School Health & Nutrition Supervisor Attock

School Health & Nutrition Supervisor Attock SCHOOL HEALTH & NUTRITION SUPERVISOR ATTOCK Please Promote this page and share activities related to School Health Programe

Operating as usual

05/05/2021
27/04/2021
24/04/2021
20/04/2021
15/03/2021

Aoa, Have a nice Day..

Free Medical Camp + Eye Camp held at Basic Health Unit Hattar Tehsil Fatehjang with collaboration of Muhammad Sohail Sch...
14/03/2021

Free Medical Camp + Eye Camp held at Basic Health Unit Hattar Tehsil Fatehjang with collaboration of Muhammad Sohail School Health and Nutrition supervisor BHU Hattar under School Health Program District Attock, Dr. Junid sadiq sb DDOH Fatehjang, Al Shifa Eye Trust Rawalpindi and Local NGO Qutbal Welfare Soceity Qutbal dated 10.03.2021.
Total patient screened for different eye ailments were 402
Free Glasses provided 112 and 34 patients
Raferred to Al shaifa Eye hospital Rawalpindi for operation.

In Free Medical camp, free te**es done of Hepatitis B and C, TB and Diabetes and also done free vaccination of Hepatitis.

Tests performed
Hcv -117
HbsAg- 117
BSR : 78
Tb screening: 45
Hiv ..117
Positive cases
Hcv : 0
HBsAg : 1
Diabetic positive : 33
Hiv ..0
Vaccinated for hep B : 86

