The Herbal Clinic

The Herbal Clinic health related problems and there herbal treatments, all without side effects 100% pure herbal medicines, & complete treatments

Operating as usual

27/03/2020

کورونا وائرس تحقیقات،تفصیلات و علاج علم طب کی روشنی میں...
راقم : حکیم محمد علی ملک.
اسسٹنٹ پروفیسر، اجمل طبیہ کالج، راولپنڈی. 03335555730
(COVID-19)
کورونا کے اوپر لکھنے سے پہلے بتاتا چلو کہ نیچے جو تحقیقات و تفضیلات لکھ رہا ہوں، یہ انٹرنیشنل ویب سائٹس جو چائنہ،یورپ اور پاکستان کی ہیلتھ انفارمیشن، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور نشنیل انسٹیوٹ آف ہیلتھ وغیرہ پر مبنی ہیں سے تجویز کردہ ہیں اور علاج ان سب علامات کو مدنظر رکھ کر تجویز کردہ ہیں اور بے شک اللہ تعالی ہی شفا دیتا ہے
کرونا وائرس ( COVID-19 )
کرونا وائرس (2019-nCoV) ایک متعدی اور وبائی مرض ہے جس کی پہلی مرتبہ نشاہدنی دسمبر 2019 میں چائنہ کے شہر ووہان میں ہوئی کرونا وائرس پیدا ہونے کی وجوہات جانوروں کے گوشت کھانے جیسا کہ چمگادڑ، کتا،بلی، گدھا وغیرہ اور تقریبا تمام حرام جانور اس میں شامل ہیں اور پاکستان کی ویب سائٹ نشینل انسٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق اونٹ کا گوشت کھانے سے جبکہ فقیر بلکل بھی اس بات سے متفق نہیں ہے کیونکہ اونٹ کا گوشت مسلم ممالک میں بے تحاشہ استعمال کرنے کے باوجود بھی کوئی مریض اس سے متاثر نہیں ہوا اور بقول ہیلتھ آرگنائزیشن کے پاکستان میں تمام مریض غیر ملک سے ہی بیمار ہو کر آئے ناں کہ اونٹ کے گوشت سے لہذا اونٹ کا گوشت جو کہ حلال ہے بے دریغ استعمال کر سکتے ہیں انشاء اللہ اس سے وبا نہیں پھیلی گی بلکہ مسلم ممالک میں وبا پھیلنی کی وجہ جو مریض کرونا وائرس سے بیمار ہے اس کے قریب جانے اور ساتھ کھانے سے لاحق ہوئی ہیں

کرونا وائرس اور مرض کی حقیقت:
چائنہ کی انٹرنیشنل ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق کرونا وائرس جسے COVID19 کا نام دیا گیا ہے
کوڈ 19 سے مراد کورنا وائرس سے پیدا ہونے والا نمونیا نما مرض ہے

کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی علامات:
کورونا وائرس کی انفیکشن ہونے پر ایک ہفتہ کے اندر مندرجہ ذیل مسائل ظاہر ہوتے ہیں:
نظام تنفس کے مسائل جیسا کہ کھانسی،سانس پھولنا،سانس لینے میں شدید دشواری، شدید سر درد، گلے میں درد اور اس کے ساتھ بدنی علامات میں شدید تھکاوٹ محسوس کرنا اور بخار شامل ہیں. مگر بعض مریضوں میں کورونا وائرس کی انفیکشن بڑھنے پر بھی بخار نہ چڑھنا اور بعض مریضوں میں آنکھوں کی جھلی کی سوزش اور شدت مرض یعنی کورونا وائرس کی انفیکشن بڑھنے سے قلبی تکالیف، دھڑکن تیز ہونااور سانس رک جانے سے موت واقع ہو جانا شامل ہیں. کیونکہ پھیپھڑوں میں شدید تعدیہ(Infection) کی وجہ سے پھیپھڑے آکسیجن کو جسم میں جزب کروانے سے معزور ہو جاتے ہیں.

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بنیادی ذرائع:
نظام تنفس
رابط

ترسیل بذریعہ نظام تنفس
گفتگو یعنی بات چیت کے دوران کھانسنے یا چھینکنے سے تقریبا ایک تا دو میڑ تک حساس لعابی جھلی میں داخل ہو سکتے ہیں جس سے تندرست مریض مرض نمونیا سے لاحق ہو جاتا ہے.

ترسیل کرونا بذریعہ رابطہ:
قطرات متاثرہ مریض کے کسی چیز پر جمع ہو جائے اور پھر تندرست آدمی کے ہاتھ اس متعلقہ چیز پر ٹچ ہو جائے اور وہ ہاتھ پھر منہ،ناک،آنکھ یا دیگر اعضاء کی لعابی جھلی سے مس ہو تو کورونا وائرس سے متاثر ہو جاتا ہے

وبا کو روکنے کی حفاظتی تدابیر
باہر کم نکلیں.
ذیادہ لوگ جمع نہ ہو تاکہ ترسیل بذریعہ تنفس نہ ہو
چہرے پر ماسک پہنے (صرف سرجیکل ماسک یا این 95 یا اس سے اوپر والا ہی کورونا وائرس کی روک تھام کے لیئے کار آمد ہیں لہذا سوتی یا ریشمی ماسک سے پرہیز کریں )
باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں
( بقول ورلڈ ہیتلھ آرگنائزیشن کھلے پانی میں 75 فیصد الکحل یعنی شراب والا مرکب جراثیم کش دوا ڈال کر ہاتھ دھوئے جائے )
یہ بلکل غلط اور مسلم امہ پر اپنی رائے دھونسنے والی بات ہو گی. فقط سنت سمجھ کر نمازوں کے اوقات میں ہاتھ دھونا،کھانے سے پہلے اور بعد میں دھونا،کام سے فارغ ہو کر ہاتھوں کو صاف رکھنا مطلب جو سنت طریقہ ہے بس ان پر ہی اکتفا کرنا کافی و شافی ہو گا انشاءاللہ. لہذا الکوحل کے مرکبات استعمال نہ کریں. صابن سے چہرہ اور ہاتھ اچھی طرح دھو لینا کافی ہے.

