DG Health Media

DG Health Media Health Education

Operating as usual

29/09/2021

اہل لاہور خبردار! ڈینگی پھر سر اٹھانے لگا. ڈینگی سے بچاؤ کے لئے سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج دستیاب اور ڈینگی ٹیمیں گھر گھر جا کر انسداد ڈینگی میں مصروف عمل ہیں.

29/09/2021

اہل لاہور خبردار! ڈینگی پھر سر اٹھانے لگا. ڈینگی سے بچاؤ کے لئے سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج دستیاب اور ڈینگی ٹیمیں گھر گھر جا کر انسداد ڈینگی میں مصروف عمل ہیں.

plz ensure availability of hand sanitizer on meeting tables
29/09/2021

plz ensure availability of hand sanitizer on meeting tables

plz ensure availability of hand sanitizer on meeting tables

29/09/2021
29/09/2021
media talk on importance of COVID-19 vaccination and SOPs، plz comply Wash hand،  Wear Mask، Watch social distancing and...
29/09/2021

media talk on importance of COVID-19 vaccination and SOPs، plz comply Wash hand، Wear Mask، Watch social distancing and complete vaccination

29/09/2021

اہل لاہور خبردار! ڈینگی پھر سر اٹھانے لگا. ڈینگی سے بچاؤ کے لئے سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج دستیاب اور ڈینگی ٹیمیں گھر گھر جا کر انسداد ڈینگی میں مصروف عمل ہیں.

29/09/2021
28/09/2021
27/09/2021

ٹیکرز نمبر1780-A
لاہور27ستمبر:
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکی زیر صدارت ڈینگی کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے خصوصی اجلاس
اجلاس کے دوران صوبہ بھر میں ڈینگی کے پھیلاؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ
ڈینگی کے پھیلاؤ کے اسباب پر غور،تجاویز اورسفارشات پیش کی گئی
وزیراعلیٰ کا ڈینگی سے بچاؤ کیلئے حفاظتی اقدامات مزید موثر بنانے کا حکم
ڈینگی کنٹرول کے لئے عملے کی کا رکردگی کو مانیٹرکرنے کی ہدایت
ڈینگی کو کنٹرول اوربچاؤ کے اقدامات میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔عثمان بزدار
سرویلنس ٹیموں کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔عثمان بزدار
ڈینگی کے حوالے سے غلط رپورٹنگ پر کارروائی کی جائے۔عثمان بزدار
پنجاب میں تمام سرکاری ہسپتال ڈینگی کے حوالے سے پوری طرح الرٹ ہیں۔عثمان بزدار
پنجاب کے تمام ہسپتالوں میں ڈینگی وارڈ پوری طرح فنکشنل ہے۔عثمان بزدار
غیر ضروری سپرے کے نقصانات سے عوام کو آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔عثمان بزدار
کورونااور ڈینگی کے ساتھ بیک وقت نمٹنا چیلنج ہے،متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔عثمان بزدار
محکمہ صحت اوردیگرانتظامی حکام کی وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ڈینگی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ
غیر ضروری سپرے انسانی صحت کیلئے مضرثابت ہوسکتا ہے۔بریفنگ
ممکنہ ڈینگی مریضوں کے لئے ادویات اوردیگر ضروری طبی سامان فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔بریفنگ
وزیر صحت،چیف سیکرٹری،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ،سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ،سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن،سیکرٹری سکول ایجوکیشن،سیکرٹری انفارمیشن،چیئرمین پی آئی ٹی بی اوردیگر متعلقہ حکام کی شرکت
کمشنر راولپنڈی۔ملتان۔فیصل آباد۔اور گوجرانولہ کی ویڈیو لنک سے شرکت

27/09/2021

اہل لاہور خبردار! ڈینگی پھر سر اٹھانے لگا. ڈینگی سے بچاؤ کے لئے سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج دستیاب اور ڈینگی ٹیمیں گھر گھر جا کر انسداد ڈینگی میں مصروف عمل ہیں.

Secretary PSHC inspected polio team at Multan۔ Dr Haroon Jehangir Khan DG Health accompanied
25/09/2021

Secretary PSHC inspected polio team at Multan۔ Dr Haroon Jehangir Khan DG Health accompanied

25/09/2021
24/09/2021
24/09/2021
24/09/2021
23/09/2021
23/09/2021

ڈپٹی کمشنر خانیوال نے انسداد پولیو مہم کا افتتاح کیا. ضلع میں 5 لاکھ 52 ہزار 29 بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے.

