13/07/2026
ہومیو و ہربل ڈاکٹر عتیق رحمن شیخ (ماہر امراض اعصاب)
واٹس ایپ رابطہ: 03216615464
Facebook.com/Dr.Friend786
زیادہ بلڈ پریشر۔۔۔۔۔۔ صحت کے لئے پُر خطر
ہماری رگوں میں محو سفر خون کی مثال بجلی کی تاروں میں دوڑنے والے کرنٹ جیسی ہے جسم میں جہاں جہاں خون کی سپلائی پہنچے گی وہاں وہاں توانائی پہنچے گی اور اسی توانائی کو استعمال کرکے جسم اپنے افعال سرانجام دینے کے قابل ہوگا۔
ہمارے جسم میں خون کو رواں رکھنے کیلئے قدرت نے دو قسم کی رگوں کا جال بنُا ہے ایک قسم وہ ہےجو ہمارے جسم سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور فضلہ مواد والا (ناصاف )خون لے کر دل کے حوالے کرتی ہیں یہ رگیں وریدیں(Veins) کہلاتی ہیں ۔
ان کی دیواریں پتلی ہوتی ہیں اور خون کے الٹے بہاؤ کو روکنے کے لیے ان میں چھوٹے والو (Valves) ہوتے ہیں۔
رگوں کی دوسری قسم میں شریانیں (Arteries)شامل ہیں
شریانیں آکسیجن سے بھرپور (صاف) خون دل سے نکال کر جسم کے تمام حصوں تک لے جاتی ہیں۔
ان کی دیواریں لچکدار اور مضبوط ہوتی ہیں کیونکہ ان میں خون زیادہ دباؤ کے ساتھ بہتا ہے۔
جسم کی سب سے بڑی شریان کو شریانِ اعظم (Aorta) کہتے ہیں
بلڈ پریشر (خون کا دباؤ) خون کی نالیوں پر پڑنے والا دباؤ ہےایک صحت مند بالغ انسان کا نارمل بلڈ پریشر 120/80 mmHg سے کم ہونا چاہیے
سسٹولک (اوپر کا نمبر) دل کی دھڑکن کے دوران زیادہ سے زیادہ دباؤکو ظاہر کرتا ہے۔
ڈائیسٹولک (نیچے کا نمبر) دل کی دھڑکن کے درمیان سب سے کم دباؤظاہر کرتا ہے
ہائی بلڈ پریشر ایک ایسی حالت ہے جس میں آپ کی شریان کی دیواروں کے خلاف خون کے بہاؤ کی قوت اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ یہ جلد یا بدیر صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے، بلڈ پریشر دونوں سے معلوم ہوتا ہے، دل کے پمپ کرنے والے خون کی مقدار اور آپ کی شریانوں میں اس کے خلاف مزاحمت کی مقدار۔ جب آپ کے دل میں زیادہ خون پمپ کیا جاتا ہے اور آپ کی شریانیں تنگ ہوتی ہیں تو آپ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوتے ہیں۔ بے قابو ہائی بلڈ پریشر آپ کی صحت کی سنگین حالتوں کا خطرہ بڑھاتا ہے جیسا کہ فالج، برین ہیمرج، ہارٹ اٹیک۔
بلڈ پریشر کی اقسام اور حدود درج ذیل ہیں:
• نارمل: 120/80 mmHg سے کم
• بلند (Elevated) 130 / 85 mmHg
• ہائی بلڈ پریشر (اسٹیج 1) 140 / 90 mmHg
• ہائی بلڈ پریشر (اسٹیج 2) 150 / 100
• بلڈ پریشر کی ایمرجنسی صورتحال (Crisis): 180/120 mmHg
• ہائی بلڈ پریشر کی علامات:
اسے "خاموش قاتل" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ بعض اوقات اس کی کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں لیکن اکثر اس کی علامات میں شدیدسر درد،سانس لینے میں تنگی،
دل کی گھٹن،دھڑکتا ہوا سینہ،الجھن،بصارت کے مسائل،ناک سے خون بہنا،تھکاوٹ،غیر معمولی سینے کا درد،گردن پر پسینہ آناشامل ہیں۔
• ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات:
ایک خراب/غیر صحت مند طرز زندگی جیسے غیر صحت بخش خوراک مثلاً زیادہ چکنائی والی غذا کا استعمال جس سے کولیسٹرول لیول بڑ ھ جاتا ہے، نمک کا زیادہ استعمال ،غیر فعال طرز زندگی، مسلسل تناؤ یا دباؤ، ہائی بلڈ پریشر کاخاندانی مرض ،تمباکو نوشی ،شراب نوشی ،محرک ڈرنکس اور غذاوں کا کثرت استعمال ،درد کش ادویہ کا لمبے عرصہ تک استعمال ، جسمانی قوت کیلئے غیر قدرتی ادویہ کا استعمال پوٹاشیم کی کمی اور موٹاپاایسے عوامل ہیں جو ہائی بی پی کو متحرک کرتے ہیں۔
• ہائی بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے کیلئے اقدامات:
بلڈ پریشرکو متوازن رکھنے کیلئے کچھ اقدامات ایسے ہیں جو علاج کے دوران بھی ضروری کرنے کے ہیں بلکہ علاج سے بھی پہلے اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے ہیں جیسا کہ
خوراک میں نمک اور چکنائی کم کریں، روزانہ کم از کم 30 منٹ ورزش یا کم از کم واک ضرور کریں، پانی زیادہ پئیں، مصنوعی اور ڈبہ بند غذاوں سے اجتناب کریں ، پھل اور سبزیاں استعمال کریں ، وزن کو کنٹرول میں رکھیں، ذہنی دباو اور تناو سے خود کو بچا کر رکھیں اور اپنے بلڈ پریشر کو وقتا فوقتا چیک کرتے رہیں۔
• ہائی بلڈ پریشر کا علاج:
ہائی بلڈ پریشر کا مرض لاحق ہوجائے تو اپنے طرز زندگی میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اس کے علاج پر خصوصی توجہ دینا بھی نہایت ضروری ہے تقریباًتمام ہی مروجہ طریقہ علاج ایلوپیتھک ، ہومیوپیتھک اور طب یونانی میں اس کا تسلی بخش علاج موجود ہے مریض کو چاہئے کہ اس کے علاج کو مکمل شفایابی کے حصول تک مستقل جاری رکھے ، ہومیوپیتھی اور ہربل طریقہ علاج میں اس کا قطعی اور بے ضرر علاج موجود ہے جو نہ صرف مریض کو اس موذی مرض سے نجات دلا کر دل ، دماغ اور گردوں کو لاحق خطرات سے چھٹکارا دلاتا ہے بلکہ مریض کی قوت حیات کو بھی بحال رکھتا ہے اور مریض کو ایک صحت مند نارمل زندگی کی طرف واپس لانے میں بھرپور مدد فراہم کرتا ہے
Everyone Products