علاج...
پرہیز علاج سے ہزار گنا بہتر ہے لہذا باہر جانے کی صورت میں سرجیکل ماسک پہنے اور واپس آ کر ہاتھ اور منہ صابن سے دھوئیں اور لباس تبدیل کریں. تمام حضرات حفاظتی تدابیر خود بھی اپنائیں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں.
قابل اعتماد اور مستند ذرائع سے ہی معلومات حاصل کریں اور وباء کو معقول انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں اور افواہوں پر دھیان نہ دیں اور نہ ہی ان پر یقین کریں.

طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور حفاظتی ٹوٹکہ...
انجیر خشک 3 عدد
کلونجی 1 چٹکی
سوگی (کشمش) دیسی 20 گرام
بوقت صبح نہار منہ یا بوقت عصر نیم گرم پانی میں شہد ملا کر پی لیں.
اس کا استعمال آپ کی قوت مدافعت کو مظبوط کرے گا اور کرونا وائرس کی وبا سے محفوظ رکھے گا، انشاءاللہ اور اگر خدانخواستہ مرض لاحق ہو جائے تو نیچے والی ادویات سے فائدہ اٹھائیں.

ھو الشافی
اجزاء
زعفران 1گرام
عناب 35 گرام
لسوڑیاں 20 گرام
خطمی بیج 15 گرام
تخم جبازی 15 گرام
انجیر خشک 50 گرام
ملٹھی 30 گرام
زوفا 30 گرام
پروسیشاں 25 گرام
پانی 2 کلو
شکر دیسی 750 گرام
شہد خالص 250 گرام
طریقہ تیاری :
اوپر والی تمام ادویہ رات کو پانی میں بھگو کر اور صبح ہلکی آنچ پر رکھ دیں جب1لیٹر پانی رہ جائے تو مل چھان کر شکر اور شہد ملا کر حسب دستور شربت بنا لیں
طریقہ استعمال
تین بڑے کھانے کے چمچ 1کپ گرم پانی میں ملا کر دن میں 4 تا 5 مرتبہ پلائیں اور ممکن ہو تو اس کی بھاپ بھی دیں.
اور اس کے ساتھ خمیرہ بنفشہ میں کشتہ بارہ سنگا ایک رتی ملا کر صبح و شام دیں انشاءاللہ ہفتہ عشرہ میں مریض شفایاب ہو گا.
مزید کسی بھی راہنمائی کے لئیے رابطہ کر سکتے ہیں. 03335555730

Clinic Plus Healthcare Center
08/02/2020

Clinic Plus Healthcare Center

گھٹنوں سے آوازیں کیوں آتی ہیں..؟

نوکنگ ، پوپپنگ ، نوائزی گھنٹوں کی آوازیں پچاس سال سے اوپر ہر دوسرے شخص کے گھٹنوں سے اٹھتے، بیٹھتے آوازیں آتی ہیں۔
کبھی کبھی زیادہ وزن کے نوجوان بھی گھٹنے کی آوازیں محسوس کرتے ہیں۔
عام طور پر یہ آوازیں سننے والے کو پریشان کر دیتی ہیں
اور خوف آتا ہے کہ، اندر کہیں کچھ ٹوٹ پھوٹ تو نہیں ہوگئی.. ؟

اس شعبے کے ماہرین بتاتے ہیں بغیر درد کے آنے والی آوازیں بالکل بے ضرر ہیں چاہے وہ کسی بھی ایج میں آئیں۔

یہ آواز پوپپنگ نوکنگ جیسی ہوتی ہےجیسے پوپ کورن کے پکتے وقت یا دروازہ کھلتے بند ہوتے وقت آتی ہیں
لیکن اگر آوازوں کے ساتھ ساتھ درد بھی ہوتو پھر ان آوازوں پر کان دھرنا چاہیے۔

🔹️ سب سے پہلے وزن کی فکر کرنی چاہیے۔
کیونکہ اگر زیادہ وزن والے افراد گھٹنوں کے درد کی شکایت کریں تو ان کی مثال ایسے ہی ہے کہ انہوں نے مکان کا نقشہ تو پاس کرایا تھاگراؤنڈ پلس ون، دو منزل کا
لیکن عمارت کھڑی کر لی چار منزلہ..!
اب بنیادیں شور تو کریں گی..!
اگر گھٹنوں کی آوازیں درد کے ساتھ ہیں تو سب سے پہلے وزن کم کیجئے۔