23/09/2021

پنجاب کے تمام اضلاع میں ڈینگی کا عملہ ڈینگی سے بچاؤ کے لئے فیلڈ میں موجود ہے

22/09/2021

Secretary PSHC inspected polio team at Multan۔ Dr Haroon Jehangir Khan DG Health accompanied

Secretary PSHC inspected polio team at Multan۔ Dr Haroon Jehangir Khan DG Health accompanied
22/09/2021

Secretary PSHC inspected polio team at Multan۔ Dr Haroon Jehangir Khan DG Health accompanied

22/09/2021

MS MSSH Multan gives briefing to Secretary PSHC and DGHS Pb

MS MSSGH received DGHS
22/09/2021

MS MSSGH received DGHS

MS MSSGH received DGHS

morning meeting with DHA Multan in connection with Secretary PSHC visit
21/09/2021

morning meeting with DHA Multan in connection with Secretary PSHC visit

morning meeting with DHA Multan in connection with Secretary PSHC visit

21/09/2021

محکمہ صحت پنجاب کی طرف سے ڈینگی سے بچاؤ کےلئے ڈینگی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں

20/09/2021

ٹیکرز نمبر1720
لاہور20ستمبر:
پنجاب میں انسداد پولیو کی 5 روزہ مہم کا باقاعدہ آغاز
وزیراعلیٰ آفس میں انسداد پولیو مہم کے حوا لے سے خصوصی تقریب
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بچوں کو انسداد پولیو ویکسین پلا کر مہم کا آغاز کیا
مشیر صحت حنیف پتافی نے بھی بچوں کو انسداد پولیو ویکسین کے قطرے پلائے
5 روزہ انسداد پولیو مہم 24 ستمبر تک جاری رہے گی۔عثمان بزدار
مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر کے ایک کروڑ 68 لاکھ 80 ہزار بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔عثمان بزدار
ایک لاکھ 56ہزار پولیو ورکرز مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔عثمان بزدار
پنجاب بھر میں انسداد پولیو کی خصوصی مہم کے دوران 100فیصد ویکسینیشن کا ہدف پورا کیا جائے گا۔عثمان بزدار
پولیو مہم کے دوران کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔عثمان بزدار
پولیو کے خاتمے کے لئے گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلانے والے ورکرز قومی ہیرو ہیں۔عثمان بزدار
ضلع، تحصیل او رنچلی سطح پر پولیو ورکرز کے لئے حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔عثمان بزدار
عوامی نمائندے بھی انسداد پولیو ویکسینیشن میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔عثمان بزدار
اضلاع میں ڈپٹی کمشنر اور تحصیلوں میں اسسٹنٹ کمشنر پولیو ویکسینیشن مہم کی کامیابی کے لئے تمام تر کاوشیں کریں۔عثمان بزدار
دوسرے صوبوں سے آنے والے بچوں کو انسداد پولیو ویکسین ضرور پلائی جائے۔عثمان بزدار
پنجاب کو پولیو فری بنانے کا ہدف پورا کرنے کے لئے ہر فرد اپنی ذمہ داری پوری کرے۔عثمان بزدار
پنجاب کو پولیو فری بناناہمارا مشن ہے۔ عثمان بزدار
اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بچہ انسداد پولیو ویکسینیشن سے محروم نہ رہے۔ عثمان بزدار
سیکرٹری پرائمری و سکینڈری ہیلتھ اور ایڈیشنل سیکرٹری کوآرڈینیشن پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ نے بھی بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے

پولیو کے خاتمے کی قومی مہم  تاریخ: 20-24 ستمبر*******مہم کا تعارف پولیو کے خاتمے کی مہم  پنجاب سمیت ملک بھر میں 20 سے 24...
20/09/2021

