Dietitian M Shaheer

Dietitian M Shaheer Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dietitian M Shaheer, Medical and health, Shah Faisalabad.

05/06/2018
Uppal Forum

Uppal Forum

"سرن تاریخ کا سب سے بڑا انسانی معجزہ ہے‘ آپ اگر انسانی کوششوں کی معراج دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ زندگی میں ایک بار سرن ضرور جائیں‘ آپ حیران رہ جائیں گے لیکن سرن ہے کیا؟ ہمیں یہ جاننے سے قبل کائنات کے چند بڑے حقائق جاننا ہوں گے۔
ہماری کائنات 13ارب 80 کروڑ سال پرانی ہے‘ زمین کو تشکیل پائے ہوئے پانچ ارب سال ہو چکے ہیں‘ ہماری کائنات نے ایک خوفناک دھماکے سے جنم لیا تھا‘ یہ دھماکہ بگ بینگ کہلاتا ہے‘ بگ بینگ کے بعد کائنات میں 350ارب بڑی اور 720 ارب چھوٹی کہکشائیں پیدا ہوئیں‘ ہر کہکشاں میں زمین سے کئی گنا بڑے اربوں سیارے اور کھربوں ستارے موجود ہیں‘ یہ کائنات ابھی تک پھیل رہی ہے‘ یہ کہاں تک جائے گی‘ یہ کتنی بڑی ہے اور اس میں کتنے بھید چھپے ہیں ہم انسان تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود اس کا صرف 4فیصد جانتے ہیں‘ کائنات کے96فیصد راز تاحال ہمارے احاطہ شعور سے باہرہیں۔
یہ96 فیصد نامعلوم بھی دو حصوں میں تقسیم ہیں‘ 44فیصد حصہ وہ ہے جس کے بارے میں ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم اسے نہیں جانتے‘ سائنس دان اس 44 فیصد حصے کو ’’ڈارک میٹر‘‘ کہتے ہیں‘ یہ ڈارک میٹر سپر انرجی ہے‘ ہمارا سورج اس انرجی کے سامنے صحرا میں ذرے کے برابر ہے‘ سائنس دان کائنات کے باقی 52 فیصد نامعلوم کے بارے میں کہتے ہیں ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ہم اسے نہیں جانتے‘ ہمیں کائنات کو سمجھنے کے لیے اس کی بنیاد سمجھنا ہو گی۔
یہ جاننا ضروری ہے بگ بینگ کیسے اور کیوں ہوا تھا اور اس کے فوری بعد کیا ہوا تھا جس سے کائنات نے جنم لیا ‘ انسان کے پاس یہ حقیقت جاننے کے لیے دو طریقے ہیں‘ ہم کوئی ایسی ٹائم مشین بنائیں جو ہمیں 13ارب 80 کروڑ سال پیچھے اس وقت میں لے جائے جب بگ بینگ ہوا اور کائنات وجود میں آنے لگی‘ یہ ظاہر ہے ممکن نہیں‘ دوسرا طریقہ ‘سائنس دان لیبارٹری میں ’’بگ بینگ‘‘ کریں اور کائنات کی پیدائش کے پورے عمل کا مشاہدہ کر لیں‘ یہ طریقہ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں چنانچہ سائنس دانوں نے 1952ء میں اس پر کام شروع کر دیا۔