🔹️اس کے ساتھ ساتھ ورزش کی عادت ڈالیں۔
ایک بہت آسان اور مفید ورزش یہ ہےکہ اپنے بیڈ پر الٹے لیٹ جائیں پیٹ کے بل اور دونوں پیروں کو ملا کر کسی ململ کے کپڑے سےباندھ لیں اور دونوں ٹانگیں اپنی کمر کی طرف بند کریں۔
👈نوٹ
ابتداء میں ہر ورزش بہت آہستہ شروع کی جانی چاہیے
پہلے دو چار دن صرف دو سے تین منٹ کیجئےاور جس قدر آسانی سے موڑا جا سکتا ہو موڑیں زورہرگز نہ لگائیں۔
جب پریکٹس ہو جائے تو ایک سیشن کا دورانیہ پندرہ منٹ تک کیا جانا چاہیئے۔

🔹️اس کے ساتھ ساتھ گھٹنوں کی بیک پر سرسوں یا زیتون کے تیل سے مالش کرائیں خود بھی کر سکتے ہیں۔
نہانے سے پہلے گھٹنوں پر تیل کی مالش کو زندگی بھر کے لیے لازم کر لیں۔

🔹️ایک عادت مستقل بنا لی جائے بستر، صوفہ، کرسی، کموڈ، اور ٹوائلٹ سےاٹھتے وقت اپنا سر، کندھے اوپر کا پورا دھڑآگے کی جانب جھکا لیں جس قدر ممکن ہو آگے کی طرف جھک کر اٹھیں اس دوران دونوں گھٹنوں پر ہاتھ رکھ لیں کسی حد تک یہ کرسی پر نماز ادا کرتے وقت رکوع کرنےوالی پوزیشن ہےاس طرح اٹھنے سے آوازیں کم سے کم ہوجائںں گی یقینی بات ہے یہ بھی پریکٹس سے آسان ہوتا جائے گا۔

🔹️اپنی غذا میں بادی اشیاء سے پرہیز کریں۔
یعنی چاول، آلو، بیف ،بیکری کی سب چیزیں سفید چینی ،سفید آٹا ،سفید فارمی مرغی ہر وہ چیز جوپیٹ میں گیس پیدا کرتی ہےگھٹنوں کے درد کی بہت بڑی وجہ ہے۔

👈گھٹنوں کی شدید تکلیف دہ صورتحال میں کسی مستند حجامہ تھراپسٹ سے حجامہ ضرور کروا لیں۔
اس سے آپ جوڑ کی تبدیلی جیسے میجر آپریشن سے بچ سکتے ہیں ۔

اللہ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے آمین۔
گھٹنوں کی تکالیف کے بہت سےقدرتی علاج موجود ہیں۔
دنیا میں کوئی بیماری لاعلاج نہیں اپنے کھانے پینے، سونےجاگنے، چلنے پھرنےاور سوچنے کے انداز میں مثبت تبدیلی سےہر تکلیف میں کمی آسکتی ہے۔

01/02/2020

Chiropractic adjustment and pain relief

say No to Arthritis Pains. 100% Satisfactory results without side effects
15/01/2020

say No to Arthritis Pains. 100% Satisfactory results without side effects

say good bye to spine surgery....#CHIROPRACTIC_THERAPY  now available in Pakistan by Foreign Qualified experts.
14/01/2020

say good bye to spine surgery....
#CHIROPRACTIC_THERAPY now available in Pakistan by Foreign Qualified experts.

29/12/2019

ایک حدیث قدسی میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ "تم مجھے جیسا گمان کرو گے ویسا ہی پاؤ گے".

ہالی وڈ نے ایک ڈاکومنٹری فلم بنائ " The Secret" کے نام سے جو کہ Law of Attraction پر مبنی ہے اور اس کی بہت خوب صورت تشریح ہے. انٹرویوز, ویڈیوز, واقعات, تھیوری, حالات اور تدبیر پر مبنی یہ فلم دیکھنے لائق ہے. اس فلم کو دیکھ کر آپ با آسانی اپنی زندگی بدلنے کا فن جان سکتے ہیں.

لاء آف اٹریکشن کیا ہے؟
ہم اسکی مدد سے اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ کیسے دے سکتے؟

لاء آف اٹریکشن یہ ہے کہ ایک جیسی چیزیں ایک دوسرے کو اٹریکٹ کرتی ہیں۔ جیسے مقناطیس صرف اپنی ہی ساخت کی دھات کو اٹریکٹ کرتا ہے اسی طرح قائنات کی ہر مادی اور غیر مادی چیز اپنی ہی جیسی چیزوں کو اٹریکٹ کرتی ہے. اس نظریے کے تحت ہم اپنی سوچ کے صحیح استعمال سے اپنی من پسند چیزیں اٹریکٹ کر سکتے ہیں جیسے خوشی, سکون, کامیابی اور خوشحالی وغیرہ.

جب ہم کچھ سوچتے ہیں تو ہماری سوچ احساسات کی شعائیں پیدا کرتی ہے جو لہروں کی صورت میں فضاء میں تحلیل ہوتے ہیں اور قائنات کے اطراف سے ٹکرا کر اس جیسے واقعات،حالات،اور مواقع اٹریکٹ اور پیدا کرتے ہیں.