01/02/2021

نیا سفر۔”سکول ہیلتھ پروگرام۔ ایک شاندار پروگرام“۔ تحریر۔ ڈاکٹر اکرام الحق اعوان۔ قسط نمبر108
یہ شائد 2008کی بات ہوگی۔جب ہمارے مانیٹرنگ پروفارمے تبدیل ہوئے اور ان میں SH&NSکے ایک کالم کا اضافہ ہوا۔SH&NS کا نام پڑھ کر ہم سب سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ کسی کو بھی یہ علم نہ تھا کہ SH&NS کس چیز کا مخفف ہے۔ مجبوراً ہمیں لاہور رابطہ کرنا پڑا۔جہاں سے پتہ چلا کہ یہ”سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائز ر“کا مخفف ہے۔ یہ ایک نیا کیڈر ہے جو جلد ہی محکمہ صحت، پنجاب میں متعارف کروانے جا رہا ہے۔ہمیں یہ بھی بتلایا گیا کہ ”سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائزر ز“ اپنے اپنے مضامین میں ”ماسٹرز“ ہوں گے اور انہیں BPS۔17دیا جائے گا۔ہمیں یہ بھی بتلایا گیا کہ یہ پروگرام ڈسٹرکٹ ہیلتھ ڈیولپمنٹ سنٹر کے پروگرام ڈائریکٹر کی زیرِ نگرانی ہو گا اور انکی ٹریننگ و مانیٹرنگ کی تمام تر ذمہ داری پروگرام ڈائریکٹر کی ہو گی۔ میں بھی ان دنوں کیوں کہ پروگرام ڈائریکٹر کی پوسٹ پر کام کر رہا تھا۔ اس لئے مجھے 2008ء میں اس پروگرام کے بارے آگہی دی گئی....۔ اس ٹریننگ کے بعد پنجاب بھر میں SH&NS کی ریکروٹمنٹ کا عمل شروع ہوا۔ کچھ ضلعوں میں فوراً ہی ریکروٹمنٹ کر کے ٹریننگ کا آغاز کر دیا گیا جبکہ چکوال ضلع میں ریکروٹمنٹ کا عمل ہونے میں مکمل ہونے میں کچھ وقت لگ گیا۔ یوں 2010ء میں چکوال میں SH&NSکی ریکروٹمنٹ مکمل ہوئی جس کے بعد ہم نے وقت ضائع کئے بغیر، ڈی ایچ ڈی سی میں انکی تربیت کا آغاز کر دیا۔جس کے بعد ان SH&NS نے سکولوں میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ یہ روزانہ شیڈول کے مطابق اپنے ایریے کے سکولوں کا وزٹ کرتے۔ وہاں طلباء کو مختلف بیماریوں بارے لیکچر دیتے۔ انکا معائنہ کرتے۔ انکی قریب و دور کی نظر چیک کرتے۔ اگر کو ئی طالبعلم زیادہ بیمار ہوتا تو اسے قریبی بی ایچ یو ریفر کر دیتے۔ 2010سے 2017(اپنی ریٹائرمنٹ تک) میں نے اس پروگرام کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے جب یہ پروگرام سنبھالا تو اس وقت محکمہ صحت کی عمومی فضاء اس پروگرام کے خلاف تھی۔ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ ایک فضول پروگرام لانچ کر دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ لیکن بعد میں اس پروگرام نے یہ ثابت کیا کہ یہ پروگرام سکول کی طلباء کی صحت کے حوالے سے تو اپنی مثال آپ تھا ہی۔ دوسری جانب اس پروگرام نے محکمہ صحت کو دیگر بیماریوں مثلا ً پولیو، خسرہ، ٹائیفائیڈ، کرونا اور ڈینگی وغیرہ سے لڑنے کے لئے بھی اہم مدد فراہم کی۔ اب جب کہ اس پروگرام کو شروع ہوئے دس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اب یہ پروگرام محکمہ صحت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اگر آج اس پروگرام کو بند کر دیا جائے تو محکمہ صحت عرصہ دراز تک اس پروگرام کی بندش سے ہونے والے نقصانات کے جھٹکے کو برداشت کر نے کے قابل نہ ہوگا۔۔۔۔۔تو بہر حال ذکر ہو رہا تھا اس پروگرام کو چکوال میں لانچ کرنے کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا۔ ہمیں سب سے بڑی رکاوٹ بی ایچ یو کے ملازمین کی جانب سے آئی۔ ابتدائی طور پر زیادہ تر ملازمین نے اس کیڈر کو دل سے تسلیم نہ کیا اور SH&NS کے ساتھ تعاون سے گریز کیا۔ روزانہ SH&NS میرے پاس آتے یا مجھے فون کرتے کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہو رہا۔ ہم انفرادی طور پر ہر متعلقہ شخص سے رابطہ کرتے اور اسے اس پروگرام کی اہمیت سمجھانے کی کوشش کرتے۔ ہم SH&NS کو بھی یہ بات سمجھاتے کہ یہ رکاوٹیں عارضی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپکو درپیش تمام مشکلات خود بخوختم ہو جائیں گی۔۔۔۔اور ایسا ہی ہوا۔ کچھ عرصے بعد SH&NS کو انکے مخالفین نے بھی دل وجان سے تسلیم کر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔ چکوال میں تو ہم اس پروگرام میں کافی بہتری بھی لے کر آئے۔ SH&NS نے کمیونٹی کے لوگوں کی صحت کے مسائل کو بھی حل کرنے کی کوشش کی۔ضلع بھر کے مختلف دیہاتوں میں مختلف موضوعات پر سیمینار کروائے گئے۔ ان سیمینارز میں چکوال کے نامی گرامی ڈاکٹر ز کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ سکول ہیلتھ پروگرام کا پہلا شاندار سیمینار جمالوال میں ہوا۔ ہماری SH&NS نے اس علاقے میں یہ بات نوٹ کی تھی کہ یہاں پیدائشی معذور افراد کی شرع دیگر علاقوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ اس سیمینار میں جہاں علاقے بھر کے معذور افراد کو دعوت دی گئی وہیں ان لوگوں کو گائیڈ کرنے کے لئے ممتاز ماہرِ امراض بچگان ڈاکٹر کرنل غلام شبیر صاحب کی خدمات حاصل کی گئیں۔ سکول ہیلتھ پروگرام کے تحت آئیوڈین، پولیو، ڈینگی و دیگر بیماریوں کے حوالے سے بھی وقتاً فوقتاً سیمنارز کروائے جاتے رہے۔ ہماری ایک SH&NS نے چواسیدن شاہ کی یونین کونسل لہڑ سلطان پور میں یہ محسوس کیا کہ وہاں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی شرع کافی زیادہ ہے۔ یہ ریپورٹ ای ڈی او ہیلتھ کو پیش کی گئی۔ انہوں نے اس ریپورٹ پر متعلقہ SH&NS کو اپنے دفتر بلایا اور شاباش دی۔ چنانچہ اس علاقے میں ایک خصوصی ٹیم بھیجی گئی۔ جس نے وہاں لوگوں کو ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے۔ SH&NS نے اپنے اپنے سکولوں میں ان بچوں کو تلاش کیا جن کی نظر کمزور تھی۔ ایسے بچوں کو ماہرِ امراضِ چشم کے پاس بھجوایا گیا۔ جنہوں نے ان بچوں کے لئے عینک تجویز کی۔ SH&NS نے غریب طلباء کو عینک مہیاکرنے میں بھی ان کی مدد کی۔ یوں وہ طلباء جو نظر کی کمزوری کے باعث اپنی کلاس میں پرفارم کرنے سے قاصر تھے۔ عینک لگوانے کے بعد اپنی کلاس میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ عوام میں بیماریوں بارے شعور بیدار کرنے کی خاطر سکول ہیلتھ پروگرام کے تحت ایف ایم ریڈیو پر ہر ہفتے ایک گھنٹے کا پروگرام پیش کیا جاتا۔ اس پروگرام کا پریزنٹر سکول ہیلتھ پروگرام کا کوئی نہ کوئی SH&NS ہوتا/ہوتی۔ چکوال کی عوام نے اس پروگرام کو بھی بے حد پسند کیا۔سکول ہیلتھ پروگرام کے تحت ایک میگزین بھی نکالا گیا۔ اس میگزین کے لکھاری ضلع چکوال کے SH&NS ہی تھے۔اس میگزین کو لاہور میں بھی بے حد سراہا گیا اور تمام ضلعوں کو ہدایت کی گئی کہ اس طرح کا میگزین دیگر اضلاع بھی شائع کریں۔ چکوال میں سکول ہیلتھ پروگرام کا ایک فنڈ بھی قائم کیا گیا۔ اس فنڈ میں ہر SH&NS ہر ماہ دوسو روپے جمع کرواتا تھا۔اس جمع شدہ رقم سے ہم سکول ہیلتھ پروگرام کی تمام سرگرمیاں کرواتے تھے۔ سکول ہیلتھ پروگرام کے تحت ضلع بھر میں ہیلتھ میلے کروائے گئے۔ ان ہیلتھ میلوں میں سکول ہیلتھ پروگرام کا سٹال بھی لگایا جاتا۔ جو دیگر سٹالوں سے نمایاں ہوتا۔۔۔۔۔۔سکول ہیلتھ پروگرام کے ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کی خاطر تمام SH&NS کو ہدائت کی گئی تھی کہ وہ ہر سال کا اپنا تمام جمع کرتے رہیں اور سال کے بعد اس ریکارڈ کو ترتیب دے کر جلد کروا لیں۔ یوں سکول ہیلتھ پروگرام چکوال کا چھ سات سالوں کا تمام ریکارڈ محفوظ ہو گیا اور بعد میں مختلف فورمز یا انکوائریز میں کافی مددگار ثابت ہوا۔اسی پروگرام کے تحت ہماری ایک SH&NS نے اپنی مدد آپ کے تحت لاکھوں روپیہ اکٹھاکر کے بھون کے ایک طالبعلم کے دل کا آپریشن کروایا۔اس پروگرام کی چکوال میں کامیابی کی صرف ایک مثال دینا چاہوں گا۔ ڈاکٹر ناصر چکوال میں ای ڈی او ہیلتھ کے عہدے پر فائز رہے۔ جس کے بعد وہ بطور ای ڈی او ہیلتھ راولپنڈی تعینات ہو گئے۔ انہوں نے ایک دن مجھے فون کیا اور کہا کہ میں کچھ دن کے لئے راولپنڈی آؤں اور راولپنڈی کے SH&NS کو متحرک کرنے اور انکی ڈیوٹیز ترتیب دینے میں انکی مدد کروں۔اپنے سابقہ ای ڈی او کی جانب سے یہ فرمائش میرے لئے ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔جس پر میں نے انکا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔اور آخر ی بات کہ سکول ہیلتھ پروگرام میں ایک دو خرابیاں بھی ہیں۔ یہ پروگرام ضلع بھر کے تمام سکولوں میں ہونا چاہئے تھا لیکن نہ جانے کیوں حکومت کو شہری طلباء کی صحت کا خیال نہ آیا یوں یہ پروگرام شہر کے سکولوں میں ندارد ہے۔اسی طرح بی ایچ یو پر تو SH&NS کی پوسٹ موجود ہے لیکن رورل ہیلتھ سنٹر پر SH&NS کی کوئی سیٹ موجود نہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ہ دوسری جانب ضلع چکوال میں کچھ یونین کونسلز ایسی بھی ہیں کہ جہاں ایک یو نین کونسل میں دو دو بی ایچ یو موجود ہیں۔ اور یوں اس ایک یونین کونسل میں دو دو SH&NS کام کر رہے ہیں۔جنکا زیادہ تر وقت فراغت میں گزرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آخری بات کہ اس کیڈر کے لوگ اس قدر محنت اور جانفشانی سے کام کرنے کے باوجود اب تک مستقل نہیں ہو سکے۔ یہ انکے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ جس کا کسی بھی صورت حکومت پنجاب کو فوری ازالہ کرنا چاہئے