پولیو کے خاتمے کی قومی مہم
تاریخ: 20-24 ستمبر
*******
مہم کا تعارف
پولیو کے خاتمے کی مہم پنجاب سمیت ملک بھر میں 20 سے 24 ستمبر تک جاری رہے گی ۔ یہ ایک 5 روزہ مہم ہوگی جس میں دو روز ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں تک ویکسین پہنچانے کے لئے وقف ہوں گے۔
صوبہ بھر میں، اس مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 1 کروڑ 68 لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جائیں گے۔
اس مہم میں تقریبا 156,000 پولیو ورکرز شریک ہوں گے جن میں 12,484 ایریا انجارچ، 3865 ضلعی اور یونین کونسل سپروائزرز، 130,368 گشتی ٹیموں کے اراکین، 4709 مستقل مقامات پر تقرر شدہ کارکنان اور 5000 عبوری مقامات پر تعینات شدہ ممبران شامل ہیں۔
صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے ترجیحی علاقوں میں مقامی ٹیموں کی طرف سے مہم کے لئے کی جانے والی سرگرمیوں کی تیاری اور مہم کے انعقاد میں سہولت فراہم کرنے کے لئے تمام علاقوں کے ماہرین تعینات کردیے ہیں۔
اس مقصد کے لئے تمام فرنٹ لائن پولیو ورکرز کو کووِڈ 19 ایس او پیز ، پروٹوکول اور حفاظتی اقدامات پر مکمل تربیت دی گئی ہے۔ ان تمام حفاظتی اقدامات پر ہر گھر تک پہنچنے اور فیلڈ وزٹس کے دوران سختی سے عمل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، تمام فرنٹ لائن پولیو ورکرز کو ذاتی تحفظ کے آلات (پی پی ایز) بھی فراہم کردیے گئے ہیں۔
مہم کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے صوبائی ٹاسک فورس کے جائزہ اجلاسوں کے اوقات بھی بھی طے کئے جاچکے ہیں۔
اہم پیغامات:
• منظرِ عام پر آنے والے پولیو کیسز کی تعداد میں کمی اور منفی ماحولیاتی نمونوں کی صورت میں پاکستان اور خاص طور پر پنجاب میں، وبائی امراض کے رجحانات کے نقطۂ نظر سے، پولیو کے خاتمے کے مثبت آثار واضح ہورہے ہیں۔ مثال کے طور پر 10 ستمبر 2021 تک پنجاب میں پولیو کا ایک بھی کیس منظرِ عام پر نہیں آیا۔
• قومی سطح پر اس سال پولیو کا صرف ایک کیس سامنے آیا ہے جبکہ گذشتہ سال اس وقت تک 84 کیس منظرِ عام پر آچکے تھے۔ اس کے ساتھ ، اس سال مثبت ماحولیاتی نمونوں کی تعداد میں بھی واضح کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔
• یہ پروگرام ماضی میں بھی ، کیسز میں کمی کی صورت میں، اسی طرح کے حوصلہ افزا نتائج پیش کرتا رہا ہے مگر یہ بات موجودہ صورتِ حال کو مزید حوصلہ افزا بنا رہی ہے کہ اس بار کیسز کے ساتھ ساتھ ماحول میں پائے جانے والے وائرس میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔
• پاکستان افغانستان کے علاوہ دنیا کا دوسرا ملک ہے جہاں اس وقت بھی پولیو وائرس نہ صرف موجود بلکہ حرکت میں ہے۔
• شواہد کے تجزیے سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ دونوں ممالک وبائی امراض کا ایک بلاک بن چکے ہیں۔
• اس پروگرام کی اب تک حاصل ہونے والی کامیابیاں انتہائی نازک ہیں اور یہ کسی بھی وقت مثبت سے منفی رُخ اختیار کرسکتی ہیں۔ پولیو وائرس کی منتقلی کے موسموں میں جب وائرس انتہائی فعال ہوتا ہے تو اس کے پھیلاؤ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ لہٰذا ملک کو پولیو سے مکمل طور پر پاک کرنے اور پھر پاک رکھنے کے لئے، اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے حوالے سے سال 2019 اور 2020 مشکلات کے سال تھے کیونکہ ان دو برسوں کے دوران منظرِ عام پر آنے والے کیسز کی تعداد بالترتیب 147 اور 84 رہی۔ انہی دو برسوں کے دوران پنجاب میں بالترتیب 14 اور 12 کیس رپورٹ ہوئے۔
• انسدادِ پولیو کے پروگرام کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی بھرپور توجہ اعلیٰ معیار کی مہمات کے انعقاد پر مرکوز رکھے اور پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانا یقینی بنائے۔ پولیو ویکسین کے قطروں سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد اب بھی ناقابلِ قبول حد تک زیادہ ہے اور ان بچوں کے محروم رہ جانے کی کئی وجوہات ہیں۔ جیسا کہ گذشتہ برسوں کے دوران دیکھا گیا ہے، انسدادِ پولیو کا پروگرام سال کے آغاز میں طے شدہ تمام مہمات کا بغیر کسی رکاوٹ کے انعقاد یقینی بناتا رہا ہے اور اس بار بھی یہ پروگرام کی کارکردگی میں مزید بہتری لاکر مشکلات سے نمٹنے کے لئے نئی طرز کے تخلیقی اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
• وائرس جہاں بھی موجود ہے ، ان علاقوں سے اس کا وجود مٹانے کے لئے ہر بار ہر بچے کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانا بے حد ضروری ہے تاکہ آبادی کی قوتِ مدافعت کی تعمیر سے وائرس کے پھیلاؤ کا عمل ہمیشہ کے لئے روکا جاسکے۔
• کوریج کی اس بلند ترین سطح کے حصول کے لوگوں کا اس حقیقت سے آگاہ ہونا ضروری ہے کہ ویکسین مفید اور محفوظ ہے اور والدین انسدادِ پولیو کے پروگرام پر مکمل اعتماد کرسکتے ہیں۔