احساسات یا سوچ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ مثبت اورمنفی

اگر آپ کچھ بھی سوچ رہے ہیں اور اس سوچنے کی وجہ سے آپ کے احساسات منفی ہورہے ہیں تو وہ دوسروں تک پہنچ رہے, قائنات کے کونے کونے میں پہنچ رہے ہیں, یہ سوچ کی لہریں قائنات میں گردش کر رہی ہیں اور اسی طرح کے حالات اور واقعات پیدا کر رہی ہیں۔ ہم یہ کام لاشعوری طور پر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب ہم یہ سمجھ جاتے ہیں کہ ہم نے اپنے احساسات یا سوچ کو کیسے کنٹرول میں رکھنا ہے تو پھر لاء آف اٹریکشن کو مینج کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اگر ایک دن میں ہمارے زہن میں ساٹھ ہزار خیال آتے ہوں۔اتنے زیادہ خیالات کو مینج نہیں کیا جا سکتا یہ بات سچ ہے۔دنیا کا کوئی بندہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اتنے زیادہ خیالات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ ہم اپنے احساسات کو مینج کر لیں۔اب ہوتا کیا ہے اگر آپ اچھا محسوس کر رہے ہیں تو خیالات بھی اچھے ہی آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کی صبح کا اغاز اچھا نہیں ہوتاتو سارا دن بھی خراب گزرتا ہے۔

آسان الفاظ میں لاء آف اٹریکشن یہ کہتا ہے کہ اگر آپ زندگی میں خوشی چاہتے ہیں تو خوشی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سوچیں, ان شاء اللہ خوشی اٹریکٹ ہو گی اور خوشی مل کر رہے گی, اور اگر کامیابی چاہتے ہیں تو اس کے بارے میں سوچیں تو کامیابی اٹریکٹ ہو گی. دولت چاہتے ہیں تو اس کو ہی سوچیں تو دولت آپ کے مقدر میں ہو گی.

بس اتنا سا فلسفہ ہے لاء آف اٹریکشن کا.

لیکن ہم غلطی یہاں کرتے ہیں کہ چاہتے تو ہم خوشی ہیں لیکن سوچتے ہر وقت اپنی مشکلات کو ہیں کہ کبھی خوشی نہیں ملی, ہمیشہ غم ہی ملا وغیرہ وغیرہ. اس کی جگہ یہ سوچیں کہ ان شاء اللہ جلد ہی بہت خوشی ملے گی, اور جب خوشی نصیب ہو گی تو ایسا ماحول ہو گا, ہم ایسے ایسے اعمال کریں گے وغیرہ وغیرہ.

اسی طرح چاہتے تو ہم صحت ہیں لیکن سوچتے سارا دن بیماری کو ہیں تو صحت کیسے اٹریکٹ ہو گی.

ہماری چاہت اور سوچ متضاد ہیں. اگر ہم اپنی سوچ کو چاہت کے مطابق کر لیں تو ہم لاء آف اٹریکشن کے تحت اپنی چاہت کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں.

اور سب سے اہم بات کہ یہ یقین پیدا کریں کہ ایسا ممکن ہے,
لاء آف اٹریکشن سے میرے خیالات اور حالات بدل سکتے ہیں. یقین پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس تھیوری کو سجھ جائے ،جانا جائے۔

د ی سیکریٹ اس موضوع پر بنائ گئی ایک شاندار فلم ہے جو اس موضوع پر بننے والی پہلی فلم ہے. کوشش کریں اس فلم کو زندگی میں کم از کم ایک بار ضرور دیکھیں بلکہ اپنے چاہنے والوں کو بھی دکھائیں. انٹرنیٹ سے ڈاؤنلوڈ کی جا سکتی ہے. اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ لاء اف اٹریکشن دور حاضر کا وہ علم اور اصول ہے جس سے آپ کوئی بھی کام لے سکتے ہیں.

اس فلم میں یہ نظریہ بھی دیا گیا ہے کہ ہماری زندگی میں جو بھی opportunities آتی رہتی ہیں اگر ہم ان opportunities کو avail کرتے رہیں تو یہ ساری زندگی آتی ہی رہتی ہیں اور اگر ہم ان کو reject کرنا شروع کر دیں تو ایک خاص حد کے بعد ہماری زندگی میں opportunities آنا ہی بند ہو جاتی ہیں. جیسا کہ بعض والدین بہترین سے بہترین رشتے کی تلاش میں جب آنے والے متعدد رشتوں کو انکار کرتے رہتے ہیں تو ایک وقت کے بعد رشتے آنے ہی بند ہو جاتے ہیں. اسی طرح بہترہن سے بہترین نوکری کی تلاش میں اپنی چاہت سے کم والی نوکریوں کو چھوڑتے رہتے ہیں تو ایک وقت ایسے آتا ہے کہ نوکریاں ملنا ہی بند ہو جاتی ہیں اور پھر وہ لوگ سوچتے ہیں کہ کاش وہ والی نوکری کر لی ہوتی یا فلاں رشتہ کر لیا ہوتا.

فلم کے بنیادی نظریے "جیسا سوچو گے ویسا پاؤ گے" کے تحت جب میں نے غور کیا تو مجھے یہ انکشاف ہوا کہ انگریزوں کی بنائ ہوی یہ فلم تو بلکل حدیث قدسی کی تشریح ہے.

حدیث قُدسی: ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں : "میرا بندہ مجھ سے جو توقع رکھتا ہے اور جیسا گمان اس نے میرے متعلق قائم کر رکھا ہے ویسا ہی مجھے پائے گا۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے تنہائی میں یاد کرتا ہوں ۔ اگر وہ کسی جماعت کے ساتھ بیٹھ کر مجھے یاد کرتاہے تو میں اس سے بہتر جماعت میں اس کو یاد کرتاہوں۔ اگر وہ میری طرف بالشت بھر بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف چار بڑھتا ہوں اور اگر وہ میری طرف آہستہ آہستہ آتا ہے تو میں اُس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔" (بخاری ومسلم ).

