارج ہوتا رہتا تھا۔ پیمپر باندھ کر سکول بھیجا جاتا لیکن پیشاب پیمپر سے بھی لیک ہوتا رہتا علامات کی کمی تھی۔ بچے کی قمیض اتار کر دیکھا تو جسم پر بالوں کی زیادتی تھی خاص طور پر پشت پر کندھوں کے درمیان سے کمر تک بالوں کی ایک واضع لکیر تھی، مناسب وقفوں سے ٹیوبرکولینم دی گئی جس نے بہت فائدہ دیا لیکن والد نہایت کنجوس تھا بچے کا علاج نہ کرا سکا۔

ان کے کھانے میں گوشت نہ ہو تو بھوک میں تحریک پیدا نہیں ہوتی ، کوئلوں پر بھنا ہوا گوشت خاص طور پر پسند ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس دوا کے مریضوں کا میٹا بولزم نظام چربی کو زیادہ خرچ کرتا ہے اس لئے مریض چربیلی غذاؤں کو کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ اور اکثر جن خاندانوں میں ٹی بی وراثت میں پائی جاتی ہے ان کے بچوں میں چربیلی غذائیں جیسے سینے کا گوشت کھانے کا رحجان زیادہ پایا جاتا ہے ۔ (جارج وتھالکس) ایسا مریض ہنڈیا سے چربی والی بوٹیاں چن چن کر کھاتاہے۔

وارننگ:-
(پیج ہذا کسی قسم کی دوا از خود استعمال اور پریکٹس کرنے کی اجازت نہیں دیتا اگر مریض دوا کو بغیر اجازت استعمال کرتے ہیں تو وہ اپنے رسک پر ہوگا۔ کسی قسم کی سیریس کنڈیشن یا کرانک علاج کیلئے معالج سے رابطہ کریں تاکہ وہ آپ کیلئے بہتر دوا کا انتخاب کرسکے۔ شکریہ)

Address

Islamabad Airport Link Road
Rawalpindi
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Haq Homoeo Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Haq Homoeo Clinic:

Videos

Nearby health & beauty businesses


Other Health/Medical/ Pharmaceuticals in Rawalpindi

Show All