27/01/2021

Alhumdolillah, With the Grace of Allah Pak. Today I have completed 12 Years in Health Department Government of Punjab.

Advertiment for the recruitment of Class IVs in Health Department District Attock.
16/10/2020

Advertiment for the recruitment of Class IVs in Health Department District Attock.

An Eid day on duty at Islamabad International Airport along with DHO sb,  ADC G ,  AC Jand,  Ac Hassanabdal,  Ac Rawalpi...
24/05/2020

An Eid day on duty at Islamabad International Airport along with DHO sb, ADC G , AC Jand, Ac Hassanabdal, Ac Rawalpindi and Dr. Razwan sb.Passengers shift to Hotels and Quarantine centers Attock.
All passengers quarantine procedure completed.
Total 179 passengers.
100 quarantined at Danish School Jand.
78 quarantined at Attock.
01 quarantined at Hotel in Islamabad.

3 corona patients discharged after recovery from Qurantine center Sattwan meel Fatehjang.
06/05/2020

3 corona patients discharged after recovery from Qurantine center Sattwan meel Fatehjang.

Today 2nd samples collected of 8 positive corona patients at Quarantine center Satwan Meal and POL Jhandil UC Dhurnal Fa...
30/04/2020

Today 2nd samples collected of 8 positive corona patients at Quarantine center Satwan Meal and POL Jhandil UC Dhurnal Fatehjang.

Revisited and screened the persons whoes arrived from Saudia Araiba at Hattar village. All are very well.Muhammad Sohail...
27/03/2020

Revisited and screened the persons whoes arrived from Saudia Araiba at Hattar village. All are very well.
Muhammad Sohail
SHNS BHU Hattar

New DDM cards for polio campaign
25/01/2020

New DDM cards for polio campaign

19/01/2020
World Pneumonia day. November 12,  2019
12/11/2019

World Pneumonia day. November 12, 2019

Screening and health eduction session on Hand washing and personal hygiene at Brick kiln school Dhok lal khan  UC Qutbal...
26/10/2019

Screening and health eduction session on Hand washing and personal hygiene at Brick kiln school Dhok lal khan UC Qutbal Tehsil fatehjang District Attock.
5 students referred to BHU for treatment.

Toaday full day spent with students of NFBE school shahpure dum by SHNS BHU Hattar. Following activites done.1. Healte E...
25/10/2019

Toaday full day spent with students of NFBE school shahpure dum by SHNS BHU Hattar. Following activites done.

1. Healte Eduction session on Dengue.

2. Health Education session on Hand washing + Personal Hygiene.

3. Demo on Handwashing.

4. Screening of all students and 5 students referred to BHU Hattar.

End polio now.
24/10/2019

End polio now.