اس نظریے کو اپنائیں, ہمیشگی اختیار کریں اور نتائج خود دیکھیں. یہی اللہ نے ہمیں کرنے کو کہا ہے بیان کردہ حدیث پاک میں.

اللہ پاک ہم سب کو کامیاب, خوشحال اور صحت و ایمان والی زندگی عطا فرماۓ. آمین.
طالب دعا: محمد علی ملک

05/11/2019
23/09/2017

#بُقراط

ترکی اور یونان کے درمیان بحیرہ ایجیئن Aegean Sea واقع ھے۔ اس میں چھوٹے چھوٹے کئی جزیرے ھیں۔ جن پر کبھی یونان، کبھی اٹلی اور کبھی ترکیہ کی حکومت رھی ھے۔ ان میں سے ایک جزیرے کا نام کوس (Cos) ھے۔ جو ایشیائے کوچک کے ساحل کے نزدیک واقع ھے۔ اسی جزیرے میں بقراط کی ولادت 460 قبل مسیح میں ھوئی۔ یہ وھی زمانہ تھا جب یونان کو بہت عروج حاصل تھا اور کئی دیگر نامور ہستیاں مثلاً Demo Crates دمقراط، سقراط Socrates اور افلاطون Plato اسی زمانے کی پیداوار ھیں۔ تاریخ کی ستم ظریفی کہہ لیں یا کچھ اور، بقراط کے اولین دور یعنی بچپن اور ابتدائی تعلیم کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ البتہ اتنا معلوم ھے کہ بقراط کے دور میں توھم پرستی اور جادو ٹونے کا بہت رواج تھا۔ اس دور میں بیماریوں کو دیوتاؤں کی نافرمانی کی وجہ سے آیا ھوا عذاب سمجھا جاتا تھا۔ جسکے لئے انسانوں اور جانوروں کی قربانی بھی دی جاتی تھی تاکہ دیوتا خوش ھو کر اپنے عذاب کو ھٹا لیں۔ بقراط نے اس دور میں ان توھمات کی نفی کی اور ان عقائد کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ھوئے بیماریوں کو جادو، آسیب اور تعویذ گنڈوں کے اندھیروں سے نکال کر سائنسی بنیادوں پر قائم کیا۔ اور انکے علاج معالجہ کے دوران انسانی جسم کی ساخت اور اسکے مختلف اعضاء کو سمجھنے کی کوشش کی۔ بقراط نے اس عقیدے کی سخت تغلیط کی کہ امراض آفاتِ سماوی ھیں۔ جو نیک لوگوں کی آزمائش اور برے لوگوں کی سزا کیلئے بھیجی جاتی ھیں۔ بقراط کی قوّتِ مشاھدہ نہایت عمیق اور مشاھدات و تجربات سے مثبت نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت بے پناہ تھی۔
حکیم بقراط نے سب سے پہلے پانی کے مزاج کے بارے میں بتایا۔ اسنے مختلف جگہوں سے پانی کا انسانی جسم پر اثر بیان کیا۔ وہ کسی بھی علاقے کا پانی پی کر اس علاقے کے لوگوں کا مزاج بتا دیا کرتا تھا۔ اس نے اپنے گھر کے ساتھ ھی ایک چھوٹا سا باغ بنایا ھوا تھا، جہاں وہ مریضوں کا علاج کیا کرتا تھا۔ اس باغ کا نام اسکی زبان میں #بیمارستان تھا۔ یہ غالباً دنیا کا سب سے پہلا ہسپتال تھا، جسے تاریخ نے اپنے سینے میں محفوظ رکھا ھے۔ (اسی بیمارستان کو موجودہ دور میں ہسپتال کہتے ھیں)۔