اس نادر کام کے لیے جنیواکے مضافات میں فرنے میں جگہ تلاش کی گئی اور سوئٹزرلینڈ اور فرانس دونوں نے مل کر لیبارٹری بنانا شروع کر دی‘ یہ لیبارٹری سرن کہلاتی ہے‘ یہ کام دو ملکوں اور چند سو سائنس دانوں کے بس کی بات نہیں تھی چنانچہ آہستہ آہستہ دنیا کے 38 ممالک کی 177 یونیورسٹیاں اور فزکس کے تین ہزار پروفیسر اس منصوبے میں شامل ہو گئے‘سائنس دانوں نے پہلے حصے میں زمین سے 100 میٹر نیچے 27کلو میٹر لمبی دھاتی سرنگ بنائی۔
اس سرنگ میں ایسے مقناطیس اتارے گئے جو کشش ثقل سے لاکھ گنا طاقتور ہیں‘ مقناطیس کے اس فیلڈ کے درمیان دھات کا 21 میٹر اونچا اور 14 ہزار ٹن وزنی چیمبر بنایا گیا‘ یہ چیمبر کتنا بھاری ہے آپ اس کا اندازہ آئفل ٹاور سے لگا لیجیے‘ دنیا کے سب سے بڑے دھاتی اسٹرکچر کا وزن 7 ہزار تین سوٹن ہے‘ سرن کا چیمبر اس سے دگنا بھاری ہے‘ اس چیمبر کا ایک حصہ پاکستان کے ہیوی مکینیکل کمپلیکس میں بنا اور اس پر باقاعدہ پاکستان کا جھنڈا چھاپا گیا‘ سائنس دانوں کے اس عمل میں چالیس سال لگ گئے‘ یہ چالیس سال بھی ایک عجیب تاریخ ہیں۔
ملکوں کے درمیان اس دوران عداوتیں بھی رہیں اور جنگیں بھی ہوئیں لیکن سائنس دان دشمنی‘ عداوت‘ مذہب اور نسل سے بالاتر ہو کر سرن میں کام کرتے رہے‘ یہ دن رات اس کام میں مگن رہے‘ سائنس دانوں کے اس انہماک سے بے شمار نئی ایجادات سامنے آئیں مثلاً انٹرنیٹ سرن میں ایجاد ہوا تھا‘ سائنس دانوں کوآپس میں رابطے اور معلومات کے تبادلے میں مشکل پیش آ رہی تھی چنانچہ سرن کے ایک برطانوی سائنس دان ٹم برنرزلی نے 1989ء میں انٹرنیٹ ایجاد کر لیا یوں www(ورلڈ وائیڈ ویب) سرن میں ’’پیدا‘‘ ہوا اور اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا۔
سٹی اسکین اور ایم آر آئی بھی اسی تجربے کے دوران ایجاد ہوئی ‘ سرن میں اس وقت بھی ایسے سسٹم بن رہے ہیں جو اندھوں کو بینائی لوٹا دیں گے‘ ایک چھوٹی سی چپ میں پورے شہر کی آوازیں تمام ڈیٹیلز کے ساتھ ریکارڈ ہو جائیں گی‘ ایک ایسا سپرالٹرا ساؤنڈ بھی مارکیٹ میں آرہا ہے جو موجودہ الٹرا ساؤنڈ سے ہزار گنا بہتر ہوگا ‘ ایک ایسا لیزر بھی ایجاد ہو چکا ہے جو غیر ضروری ٹشوز کو چھیڑے بغیر صرف اس ٹشو تک پہنچے گا جس کا علاج ہو نا ہے‘ ایک ایسا سسٹم بھی سامنے آ جائے گا جو پورے ملک کی بجلی اسٹور کر لے گا اور سرن کا گرڈ کمپیوٹر بھی عنقریب مارکیٹ ہو جائے گا‘ یہ کمپیوٹر پوری دنیا کا ڈیٹا جمع کرلے گا۔