‏ڈینگی سے پاک پاکستان۔سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائزرز ‎#SHNS ڈینگی سے بچنے کے لئے پورے پنجاب کے گورنمنٹ سکولوں میں ‎#...
08/10/2019

‏ڈینگی سے پاک پاکستان۔
سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائزرز ‎#SHNS ڈینگی سے بچنے کے لئے پورے پنجاب کے گورنمنٹ سکولوں میں ‎#ہیلتھ_ایجوکیشن سیشن کرا رہے ہیں۔
اس کے بارے میں اور بچاؤ کی آگاہی مہم جاری۔

31/08/2019
*Free Eye Camp in BHU Hattar UC Qutbal*.*School health program and Qutbal welfare society Qutbal organized a one day fre...
29/08/2019

*Free Eye Camp in BHU Hattar UC Qutbal*.*

School health program and Qutbal welfare society Qutbal organized a one day free medical camp in BHU Hattar. 122 Students (106 Uc Qutbal + 16 BHU Kanyal UC Jangle) and 160 villagers came to attend the camp for their Eye check up. 20 students and 25 villagers referred to Al shifa eye hospital.

Team Al shifa provided Spectacles and other medicanes on the spot. It was a worth befitting camp.

27/08/2019
Tomorrow local holiday declar in district Attock.
21/08/2019

Tomorrow local holiday declar in district Attock.

11/08/2019

زید حامد کے دل دہلا دینے والے خوفناک انکشافات:
۔
سید زید حامد کا کشمیر کے موجودہ حالات پر لکھا ہوا حقائق پر مبنی مضمون.... اس کے 99.99% حصے سے بندہ سو فیصد متفق ہے..... پڑھیں اور شئیر کریں۔
۔
آج میں مسئلہ کشمیر پر اہم ترین ٹویٹس کرنے جارہا ہوں۔ یہ ہماری قوم کیلئے ایک اذان مومن بھی ہے، حکمرانوں کے سامنے کلمہءحق بھی اور دشمنوں کیلئے مجاہد کی للکار بھی۔
عالمی طاقتوں نے کشمیر کو فروخت کردیا ہے۔ بھارت جو کچھ کررہا ہے، عالمی طاقتوں کی مرضی سے ہورہا ہے۔

بنیادی طور پر یہ بھارت، امریکہ اور اسرائیل کی سازش ہے اور اس میں چند خلیجی ممالک بھی شامل ہیں۔
پلان یہ ہے کہ بھارت کشمیر کو اپنے اندر ضم کرلے گا جیسا کہ اس نے اب کرلیا ہے۔
دوسری جانب عالمی طاقتیں پس پردہ پاکستان پر شدید دباﺅ ڈال رہی ہیں کہ پاکستان خاموش ہو کر اسے قبول کرلے۔

اس وقت پاکستان کی حکومت اور وزیراعظم پر شدید عالمی دباﺅ ہے کہ وہ بھارت کے خلاف کوئی سنجیدہ اور تباہ کن کارروائی نہ کریں۔ بھارت کو موقع دیا جائے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں تمام تحریک مزاحمت کو انتہائی بے رحمی کے ساتھ کچل دے۔ یہ عمل اس وقت جاری ہے۔

بھارتی فوج کے پلان کے مطابق پہلے دو تین ہفتے تک تباہ کن کرفیو لگایا جائے گا، تاکہ کشمیر کے ہر گھر میں بسنے والے لاکھوں مسلمان بھوک اور پیاس سے ادھ موئے ہو جائیں اور ان میں مزاحمت کی کوئی طاقت باقی نہ رہے۔
اور پھر جب کرفیو اٹھایا جائے تو بچی کچھی مزاحمت کو سختی سے کچل دیا جائے۔

بھارتی فوج کا اندازہ ہے کہ اسے مقبوضہ کشمیر کو مکمل طور پر قابو میں لانے کیلئے پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک، کشمیری مسلمانوں کو کرفیو اٹھنے کے بعد قتل کرنا پڑے گا۔ بھارتیوں کا خیال ہے کہ اس سفاکانہ قتل عام کے بعد، کہ جس کا کوئی نام و نشان باہر کی دنیا کیلئے نہیں چھوڑا جائے گا، کشمیری مزاحمت مکمل طور پر دم توڑ دے گی۔