پولیو کے خاتمے کی قومی مہم
تاریخ: 20-24 ستمبر
*******
مہم کا تعارف
پولیو کے خاتمے کی مہم پنجاب سمیت ملک بھر میں 20 سے 24 ستمبر تک جاری رہے گی ۔ یہ ایک 5 روزہ مہم ہوگی جس میں دو روز ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں تک ویکسین پہنچانے کے لئے وقف ہوں گے۔
صوبہ بھر میں، اس مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 1 کروڑ 68 لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جائیں گے۔
اس مہم میں تقریبا 156,000 پولیو ورکرز شریک ہوں گے جن میں 12,484 ایریا انجارچ، 3865 ضلعی اور یونین کونسل سپروائزرز، 130,368 گشتی ٹیموں کے اراکین، 4709 مستقل مقامات پر تقرر شدہ کارکنان اور 5000 عبوری مقامات پر تعینات شدہ ممبران شامل ہیں۔
صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے ترجیحی علاقوں میں مقامی ٹیموں کی طرف سے مہم کے لئے کی جانے والی سرگرمیوں کی تیاری اور مہم کے انعقاد میں سہولت فراہم کرنے کے لئے تمام علاقوں کے ماہرین تعینات کردیے ہیں۔
اس مقصد کے لئے تمام فرنٹ لائن پولیو ورکرز کو کووِڈ 19 ایس او پیز ، پروٹوکول اور حفاظتی اقدامات پر مکمل تربیت دی گئی ہے۔ ان تمام حفاظتی اقدامات پر ہر گھر تک پہنچنے اور فیلڈ وزٹس کے دوران سختی سے عمل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، تمام فرنٹ لائن پولیو ورکرز کو ذاتی تحفظ کے آلات (پی پی ایز) بھی فراہم کردیے گئے ہیں۔
مہم کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے صوبائی ٹاسک فورس کے جائزہ اجلاسوں کے اوقات بھی بھی طے کئے جاچکے ہیں۔
اہم پیغامات:
• منظرِ عام پر آنے والے پولیو کیسز کی تعداد میں کمی اور منفی ماحولیاتی نمونوں کی صورت میں پاکستان اور خاص طور پر پنجاب میں، وبائی امراض کے رجحانات کے نقطۂ نظر سے، پولیو کے خاتمے کے مثبت آثار واضح ہورہے ہیں۔ مثال کے طور پر 10 ستمبر 2021 تک پنجاب میں پولیو کا ایک بھی کیس منظرِ عام پر نہیں آیا۔
• قومی سطح پر اس سال پولیو کا صرف ایک کیس سامنے آیا ہے جبکہ گذشتہ سال اس وقت تک 84 کیس منظرِ عام پر آچکے تھے۔ اس کے ساتھ ، اس سال مثبت ماحولیاتی نمونوں کی تعداد میں بھی واضح کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔
• یہ پروگرام ماضی میں بھی ، کیسز میں کمی کی صورت میں، اسی طرح کے حوصلہ افزا نتائج پیش کرتا رہا ہے مگر یہ بات موجودہ صورتِ حال کو مزید حوصلہ افزا بنا رہی ہے کہ اس بار کیسز کے ساتھ ساتھ ماحول میں پائے جانے والے وائرس میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔
• پاکستان افغانستان کے علاوہ دنیا کا دوسرا ملک ہے جہاں اس وقت بھی پولیو وائرس نہ صرف موجود بلکہ حرکت میں ہے۔
• شواہد کے تجزیے سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ دونوں ممالک وبائی امراض کا ایک بلاک بن چکے ہیں۔
• اس پروگرام کی اب تک حاصل ہونے والی کامیابیاں انتہائی نازک ہیں اور یہ کسی بھی وقت مثبت سے منفی رُخ اختیار کرسکتی ہیں۔ پولیو وائرس کی منتقلی کے موسموں میں جب وائرس انتہائی فعال ہوتا ہے تو اس کے پھیلاؤ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ لہٰذا ملک کو پولیو سے مکمل طور پر پاک کرنے اور پھر پاک رکھنے کے لئے، اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے حوالے سے سال 2019 اور 2020 مشکلات کے سال تھے کیونکہ ان دو برسوں کے دوران منظرِ عام پر آنے والے کیسز کی تعداد بالترتیب 147 اور 84 رہی۔ انہی دو برسوں کے دوران پنجاب میں بالترتیب 14 اور 12 کیس رپورٹ ہوئے۔
• انسدادِ پولیو کے پروگرام کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی بھرپور توجہ اعلیٰ معیار کی مہمات کے انعقاد پر مرکوز رکھے اور پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانا یقینی بنائے۔ پولیو ویکسین کے قطروں سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد اب بھی ناقابلِ قبول حد تک زیادہ ہے اور ان بچوں کے محروم رہ جانے کی کئی وجوہات ہیں۔ جیسا کہ گذشتہ برسوں کے دوران دیکھا گیا ہے، انسدادِ پولیو کا پروگرام سال کے آغاز میں طے شدہ تمام مہمات کا بغیر کسی رکاوٹ کے انعقاد یقینی بناتا رہا ہے اور اس بار بھی یہ پروگرام کی کارکردگی میں مزید بہتری لاکر مشکلات سے نمٹنے کے لئے نئی طرز کے تخلیقی اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
• وائرس جہاں بھی موجود ہے ، ان علاقوں سے اس کا وجود مٹانے کے لئے ہر بار ہر بچے کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانا بے حد ضروری ہے تاکہ آبادی کی قوتِ مدافعت کی تعمیر سے وائرس کے پھیلاؤ کا عمل ہمیشہ کے لئے روکا جاسکے۔
• کوریج کی اس بلند ترین سطح کے حصول کے لوگوں کا اس حقیقت سے آگاہ ہونا ضروری ہے کہ ویکسین مفید اور محفوظ ہے اور والدین انسدادِ پولیو کے پروگرام پر مکمل اعتماد کرسکتے ہیں۔