یہ تمام ایجادات سرن میں ہوئیں اور یہ اس بنیادی کام کی ضمنی پیداوار ہیں‘ سرن کے سائنس دان اس ٹنل میں مختلف عناصر کو روشنی کی رفتار (ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ) سے لگ بھگ اسپیڈ سے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور پھر تبدیلی کا مشاہدہ کرتے ہیں‘ یہ عناصر ایٹم سے اربوں گنا چھوٹے ہوتے ہیں‘ یہ دنیا کی کسی مائیکرو اسکوپ میں دکھائی نہیں دیتے‘ سائنس دانوں نے 2013ء میں تجربے کے دوران ایک ایسا عنصر دریافت کر لیا جو تمام عناصر کو توانائی فراہم کرتا ہے‘ یہ عنصر ’’گاڈ پارٹیکل‘‘ کہلایا‘ اس دریافت پر دو سائنس دانوں پیٹر ہگس اور فرینکوئس اینگلرٹ کونوبل انعام دیا گیا‘ یہ دنیا کی آج تک کی دریافتوں میں سب سے بڑی دریافت ہے۔
سائنس دانوں کا خیال ہے مادے کی اس دنیا کا آدھا حصہ غیر مادی ہے‘ یہ غیر مادی دنیا ہماری دنیا میں توانائی کا ماخذ ہے‘ یہ لوگ اس غیر مادی دنیا کو ’’اینٹی میٹر‘‘ کہتے ہیں‘یہ اینٹی میٹر پیدا ہوتا ہے‘کائنات کو توانائی دیتا ہے اور سیکنڈ کے اربوں حصے میں فنا ہو جاتا ہے‘ سرن کے سائنس دانوں نے چند ماہ قبل اینٹی میٹر کو 17 منٹ تک قابو رکھا ‘ یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا‘ یہ لوگ اگر ’’اینٹی میٹر‘‘ کو لمبے عرصے کے لیے قابو کر لیتے ہیں تو پھر پوری دنیا کی توانائی کی ضرورت چند سیکنڈز میں پوری ہو جائے گی‘ دنیا کو بجلی اور پٹرول کی ضرورت نہیں رہے گی‘سرن ایک انتہائی مشکل اورمہنگا براجیکٹ ہے اور سائنس دان یہ مشکل کام65 سال سے کر رہے رہے ہیں۔
یہ لیبارٹری دنیا کے ان چند مقامات میں شامل ہے جن میں پاکستان اور پاکستانیوں کی بہت عزت کی جاتی ہے‘ اس عزت کی وجہ ڈاکٹر عبدالسلام ہیں‘ ڈاکٹر عبدالسلام کی تھیوری نے سرن میں اہم کردار ادا کیا‘ عناصر کو ٹکرانے کے عمل کا آغاز ڈاکٹر صاحب نے کیا تھا‘ ڈاکٹر صاحب کا وہ ریکٹر اس وقت بھی سرن کے لان میں نصب ہے جس کی وجہ سے انھیں نوبل انعام ملا۔
دنیا بھر کے فزکس کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں اگر ڈاکٹر صاحب تھیوری نہ دیتے اور اگر وہ اس تھیوری کو ثابت کرنے کے لیے یہ پلانٹ نہ بناتے تو شاید سرن نہ بنتا اور شاید کائنات کو سمجھنے کا یہ عمل بھی شروع نہ ہوتا چنانچہ ادارے نے لیبارٹری کی ایک سڑک ڈاکٹر عبدالسلام کے نام منسوب کر رکھی ہے‘ یہ سڑک آئین سٹائن کی سڑک کے قریب ہے اور یہ اس انسان کی سائنسی خدمات کا اعتراف ہے جسے ہم نے مذہبی نفرت کی بھینٹ چڑھا دیا‘ جسے ہم نے پاکستانی ماننے سے بھی انکار کر دیا تھا۔