ایک دفعہ جب کشمیری مزاحمت مکمل طور پر دم توڑ جائے، تو مودی کے پلان کا دوسرا حصہ عمل میں لایا جائے گا، کہ جس کے مطابق بھارت آزاد کشمیر پر بھرپور طور پر حملہ آور ہوگا اور آزاد کشمیر کے کئی علاقوں پر قابض ہوجائے گا۔
اب یہ موقع ہوگا کہ جب عالمی طاقتیں بیچ میں آکر مصالحت کرانے کیلئے کود پڑیں گی۔

پاکستان کو مجبور کیا جائے گا کہ آزاد کشمیر کے وہ علاقے کہ جن پر بھارت قبضہ کرچکا ہوگا، واپس لینے کیلئے پاکستان لائن آف کنٹرول کوا یک مکمل عالمی سرحد کے طور پر قبول کرلے۔
دوسری جانب عالمی طاقتیں پاکستان کو کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی سے روکنے کی ذمہ دار ہونگی۔

جب مقبوضہ کشمیر میں تحریک مزاحمت دم توڑ چکی ہوگی، اور آزاد کشمیر کے بھی بڑے علاقوں پر بھارت کا قبضہ ہوگا، اورعالمی طاقتیں پاکستان کو بین الاقوامی سرحد کے پار کوئی بڑی کارروائی کرنے سے بھی روک رہی ہونگی، توا یسے میں پاکستان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ بچے کھچے آزاد کشمیر کو لے کر ہی چپ کر جائے۔

یہاں تک پہنچنے کے بعد بھارت کشمیر سے مسلمانوں کے انخلاءکا سلسلہ شروع کرے گا۔ لاکھوں کی تعداد میں ہندو لا کر وادی میں آباد کیے جائیں گے۔ کشمیری مسلمانوں کو یا تو قتل کردیا جائے گا یا دھکیل کر بچے کھچے آزاد کشمیر کی سرحد سے پار بھیج دیا جائے گا۔ کشمیر مکمل طور پر ہندو اکثریتی علاقہ بن جائے گا۔

میں آپ کو صاف بتارہا ہوں کہ عالمی طاقتوں کی اس سازش میں عمران اور یہاں تک کہ خود پی ٹی آئی کی حکومت کے اندر اہم لوگ اس ناپاک کھیل کا حصہ ہیں۔

یہ جو کچھ ہم نے آپ کو اوپر بتایا ہے کہ یہ وہ عالمی سازش ہے کہ جس کے تحت اس وقت بھارت کشمیر میں کارروائی کررہا ہے۔
اس تمام سازش کو پلٹنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے:
پاکستان آزاد کشمیر سے آگے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوجائے اور وسیع ترین علاقے کو آزاد کرالے۔

اگر پاکستان مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو کر ایک بھاری علاقے کو آزاد کرالیتا ہے تو پھر بازی بھارت کے خلاف پلٹ جائے گی۔
وادی کے اندر کشمیر کی تحریک آزادی بھی بھڑک کر طوفان بن جائے گی اور مودی سرکار کو جو ذلت و رسوائی اٹھانا پڑے گی، وہ پوری بھارتی ریاست کو ہلا کر رکھ دے گی۔

بھارت کے سارے پلان کا انحصار دو باتوں پر ہے، اورا گر ہم ان دو باتوں پر ہی بازی پلٹ دیں تو یہ سارا پلان ناکام ہوجائے گا۔
-1 وادی میں کرفیو اور قتل عام کے ذریعے تحریک آزادی کومکمل طور پر کچل دینا۔
-2 عالمی دباﺅکے ذریعے پاکستان کو مجبورکرنا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں داخل نہ ہوسکے۔