حکیم بقراط ایک خوش دل، سنجیدہ طبیعت اور بردبار شخص تھا۔ وہ اپنے دور میں اتنی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا کہ لوگ اسے دیوی دیوتاؤں کی اولاد سمجھتے تھے۔ اسکے بیمارستان میں کئی ایک بار اسکے مخالفین اور دشمن بھی آئے، جنہیں بقراط اگر چاہتا تو بغض کی بنا پر موت کے منہ میں دھکیل دیتا، مگر وہ اپنے مریض کا علاج کرنے کے دوران یہ بات بھول جاتا کہ وہ اسکا دوست ھے یا دشمن۔ اسنے محسوس کر لیا کہ اگر معالج یا طبیب بغض و عناد دل میں رکھے گا، تو مریضوں کی موت یا غیر تسلی بخش علاج ممکنات میں سے ھے۔ اسی شک کی بنا پر اسنے اپنے شاگردوں کو مریضوں سے متعلق کچھ نصیحتیں کیں اور ساری زندگی ان پہ کاربند رہنے کا حلف لیا۔ جب بھی کوئی شاگرد بقراط کے پاس طب سیکھنے کیلئے آتا، تو وہ اس کو شاگرد بنانے سے پہلے ایک حلف لیتا۔ جسکے مطابق مریض کا علاج بغیر کسی تعصب، رنگ، نسل، قوم اور ملک کے، پوری ایمانداری سے کرنا ھوتا۔
مریضوں کے علاج معالجہ، ان کی فلاح و بہبود اور ان سے مشفقانہ برتاؤ و سلوک کے متعلق اسنے جو اصول مرتب کئے، انکی اھمیت آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی دائم و قائم ھے۔ اور آج بھی پیشۂ طب میں ھر نَو وارد کیلئے عہدنامۂ بقراط Hippocratic Oath کی تصدیق و توثیق لازمی ھے۔ اسکی موت 377 قبل مسیح میں ھوئی۔ اپنی موت سے قبل بقراط نے وصیت کی کہ اسکی قبر میں اسکے جسم کے ساتھ لوھے کا ایک چھوٹا سا صندوق بھی دفن کیا جائے جو کہ اسنے اپنے پاس سنبھال کر رکھا ھوا تھا۔ بقراط کی موت کے کئی سال بعد سکندر رومی جولیئس سیزر کا اسکی قبر کے پاس سے گزر ھوا۔ جولیئس سیزر کو بتایا گیا کہ یہ حکیم بقراط کی قبر ھے۔ سیزر نے اپنے دور کے نامور حکیموں سے بقراط کی بہت تعریف سنی تھی۔ اور وہ بقراط کا بہت بڑا مداح بھی تھا۔ سیزر نے حکم دیا کہ بقراط کی قبر اکھاڑ دی جائے تاکہ اس عظیم ہستی کے شایانِ شان ایک عظیم الشان مقبرہ تعمیر کیا جا سکے۔ جب بقراط کی قبر اکھاڑ دی گئی، تو قبر میں سے لوھے کا ایک چھوٹا سا صندوق برآمد ھوا۔ جب اسے کھولا گیا تو یونانی زبان میں کچھ تحریریں لکھی ھوئی تھیں۔ سیزر نے جلد ھی ان تحریروں کا اپنی زبان میں ترجمہ کروایا۔ ترجمہ کروانے کے بعد سیزر کو معلوم ھوا کہ حکیم بقراط نے موت کی پچیس نشانیوں کی نشاندھی کی ھوئی تھی۔ جس شخص میں بھی ان پچیس نشانیوں میں سے ایک نشانی بھی مل جاتی، اس شخص کی موت یقینی ھو جاتی۔ سیزر اپنی موت تک کسی شخص کو دیکھ کر بتا سکتا تھا کہ اسکی موت عنقریب واقع ھو جائے گی۔ زمانے کی ستم ظریفی اور تاریخ کی پرواہ نہ کرنے والوں کی وجہ سے وہ پچیس نشانیاں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں، مگر حکیم بقراط کا نام آج بھی زندۂ جاوید ھے۔ کچھ مسلمان سکالرز کا خیال ھے کہ قرآن مجید میں جس حکیم لقمان کا ذکر آیا ھے، وہ حکیم بقراط ھی ھے۔
علمِ طِب کو سائنسی بنیادوں پر قائم کرنے اور فروغ دینے کی وجہ سے بقراط کو صحیح معنوں میں طِب کا بانی قرار دیا گیا ھے۔