سرن میں اس وقت 10 ہزار لوگ کام کرتے ہیں‘ ان میں تین ہزار سائنس دان ہیں یوں یہ دنیا کی سب سے بڑی سائنسی تجربہ گاہ ہے‘یہ تجربہ گاہ کبھی نہ کبھی اس راز تک پہنچ جائے گی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات تخلیق کی تھی‘ یہ راز جس دن کھل گیا اس دن کائنات کے سارے بھید کھل جائیں گے‘ہم اس دن قدرت کو سمجھ جائیں گے۔
مجھے سرن میں ایک گھنٹہ گزارنے کا موقع ملا‘یہ ایک گھنٹہ فرنے کے ایک پاکستانی شہری شہزاد نے قابل عمل بنا یا تھا‘ شہزاد صاحب راجپوت کے نام سے فرنے میں پاکستانی ریستوران چلا رہے ہیں‘ یہ دوسری نسل سے یہاں آباد ہیں‘ ان کے والد نے یہاں ریستوران بنایا تھا‘ شہزاد صاحب آج اپنے الگ ریستوران کے مالک ہیں‘ میری ان سے اتفاقاً ملاقات ہوئی‘ یہ اگلے دن مجھے والٹیئر کے گھر اور سرن لے گئے۔
سرن میں ایک نوجوان پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر مہر شاہ سے بھی ملاقات ہوئی‘ یہ بہت متحرک‘ کامیاب اور ایکٹر قسم کے سائنس دان ہیں‘اللہ نے انھیں ابلاغ کی صلاحیت سے نواز رکھا ہے‘ اتوار کی وجہ سے سینٹر بند تھا‘ ڈاکٹر مہر ہمیں ٹنل میں نہ لے جا سکے لیکن اس کے باوجود ہمیں وہاں ہزاروں درویش ملے‘ ایسے درویش جو اس راز کی کھوج میں مگن ہیں جسے آج تک مذہب بھی نہیں کھول سکا‘یہ لوگ اصل درویش ہیں‘ یہ انسانیت کے کے لیے کام کر رہے ہیں‘ یہ لوگ واقعی عظیم اور قابل عزت ہیں۔
ڈاکٹر مہر نے بتایا پاکستان سرن کا ممبر ہے‘ حکومت پاکستان ہر سال 22کروڑ روپے فیس ادا کرتی ہے‘ہمیں اس فیس کا فائدہ اٹھانا چاہیے‘ڈاکٹر مہر کے بقول سرن طالب علموں کومفت تعلیم دیتا ہے‘ ہمارے نوجوانوں کو اس سہولت کا فائدہ اٹھانا چاہیے‘ ہمارے نوجوان ایف ایس سی سے لے کر پی ایچ ڈی تک کے لیے سرن سے وظائف لے سکتے ہیں‘ہمیں یہ لینے چاہئیں‘ دوسرا سرن ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے لیے اوپن ادارہ ہے‘ اس کا ہر ممبر کوئی بھی ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے‘ پاکستان کو اس سہولت کا بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔
مجھے ڈاکٹر مہر کی آواز میں جذبات محسوس ہوئے‘ کاش یہ جذبات ہماری حکومت تک پہنچ جائیں اور یہ سرن سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے‘ ہم اگر اس سے صرف میڈیکل سائنس اور زراعت کی ٹیکنالوجی ہی لے لیں تو یہ بھی ہمارے کے لیے کافی ہو گی ‘ ہمارے بے شمار مسائل حل ہو جائیں گے لیکن شاید یہ ہماری ترجیحات میں شامل نہیں‘ ہم شاید پانامہ کے پائجامے تک محدود رہنا چاہتے ہیں۔