اور یہی دو کام آج ہر حال میں پاکستان کوکرنے ہیں۔ ہمارے پاس وقت بالکل بھی نہیں ہے۔ وادی میں کرفیو کو تین دن گزرچکے ہیں۔ لاکھوں کشمیری مسلمان بھوکے پیاسے اپنے گھروں میں محصور ہیں۔ ان پرکیا گزر رہی ہے، وہ دنیا میں کسی کو نہیں معلوم۔
دوسری جانب عالمی طاقتیں ہمیں مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے سے روک رہی ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ نہ وہ ڈرنے والا ہے نہ جھکنے والا۔ اب یہ اس کا حتمی امتحان ہے۔ ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ وادی کے اندر کشمیری مسلمان ذبح کیے جارہے ہیں، بھارتی فوج کا سارا پلان آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کا ہے۔ ہم نے ان دونوں چالوں کو دشمن کے منہ پر واپس پلٹنا ہے اورفوری۔۔۔

اگر ہم نے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو کر بھارتی فوج کے آزاد کشمیر پر حملے کے پلان کو ناکام نہیں بنایا، تو یاد رکھیں، کل آزاد کشمیر کا بہت بڑا حصہ بھی ہمارے ہاتھ سے نکلنے والا ہے۔ اب دفاعی نہیں، جارحانہ جنگ کا وقت ہے۔
دشمن خود ہمیں موقع دے چکا ہے، آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے۔

آج ہماری یہ ٹویٹس پاکستان کے حکمرانوں اور قوم پرایک حجت تام ہیں۔ آج کے بعد پاکستان میں کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ ان کو دشمن کی چالوں سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ نہ عمران شکایت کرسکے گا، نہ سپہ سالار، نہ پاکستان کی اشرافیہ نہ پاکستان کی قوم۔
مجھے تھا حکم اذاں، اب ان شاءاللہ لرزے گا شبستان وجود۔۔۔!
کاپی پیسٹ

Supervision of Dengue Surveillanve Indoor and out door Teams at UC Qutbal (Attock)
02/08/2019

Supervision of Dengue Surveillanve Indoor and out door Teams at UC Qutbal (Attock)

31/07/2019
22/07/2019
Photos from School Health & Nutrition Supervisor Attock's post
13/07/2019

Photos from School Health & Nutrition Supervisor Attock's post

30/06/2019

گزشتہ روز سے میرے سامنے تین خبریں چل رہی ہیں۔
پہلی خبر یہ تھی
"پاکستان نے تین ہزار افغانیوں کے لیے فری سکالرشپ کا اعلان کر دیا"
دوسری خبر یہ تھی
"پاکستان نے افغان مہاجرین کی مدت قیام میں مزید ایک سال کا آضافہ کر دیا۔"
اور
تیسری خبر یہ تھی،
"افغانستان اور پاکستان کے میچ کے دوران افغانیوں کے پاکستان مخالف نعرے، افغانیوں کا میچ ہارنے کے بعد پاکستانی شائقین پر حملہ، افغانیوں کی گراونڈ کے اندر آکر پاکستانی ٹیم پر حملے کی کوشش، 16افغانیوں کا اکیلے ایک پاکستانی پر تشدد۔"
یہ تین خبریں پڑھیں، تو بطور ایک محب وطن پاکستانی میرا دل چھلنی ہو گیا۔
کیا بطور ایک ایٹمی طاقت ہم اتنے ہی گر گئے ہیں کہ ایک نمک حرام قوم کو انکا اصل مقام نہیں دکھا سکتے؟
کیا ہمارے لیے یہ نمک حرام افغانی ہمارے ملک سے زیادہ عزیز ہیں۔؟ کیا ہم نے ان افغانیوں کی لگائ ہوئ آگ سے اپنے ستر ہزار پاکستانیوں کے ٹکڑے اکھٹے نہیں کیے؟
آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے سیاست دان ان نمک حراموں کو ملک سے نکالنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے اور ملک تباہ و برباد کروا رہے ہیں؟
پاکستانی شائقین پر حملہ کرنے والے افغانیوں کے پاسپورٹ چیک کر لیں، آپ حیران رہ جائیں گے کہ یہ حملہ آور وہی لوگ ہیں جو پاکستانی پاسپورٹ پر ان مغربی ممالک میں داخل ہوئے ہیں۔
اگر حکومت چاہے تو انکے پاسپورٹ بلاک کروا کر انہیں انکی اوقات یاد دلا سکتی ہے، لیکن ہمیں معلوم ہے کہ حکومت کوئ ایکشن نہیں لے گی۔
آخر میرا ان افغانیوں کے لیے ایک چھوٹا سا پیغام ہے:
"تم جیتو یا ہارو، سنو تم انمول نمک حرام ہو"