تحریر: #میربَبَّرعلی ممبر پوسٹ گریجویٹ ریسرچ لائبریری

09/08/2017

Kal Hijamah ki Masnoon tarikh 17 Dhulqada hay.

حجامہ؛ پچھے لگوانا

حجامہ عربی زمان کا لفظ ہے جس کے معنی کھینچنا / چوسنا کے ہیں۔ اس کو اردو میں پچھنا لگانا یا سنگی لگواناکہتے ہیں۔حجامہ دنیا میں تیزی سے مقبول ہوتا ہوا اسلامی طریقہ علاج ہے جسے مغربی ممالک اور غیر اسلامی ممالک میں (کپینگ تھراپی ) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ اسلام کی ایجاد نہیں ہے لیکن رسول اکرم ﷺ نے اسی کو اختیار کیا اور پسند فرمایا اس طریقہ علاج میں مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے جسم کے مختلف مقامات پر ہلکی ہلکی خراشیں لگا کر مخصوص قسم کے ٹرانسپیرنٹ کپ لگا دئیے جاتے ہیں خراش لگی ہوئی جگہوں سے خون کی بوندیں نکل کر کپ میں جمع ہوتی ہیں جنہیں پھینک دیا جاتا ہے۔ اور مریض خود کو ہلکا پھلکا اور تر و تازہ محسوس کرنے لگتا ہے ساتھ ہی اس کا مرض بھی دور ہوجاتا ہے۔
حجامہ کی تاریخ
حجامہ سے علاج کا طریقہ تین سو سال قبل مسیح سے بھی پرانا ہے۔اس طریقہ علاج کا ذکر ابرس پپرسنامی کتاب میں بھی ہے۔ جو 1550 قبل مسیح کی مشہور طبعی کتاب ہے۔
اسلام میں حجامہ کا مقام
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے اور ایک بہترین علاج بھی ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود پچھنے لگوائے اور دوسروں کو ترغیب دی ۔ امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں حجامہ پر پانچ ابواب لائے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب معراج پر تشریف لے گئے تو ملائکہ نے ان سے عرض کی کہ اپنی امت سے کہیں کہ وہ پچھنے لگوائیں
ترجمہ: حبارہ بن مغلس، کثیر بن سلیم، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شب معراج میں جس جماعت کے پاس سے بھی میں گزرا اس نے یہی کہا اے محمد! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی امت کو پچھنے لگانے کا حکم فرمائیے
حجامہ کی افادیت
سستا طریقہ علاج حجامہ کے ذریعے کینسر، بانجھ پن،نفسیاتی امراض، پوشیدہ امراض سمیت لاتعداد ایسے امراض کا علاج بھی کم مدت اور انتہائی کم پیسوں میں کیا جاسکتا ہے جس کے لئے لوگ دس دس یا پندرہ پندرہ لاکھ روپے خرچ کردیتے ہیں اور علاج پھر بھی نہیں ہو پاتا ۔حجامہ کے ذریعے ایسے تمام امراض کا خاتمہ محض چند ہزار روپوں میں کیا جا سکتا ہے۔
کم مدت میں علاج
حجامہ کے نتائج فوراً ہی ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔عام طور پر اگر کسی کو کوئی بیماری نہیں ہے اور وہ سنت نبوی ﷺ کے طور پر حجامہ کرواتا ہے تو حجامہ چند منٹوں میں ہی وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتا ہے۔ ہر صحت مند انسان کو مہینے میں ایک بار سنت کے طور پر گدی پر حجامہ ضرور کروانا چاہئیے جس سے 72 ایسی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے جن کا عام طور پر انسان کو خود بھی علم نہیں ہوتا۔ دیگر علاج کے طریقوں میں مریض مسلسل زیرِ علاج رہتا ہے ، دواؤں کا ستعمال کرتا رہتا ہے اور پرہیز بھی جاری رہتا ہے۔ لیکن حجامہ میں بیماری کی نوعیت کے مطابق مریض کو 7 دن 10 دن یا 15 دن بعد بلایا جاتا ہے اور چند ملاقاتوں میں بڑے سے بڑے امراض کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔
تکلیف
چونکہ حجامہ میں کپ لگانے سے پہلے کپ لگائے جانے والے مقام پر ہلکی ہلکی خراشیں لگائی جاتی ہیں تاکہ وہاں سے خون کی بوند باہر آسکے اس لئے عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک تکلیف دہ عمل ہوگا جبکہ حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے حجامہ عام طور پر پشت پر کیا جاتا ہے۔
‫مریض کو اس وقت حیرت ہوتی ہے جب اسے پتا چلتا ہے کہ یہ عمل مکمل ہو چکا ہے اور اسے کوئی تکلیف بھی نہیں ہوئی
حجامہ احادیث کی روشنی میں
حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا شفاء تین چیزوں میں ہے ۔حجامہ لگوانے،شہد پینے اور آگ سے داغنے میں ہے ۔میں اپنی اُمت کو آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں
بخاری ص۸۴۸ ج زادالمعاد ص ۵۵۰ طبع بیروت
حضرت ابنِ عباس سے مروی ہے آپ ﷺ نے ایک مرتبہ حجامہ لگوایا حالانکہ آپ ﷺ روزے سے تھے۔ (بخاری ص ۸۴۹ ج ۲ )۔
حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ نے اپنے سر مبا ر ک پر حجا مہ لگوایا۔ بخاری ص ۸۴۹ ج ۲
حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ نے اپنے سر مبا ر ک پر حجا مہ لگوایا۔ بخاری ص ۸۴۹ ج ۲ )
· حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول پاکﷺ کو فرماتے سنا اگر تمہا ری دواوْں میں کسی میں خٰیر ہے تو شہد پینے ،اورحجامہ لگوانے، اور آگ سےداغے میں لیکن میں آگ سے داغے کو نا پسند کرتا ہوں۔ بخاری ص۸۵۰ ج
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ جس شخص نے چاند کی ۱۷،۱۹اور ۲۱ تا ر یخ کو حجامہ لگوایا اس کے لیے ہر مرض سے شفا ء ہو گی۔
ابو داؤد ص ۱۸۳ ج ۲ ۔ذادالمعاد۵۵۳ بیروت
حضرت امام احمد بن حنبلؒ کو کسی مرض میں اس کی ضرورت پیش آئی تو آپ نے گُدی کے دونو ں جانب حجامہ کروایا۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ ہر اس موقع پر جب خون میں جوش ہو حجامہ کرواتے تھے۔اس کے لیے نا وقت اور ساعت کسی چیز کا لحاظ نہیں کیاجائے گا.