Precision Nutrition
10/03/2018
Precision Nutrition

Precision Nutrition

You’re about to give nutrition advice… Shouldn’t you be 100% sure you know what you’re talking about?

14/02/2018
Uppal Forum

Uppal Forum

*A chat with Heart Specialist....:-

*Qn1.* What are the thumb rules for a layman to take care of his heart?
*Ans:*
1. Diet - Less of carbohydrate and oil, more of protein.
2. Exercise - Half an hour's walk, at least five days a week;
3. Quit smoking
4. Control weight
5. Control Blood pressure and Sugar

*Qn2.* Can we convert fat into muscles?

*Ans:* No.Fat can never be converted into a muscle.

*Qn3.* It's still a grave shock to hear that some apparently healthy persons get cardiac arrest ?

*Ans:* We recommend everyone above the age of 30 to undergo routine health checkups.

*Qn4.* Are heart diseases hereditary?

Ans: Yes.

*Qn5.* What are the ways in which the heart is stressed and how to de-stress it ?

*Ans:* Change your attitude towards life. Do not look for perfection in everything.

*Qn6.* Is walking better than jogging or is more intensive exercise required to keep a healthy heart?

*Ans:* Walking is better than jogging.

*Qn8.* Can people with low blood pressure suffer heart diseases?

*Ans:* Extremely rare.

*Qn9.* Does cholesterol accumulate right from an early age or above 30 years ?

*Ans:* Cholesterol accumulates from childhood.

*Qn10.* How do irregular eating habits affect the heart ?

*Ans:* You tend to eat junk food when the habits are irregular and your body's enzyme release for digestion gets confused.

*Qn11.* How can I control cholesterol without using medicines?

*Ans:* Control diet, walk and eat walnut.

*Qn12.* Which is the best and worst food for the heart?

*Ans:* Fruits and vegetables are the best and oil is the worst.

*Qn13.* Which oil is better - groundnut, sunflower, olive?

*Ans:* All the oils are bad for heart.

*Qn14.* What is the routine checkup one should go through? Is there any specific test?

Ans: Routine blood test to ensure sugar, cholesterol is ok. Check BP, Treadmill test after an echo.

*Qn15.* What are the first aid steps to be taken on a heart attack?

*Ans:* Help the person into a sleeping position, place an aspirin tablet under the tongue with a sorbitrate tablet if available, and rush him to a coronary care unit, since the maximum casualty takes place within the first hour.

*Qn17.* What is the main cause of a steep increase in heart problems amongst youngsters? I see people of about 30-40 yrs of age having heart attacks and serious heart problems.

*Ans*: Increased awareness has increased incidents. Also, sedentary lifestyles, smoking, junk food, lack of exercise in a country where people are genetically three times more vulnerable for heart attacks than Europeans and Americans.

Thanks Dr. Raza Hashmi

12/02/2018
Uppal Forum

Uppal Forum

Religious practices mine the human body for its rich
metaphorical significance.

28/11/2017
Uppal Forum

Uppal Forum

علامہ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں: ’’ مسلمانوں کی ترقی اورتنزلی، دونوں کا ایک ہی سبب ہے اوروہ ہے ان کا فوری اور وقتی جوش۔ وہ سیلاب کی مانند پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہلا سکتے ہیں، لیکن کوہ کن کی طرح ایک ایک پتھر کو جدا کرکے راستہ صاف نہیں کرسکتے۔ وہ بجلی کے مثل ایک آن میں خرمن کو جلا سکتے ہیں، لیکن چیونٹی کی طرح ایک ایک دانہ نہیں ڈھو سکتے۔ وہ ایک مسجد کی مدافعت میں اپنا خون پانی کی طرح بہاسکتے ہیں، لیکن کسی منہدم مسجد کو دوبارہ بنانے کے لئے مستقل کوشش جاری نہیں رکھ سکتے۔ یہ ان سے ممکن تھا کہ محمد علی اورابوالکلام کے دائیں بائیں گرکر جان دیدیں۔ لیکن ا ن کے بس کی بات نہیں کہ مسلسل آئینی جدوجہد سے ان اسیران اسلام کو جیل سے چھڑا لائیں۔ ‘‘
آگے چل کر لکھتے ہیں:’’ ہماری ناکامی کا اصل سبب یہ ہے کہ ہم آندھی کی طرح آتے ہیں، اوربجلی کی طرح گذرجاتے ہیں۔ ہم کو دریا کے اس پانی کی مانند ہونا چاہئے جو آہستہ، آہستہ بڑھتا ہے اور سالہاسال میں کناروں کو کاٹ کر اپنا دہانہ وسیع کرتا جاتا ہے۔ کامیابی صرف مسلسل اور پائدار کوشش میں ہے۔ ہمالیہ کی برفانی چوٹیاں آہستہ آہستہ پگھلتی ہیں، لیکن کبھی جمنا اورگنگا کو خشک ہونے نہیں دیتیں۔ آسمان کا پانی ایک دو گھنٹے میں دشت وجبل کو جل تھل بنا دیتا ہے لیکن چند ہی روزمیں ہرطرف خاک اڑنے لگتی ہے۔‘‘(شذرات معارف :اکتوبر 1917)