Dr Haroon Jehangir Khan talk to media on prevention and control in this morning
20/09/2021

Dr Haroon Jehangir Khan talk to media on prevention and control in this morning

The United States Government donated FDA-approved Pfizer vaccines to the Government of Punjab. At a ceremoney at Lahore ...
20/09/2021

The United States Government donated FDA-approved Pfizer vaccines to the Government of Punjab. At a ceremoney at Lahore Expo Center with Dr.Yasmin Rashid, Punjab Minister of Health and Dr.Haroon Jahangir Director General Health Services Punjab, U.S. Consul General William Makaneol said that he is "thrilled to announce that the U.S donation of 320,580 doses of Pfizer COVID-19 vaccines for Lahore arrived on September 10." An additional 320,850 Pfizer vaccine does arrived earlier for Multan and Faisalabad.

19/09/2021

اوکاڑہ میں ڈپٹی کمشنر علی اعجاز نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح کیا. پولیو کا آغاز 20 ستمبر سے ہو گا.

Dr Haroon Jehangir Khan DG Health discussed patient care with the duty doctor during his visit to THQ Fort Abbas in the ...
18/09/2021

Dr Haroon Jehangir Khan DG Health discussed patient care with the duty doctor during his visit to THQ Fort Abbas in the late evening on 17th Sep 2021

Dr Haroon Jehangir Khan DG Health discussed patient care with the duty doctor during his visit to THQ Fort Abbas in the late evening on 17th Sep 2021

18/09/2021

ڈینگی بخار سے بچاؤ کیلئے ہسپتال جانے کے بعد چند ضروری معلومات.