ایک روایت میں ہے کہ طبیبِ اعظم ﷺ نے فرمایا بہترین علاج حجامہ لگوانا ہے۔آپﷺ نے سر مبارک میں پچھے یعنی حجامہ کروایا کیونکہ آپﷺ کے سراقدس میں درد تھا ( دردِشقیقہ یعنی آدھے سر کا درد )۔ · جس کسی نے طبیب اعظم ﷺ سے درد کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے گردن اور مونڈھوں پر حجامہ کروانے کا حکم فرمایا۔ جب طبیب اعظم ﷺ کو زہر دیا گیا تو آپ ﷺ نے گردن اور مونڈھوں پر حجامہ کروایا۔ سراالسادات · جب طبیب اعظم ﷺ پر یہودیوں نے جادو کیا تو آ پ ﷺ نے اپنے سر اقدس پر حجا مہ کروایا۔ اس حدیث سے معلو م ہوا کہ حجامہ کروانا جادو اور زہر کے لیے بھی مفید ہے۔ · ایک حدیث میں ہے کہ تم گُد ی کی ہڈی کے غبار پر حجا مہ لگوا ؤائیں.
.......
” امْتِصَاصُ الدَّمِ بِالْمِحْجَمِ “
حجامت” امْتِصَاصُ الدَّمِ بِالْمِحْجَمِ “ کو کہتے ہیں۔ (القاموس الفقهی: 78) یعنی آلہء حجامت کے ذریعہ خون کا چوس لینا ۔ اِس کو سینگی لگوانا بھی کہتے ہیں، یہ ایک بہترین طریقہ علاج ہے، جس کے ذریعہ سے جسم کے فاسد مادّوں کو اخراجِ دم کے ذریعہ نکال دیا جاتا ہے، احادیثِ کثیرہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حجامت کا ثبوت ملتا ہے ۔
حجامت ایک بہترین طریقہ علاج:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجامت کو بہترین طریقہ علاج قرار دیا ہے اور اِس کے فوائد و منافع ذکر کیے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی مرتبہ خود بھی حجامت کروانا ثابت ہے اور آپ نے اِس کی امّت کو تلقین بھی فرمائی ہے۔ چند روایات ملاحظہ ہوں:
آپﷺ کا ارشاد ہے: بہترین علاج جسے تم اختیار کرتے ہو وہ حجامت لگوانا ہے اور قسط البحری یعنی سمندری جڑی بوٹی سے علاج کرنا ہے۔
إِنَّ أَمْثَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الحِجَامَةُ، وَالقُسْطُ البَحْرِيُّ.
(بخاری: 5696)۔
إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍمِمَّا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ.
(ابوداؤد:3857)
إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ، فَالْحِجَامَةُ.
(ابن ماجہ : 3476)
هُوَ مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ
(مسند احمد: 20172)
حجامت کرنے والا کیا ہی بہتر آدمی ہے، خون لے جاتا ہے، کمر کو ہلکا کرتا ہے اور آنکھوں کو تیز کرتا ہے۔
نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ، يَذْهَبُ بِالدَّمِ، وَيُخِفُّ الصُّلْبَ، وَيَجْلُو الْبَصَرَ.
(ابن ماجہ : 3478)
نبی کریم ﷺ جب معراج کی شب آسمان پر تشریف لے گئے تو آپﷺفرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے سب نے آپ سے ملاقات میں یہی کہا کہ اپنی امّت کو حجامت کی تلقین فرمائیے۔
مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي، بِمَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، إِلَّا كُلُّهُمْ يَقُولُ لِي: عَلَيْكَ، يَا مُحَمَّدُ بِالْحِجَامَةِ.(ابن ماجہ : 3477)مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلَإٍ، إِلَّا قَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، مُرْ أُمَّتَكَ بِالْحِجَامَةِ.
(ابن ماجہ : 3479)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ حضرت مقنّع کی عیادت کی ، پھر فرمایا کہ میں اُس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک آپ حجامت نہیں کروائیں گے ، اِس لئے کہ میں نے نبی کریمﷺسے سنا ہے کہ اِس میں شفاء ہے۔
أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: عَادَ المُقَنَّعَ ثُمَّ قَالَ: لاَ أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ فِيهِ شِفَاءً.
(بخاری:5697)
پچھنے کِن تاریخوں میں لگوائے جائیں؟
مہینہ کے شروع کے دنوں میں انسان کا خون جوش میں ہوتا ہے اور آخر کی تاریخوں میں بہت ہلکا پڑجاتا ہے ، اِس لئے مہینہ کا درمیانہ حصہ سینگی لگانے کے لئے زیادہ مناسب ہے، اور مہینہ کے آخری نصف میں لگوانا پہلے نصف کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہے ۔(عین المعبود:10/244)
نبی کریم؛ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس نے مہینہ کی سترہ، انیس اور اکیس تاریخ میں پچھنے لگوائے تو یہ ہر بیماری سے شفاء ہوجائے گی۔مَنْ احْتَجَمَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ، وَتِسْعَ عَشْرَةَ، وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ، كَانَ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ.
(ابوداؤد:3861) ۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُ يَوْمٍ تَحْتَجِمُونَ فِيهِ سَبْعَ عَشْرَةَ، وَتِسْعَ عَشْرَةَ، وَإِحْدَىوَعِشْرِينَ.
(مسند احمد: 3316)
مَنْ أَرَادَ الْحِجَامَةَ، فَلْيَتَحَرَّ سَبْعَةَ عَشَرَ، أَوْ تِسْعَةَ عَشَرَ، أَوْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَلَا يَتَبَيَّغْ بِأَحَدِكُمُ
الدَّمُ فَيَقْتُلَهُ.
(ابن ماجہ : 3486)

For Hijama appointments in rwp.
030855333900

Address

Near Muslim High School, Ajmal Tibbia College, Saidpur Road
Rawalpindi
46000

Opening Hours

Monday 16:00 - 20:00
Monday 10:00 - 14:00
Tuesday 16:00 - 20:00
Tuesday 10:00 - 14:00
Wednesday 16:00 - 20:00
Wednesday 10:00 - 14:00
Thursday 16:00 - 20:00
Thursday 10:00 - 14:00
Friday 16:00 - 20:00
Friday 10:00 - 14:00
Saturday 16:00 - 20:00
Saturday 10:00 - 14:00

Telephone

+92 333 5555730

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Herbal Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to The Herbal Clinic:

Videos

Nearby health & beauty businesses


Other Healthcare Administrators in Rawalpindi

Show All