15/11/2017
Uppal Forum

Uppal Forum

ریکٹر کیسا ہونا چاہئے

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے ریکٹر ملک معراج خالد تھے۔ وائس چانسلر ہی کہہ لیجیے۔ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی کے دوسرے سمسٹر کا طالب علم تھا۔یونیورسٹی نے فیسوں میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا۔ میں نے ملک معراج خالد کے خلاف ایک مقامی روزنامے میں کالم لکھ دیا۔ میں نے لکھا کہ ایک دودھ بیچنے والا ریکٹر بن جاتا ہے تو اس کی گردن میں سریا آ جاتا ہے اور وہ اپنا ماضی بھول جاتا ہے۔ یاد نہیں اور کیا کچھ لکھا لیکن وہ بہت ہی نا معقول تحریر تھی۔

اگلے روز میں کلاس میں پہنچا تو ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ جناب ایس ایم رؤوف صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں بلا کر کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ تمہیں ریکٹر صاحب نے طلب کیا ہے۔ مجھے خوب یاد ہے جب میں ان کے کمرے سے نکل کر جا رہا تھا تو انہوں نے غصے سے کہا: جنٹل میں گو اینڈ فیس دی میوزک۔
خیر میں ریکٹر آفس کی جانب چل پڑا اور راستے میں یہی سوچتا رہا کہ یہ تو طے ہے آج یونیورسٹی میں میرا آخری دن ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آج یونیورسٹی سے نکالا جاؤں گا تو گھر والوں سے کیا بہانہ بناؤں گا کہ کیوں نکالا گیا۔

وہاں پہنچا تو ریکٹر کے پی ایس اسماعیل صاحب کو بتایا میرا نام آصف محمود ہے، مجھے ریکٹر صاحب نے بلایا ہے۔ مجھے شدید حیرت ہوئی جب اسماعیل کے سپاٹ چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی اور کہنے لگے جائیے وہ آپ کے منتظر ہیں۔ لیکن اندر داخل ہوا توحیرتوں کے جہان میرے منتظر تھے۔ ملک صاحب اکیلے بیٹھے تھے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا: سر میں آصف، آپ نے بلایا تھا؟
آپ ہی نے کالم لکھا تھا؟
جی سر میں نے لکھا تھا۔
تشریف رکھیے مجھے آپ سے کچھ باتیں کرنا ہیں۔۔۔۔اور میں جل تو جلال تو کا ورد کرتے ہوئے بیٹھ گیا۔