18/09/2021

پولیو مہم شروع ہے اپنے 5 سال تک کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں اور پولیو سے محفوظ بنائیں.

18/09/2021

فیروز والا میں 15 سے 18 سال کے بچوں کو کرونا ویکسینیشن کا عمل شروع کر دیا گیا. ویکسینیشن کا آغاز ڈی جی ہیلتھ پنجاب, سی ای او شیخوپورہ اور ڈی ڈی ایچ او فیروز والا نے کیا.

Meeting of Director EPI with Dr. Zeina from BMGF Headquarters
18/09/2021

Meeting of Director EPI with Dr. Zeina from BMGF Headquarters

Meeting of Director EPI with Dr. Zeina from BMGF Headquarters

Address

24 - Cooper Road Lahore, Punjab
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DG Health Media posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to DG Health Media:

Nearby health & beauty businesses


Other Health & Wellness Websites in Lahore

Show All

Comments

Health Services Academy Islamabad, Ministry of National Health Services, Regulation and Coordination Government of Pakistan offers Promoting Public Health with GIS Intervention Courses for Health professionals from UN Agencies, INGO, Health department of Provinces and Ministry of Health https://www.hsa.edu.pk/short-courses-2021#scrollTop=0
ڈی ایچ او آفس کے سٹاف کی دوران ڈیوٹی شاندار ڈانس پارٹی عوام کو شدید مشکلات اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ
https://www.facebook.com/groups/4173888589291414/?ref=share اس گروپ کو جوائن کریں اور دینی پوسٹ شیئر کریں شکریہ
3saal contract py kam Krny valy Govt vaccintors jin ky orders policy 2004 ky mutabiq kiay Gy hen unhin mianwali vlon ny Jo khud ab manty hen Keh hm sy glti hue ordrs Krny mn to in mn ab un bichary vaccintors ka Kya qasor jo 3 saal bad unhin farig kr dya Gya Qayamat dha di g*i un py qareeb ko rozgar sy b e rozgar kya Gya yh Pakistan ki history ki bad tareen na insafi hy Vaccintors py Rahim kru
محکمہ صحت میں بڑی تبدیلی ، نئے ڈی جی ہیلتھ پنجاب کون ہیں۔۔؟ خبر آگئی http://healthnews.com.pk/2003-urdu-news وہ ایماندار شخص کون ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟جاننے کیلئے لنک پر کلک کریں
👨‍🍳
وزیراعلی پنجاب 1978 سے epi program جاری ہے جس کے زریعے معثوم بچوں کو 10مہلک بیماریوں سے بچاو کے انجیکشن اور پولیو کے قطرے پلاے جاتے ہیں آج ہر یونین کونسل میں چار ویکسی نیٹرز ہونے چاہیے تھے مگر حیران کن بات یہ ہے کہ پنجاب کی 500یونین کونسل میں ایک ویکسی نیٹر ہی نہیں پولیو کیسے ختم ہوگا کیسے معثوم بچوں کو بیماریوں سے بچایا جاۓ گا جب کے اب کرونا واٸرس سے بھی لوگوں کو بچانا ہے اس لیے فوری ویکسی نیٹرز بھرتی کیے جاٸیں پنجاب میں تاکہ ویکسینیش 100 فیصد ہو شکریہ
مطالبہ ہیلتھ ملازمین پنجاب
আইইডিসিআর এর পরিচালককে নিঃশর্ত ক্ষমা চাইতে হবে প্রেস ব্রিফিংয়ে মেডিক্যাল টেকনোলজিস্টদের টেকনিশিয়ান বলার জন্য! গেজেটভুক্ত একটি পদের নামকে বিকৃতি নামে বার বার মিডিয়ার সামনে উপস্থাপন করা কতটুকু যৌক্তিক? সব শ্রেনী পেশার মানুষকে দৃষ্টি আকর্ষণ করছি আপনারা সঠিক নামে উচ্চারণ করুন, ডেঙ্গু, করোনা সহ সকল রোগ নির্ণয় করে থাকি আমরা মেডিক্যাল টেকনোলজিস্ট বৃন্দ কিসের টেকনিশিয়ান? এই নামে কোন পদ নেই! আর কোনো অন্যায় অপমান সহ্য করা হবে না.