Address

ATTOCK
Attock City

Attock

Telephone

03335366775

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when School Health & Nutrition Supervisor Attock posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to School Health & Nutrition Supervisor Attock:

Videos

Nearby health & beauty businesses


Other Medical & Health in Attock City

  • HealthCare TM

    HealthCare TM

    Near Mosque Faridia Mehria, Mohallah Aali Jah, Street no.2
Show All

Comments

Assalamualaikum all colleagues are requested to keep sharing your activities pix with www.shns.pk And keep visiting the site, share ideas for betterment. Thank you so much
سکول ہیلتھ سکریننگ ایپ استعمال کرنے کا طریقہ سیکھیں، وزٹ کریں ویب سائٹ
Wana Download SHP app? Visit
Assalamualaikum please share your daily SHP activities at this Email address [email protected] It's your forum, keep visiting www.shns.pk السلام وعلیکم آپ سے گزارش ہے کہ اپنی روزانہ کی سکول ہیلتھ پروگرام ایکٹیویٹی ہمارے ساتھ اس ای میل ایڈریس پر شیئر کیا کریں [email protected] اور ویب سائٹ ضرور وزٹ کریں اور اپنے کولیگز کی ایکٹیویٹیز دیکھیں اور کمنٹ کرکے حوصلہ افزائی بھی کریں ویب سائٹ وزٹ کرنے کیلئے اس لنک پر کلک کریں www.shns.pk شکریہ ایڈمن
All SHNS are invited to to share their activities on www.shns.pk Send your activity pix and details to [email protected]
السلام وعلیکم تمام کولیگز سے گذارش ہے کہ میں نے باقاعدہ ایک ویب سائٹ رجسٹر کروا لی ہے۔ اور ڈیولپمنٹ کا کام بھی تقریباً مکمل ہے۔آپ سے درخواست ہے کہ اس فورم سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور اسے کامیاب بنانے کیلئے مجھے تمام نیوٹریشن سپروائزرز کی رہنمائی اور تعاون چاہئے۔ جو لوگ لکھاری ہیں وہ اپنے آرٹیکلز شیئر کریں، جو لوگ بہترین تصاویر شیئر کر سکتے ہیں، جو لوگ سٹیٹک پیج ڈیزائن کر سکتے ہیں۔۔۔سب کے تعاون کی ضرورت ہے۔ انشاء اللہ جلد ویب سائٹ آپریشنل ہوگی۔ www.shns.pk آپ سب کے تعاون اور دعا کا طلبگار طاہر سمرا
Please tell me about Qualification for nutrition supervisor for health department??
ppsc ky through health and nutration supervisor ki vacancies kb ayen gi
Which of the following female mosquito is the cause of dengue fever? 1.N.O.A 2.Anopilies 3.Aedes Aegypteis 4.Barinohils
For Health & Nutrition courses: https://www.facebook.com/FoodologyIncorporation/
Admissions Open in South Korea: Undergraduate Programs: Bachelors of Software Engineering Bachelors of Chemical Engineering Bachelors of Polymer Science & Engineering Bachelors of Advanced Materials Science & Engineering Bachelors of Mechanical Engineering Bachelors of Civil & Environmental Engineering Admission Deadlines: May , 30th. 2018 IELTS 5.5 Education: Intermediate with 60 % Marks Age: 23 Bank Statement: 22 Lac Rupees Tuition Fee: 2000 USD to 3500 USD Per Semester Application Fee: 155 USD Consultant Fee is separate from above stated Fees. Scholarships Adviser http://www.StudyAtAbroad.com NO SMS NO WHATSAPP 😉 Only Phone Call for Details. 0300-8223140 5b020cf48aa36