کافی دیر یونہی گزر گئی۔
ملک صاحب ولز کی ڈبیا گھماتے رہے۔ ایک ایک لمحہ اعصاب پر بھاری تھا۔ پھر ملک صاحب نے خاموشی کو توڑا اور کہا: کالم تو آپ نے اچھا لکھا لیکن آ پ کی معلومات ناقص تھیں۔ میں صر ف دودھ فروش نہیں تھا۔میرے ساتھ ایک اورمعاملہ بھی تھا۔ میں نے اسی لیے آپ کو بلایا ہے کہ آپ کی معلومات درست کر دوں۔ میں صرف دودھ نہیں بیچتا تھا۔ میرے ساتھ یہ مسئلہ بھی تھا کہ جوتے نہیں تھے۔ میں دودھ بیچ کر سکول پہنچتا اور سائیکل وہیں کھڑی کر دیتا۔ گھر میں جوتوں کا ایک ہی جوڑا تھا جو والد صاحب کے زیر استعمال تھا۔ اس کا حل میں اور میرے ابا جی نے مل کر نکالا۔ ہمارے درمیان یہ طے ہوا کہ صبح میں یہ جوتے پہن کر جایا کروں اور جب میں واپس آ جاؤں تو یہی جوتے پہن کر ابا جی چوپال میں جا کر بیٹھا کریں۔ اب ڈر تھا کہ سائیکل چلانے سے جوتا ٹوٹ نہ جائے۔ اس لیے میں انہیں سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا تھا۔جب دودھ گھروں میں پہنچا کر کالج کے گیٹ کے پاس پہنچتا تو جوتا پہن لیتا۔ واپسی پر پھر سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا اور ننگے پاؤں سائیکل چلاکر گھر پہنچتا۔
ملک صاحب پھر خاموش ہو گئے۔ یہ دورانیہ خاصا طویل رہا۔پھر مسکرائے اور کہنے لگے: سریے والی بات تم نے ٹھیک کہی۔ واقعی ،اللہ نے دودھ فروش کو نوازا تو اس کی گردن میں سریا آ گیا۔ بار بار دہراتے رہے: اللہ نے دودھ فروش کو نوازا لیکن اس کی گردن میں سریا آ گیا۔
پھر اسماعیل کو بلایا اور پوچھاکہ کیا قواعد و ضوابط کے مطابق میں فیس میں کیا گیا یہ اضافہ واپس لے سکتا ہوں۔اسماعیل نے کہا سر ریکٹر کے اختیار میں نہیں ہے۔ کہنے لگے اختیار میں تو نہیں ہے لیکن اگر میں نوٹیفیکیش جاری کر دوں تو پھر؟ اسماعیل کہنے لگے: سر آپ نوٹی فیکیشن جاری کر دیں تو ظاہر ہے اس پر عمل ہو گا۔ملک صاحب نے کہا جلدی سے نوٹیفیکیشن بنا لاؤ، فیسوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ میں کمرے سے باہر نکلا تو اس حکم نامے کی کاپی میرے ساتھ تھی، دل البتہ وہیں چھوڑ آیا تھا۔

ڈیپارٹمنٹ پہنچا تو ایس ایم اے رووف صاحب نے پوچھا، ہاں کیا ہوا؟ میں نے نوٹی فیکیشن آگے رکھ دیا، سر یہ ہوا۔ رووف صاحب کی آنکھوں میں جو حیرت تھی، مجھے آج بھی یاد ہے۔ آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے: وائس چانسلر کیسا ہونا چاہیے؟ میں کہوں گا اسے ملک معراج خالد مرحوم جیسا ہونا چاہیے۔

(تحریر: آصف محمود کالم نگار/ اینکر)

14/11/2017

چراغِ طُور جلاؤ ، بڑا اندھیرا ہے
ذرا نقاب اٹھاؤ ، بڑا اندھیرا ہے

ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے
ابھی فریب نہ کھاؤ ، بڑا اندھیرا ہے

وہ جِن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں
انہیں کہیں سے بلاؤ ، بڑا اندھیرا ہے

مجھے تمہاری نگاہوں پہ اعتبار نہیں
مِرے قریب نہ آؤ ، بڑا اندھیرا ہے

فرازِ عرش سے ٹُوٹا ہوا کوئی تارا
کہیں سے ڈُھونڈ کے لاؤ , بڑا اندھیرا ہے

بصیرتوں پہ اُجالوں کا خوف طاری ہے
مجھے یقین دِلاؤ بڑا اندھیرا ہے

جِسے زبانِ خِرَد میں شراب کہتے ہیں
وہ روشنی سی پلاؤ ، بڑا اندھیرا ہے

بنامِ زہرہ جبینانِ خطۂ فردوس
کسی کرن کو جگاؤ ، بڑا اندھیرا ہے

شکریہ ڈاکٹر غلام شبّیر

13/11/2017

Position: Nutritionist
Education: MS or Mphill in food and diettition.
Location: Karachi
Package: 40k+
Interested candidates with relevant experience please forward your resume with subject 'applying for the post of nutritionist karachi' latest by today before 11.59pm at [email protected]

06/10/2017

BS(hons) Human Nutrition and dietetics Timings
Morning 8:00 am - 1:00 pm
Evening 1:00 pm - 5:00 pm

Regular classes will start from Monday
Further, timetable will displayed on Monday

04/10/2017
Uppal Forum

Uppal Forum

🌹
*ابلیس کا اعتراف*

_"(سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں)"_

تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یا رب
اُس گھڑی مجھ کو تو اِک آنکھ نہ بھایا یارب

اس لیے میں نے، سر اپنا نہ جھکایا یارب
لیکن اب پلٹی ہےکچھ ایسی ہی کایا یا رب

عقل مندی ہے اسی میں کہ میں توبہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!

ابتداً تھی بہت نرم طبیعت اس کی
قلب و جاں پاک تھے،شفاف تھی طینت اس کی

پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی
اب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کی

اس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!

بھر دیا تُو نے بھلا کون سا فتنہ اس میں
پکتا رہتا ہے ہمیشہ کوئی لاوا اس میں

اِک اِک سانس ہے اب صورتِ شعلہ اس میں
آگ موجود تھی کیا مجھ سے زیادہ اس میں

اپنا آتش کدۂ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں !
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں !

اب تو یہ خون کے بھی رشتوں سے اکڑ جاتا ہے
باپ سے ، بھائی سے، بیٹے سےبھی لڑ جاتا ہے

جب کبھی طیش میں ہتھے سے اکڑ جاتا ہے
خود مِرے شر کا توازن بھی بِگڑ جاتا ہے

اب تو لازم ہے کہ میں خود کو سیدھا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!

میری نظروں میں تو بس مٹی کا مادھو تھا بَشر
میں سمجھتا تھا اسے خود سے بہت ہی کمتر
مجھ پہ پہلے نہ کھُلے اس کے سیاسی جوہر
کان میرے بھی کُترتا ہے یہ قائد بن کر

شیطانیت چھوڑ کے میں بھی یہی دھندا کر لُوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!

کچھ جِھجکتا ہے ، نہ ڈرتا ہے ،نہ شرماتا ہے
نِت نئی فتنہ گری روز ہی دکھلاتا ہے
اب یہ ظالم ، میرے بہکاوے میں کب آتا ہے
میں بُرا سوچتا رہتا ہوں ، یہ کر جاتا ہے

کیا ابھی اس کی مُریدی کا ارادہ کر لوں!
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!

اب جگہ کوئی نہیں میرے لیے دھرتی پر
مِرے شر سے بھی سِوا ہے یہاں انسان کا شر
اب تو لگتا ہے یہی فیصلہ مُجھ کو بہتر
اس سے پہلے کہ پہنچ جائے واں سوپر پاور

میں کسی اور ہی سیّارہ پر قبضہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!
ظُلم کے دام بچھائے ہیں نرالے اس نے
نِت نئے پیچ مذاہب میں ڈالے اِس نے
کر دیئے قید اندھیروں میں اجالے اس نے
کام جتنے تھے مِرے ، سارے سنبھالے اس نے

اب تو میں خود کو ہر اِک بوجھ سے ہلکا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

(نامعلوم)

بذریعہ ڈاکٹر سعید اقبال سعدی

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dietitian M Shaheer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Nearby health & beauty businesses

Comments

Food Safety Training institute In Pakistan
A slam... Food nutrition and dietatics(FND) And Human nutrition and dietatics (HND) Mn kia difference hai
Any from ist semester HND ?
#admin plz tell me HND evening timings ??
#Innovative_Food_Solutions
Is anyone studying in Msc human nutrition amd dietetics In arid rwp?i need a help.