Hakeem Altaf Desi Khzana

Call Directions Contact the business

Hakeem Altaf Desi Khzana Good

نظام انہضام۔  اکثر دوست احباب شکوہ کرتے ہیں اور اکثر عام مریض بھی دیر سے شفاء یاب ھوتے ہیں یا دوا دیر سے اثر انداز ھوتی ...
14/09/2026

نظام انہضام۔
اکثر دوست احباب شکوہ کرتے ہیں اور اکثر عام مریض بھی دیر سے شفاء یاب ھوتے ہیں یا دوا دیر سے اثر انداز ھوتی ھے اور بعض اوقات لوگوں پہ دوا اثر ہی نہیں کرتی چاہے وہ ایلوپیتھی ھو یا یونانی اسکی آخر وجہ کیا ھے۔
آج مختصر سی تحریر سے کوشش کریں گے کہ یہ بات واضح ھو جائے ۔
پہلے ادوار میں اطباء مریض کی تشخیص کرتے تھے تو گہری نظر تعفن پر ہوتی تھی بالکل پہلی تشخیص ہی یہی ھوتی تھی کہ کام کیا کرتے ھو اور پھر اگر مریض کا کام محنت مشقت والا ھوتا تو سہی ورنہ پھر تعفن زدہ ھونے کا کنفرم ھوجاتا۔
اب تعفن سے کیا مراد ھے تو جناب ہم جو کچھ کھاتے ہیں اگر سہی طریقے سے پراسیس ھوکر آنتوں سے خارج نہ ھو تو خوراک کے کچھ ذرات آنتوں میں آکٹھے ھوتے رہتے ہیں اور پھر اسطرح چند ماہ کے بعد آنتوں کا فلٹریشن سسٹم بند ھو جاتا ھے اور انسانی وجود میں خوراک کے غذائی اجزاء اپنے مقام تک نہیں پہنچ سکتے اور پھر انسانی جسم میں اس مقام پر علامت ظاہر ھونا شروع ھو جاتی ھے۔
چونکہ انہضام کا بنیادی مقام معدہ ھے اور پھر غذا کی ترسیل آنتوں سے ھوتی ھے اور پھر جگر اسکو مطلوبہ مقام تک منتقل کرتا ھے تو مطلب یہ کہ۔بنیادی مقام ہی ڈسٹرب ھوگیا ۔
اس موجودہ دور میں ہم جس قدر ناقص غذا استعمال کرتے ہیں اور بچوں سے لیکر بڑوں تک آرام دہ زندگی گزارتے ہیں یا وہ لوگ جو آفس جاب کرتے ہیں تقریبا نوے فیصد لوگ تعفن کا شکار ھوتے ہیں اور یہی وجہ ھے کہ طرح طرح کے امراض کی بھر مار ھے ،
کبھی سوچیں کہ جو میدہ اور آٹا گوندھنے کے وقت ہاتھوں سے چپک جاتا ھے وہ آنتوں کا کیا حشر کرتا ھوگا مگر ہم وقت بے وقت ان چیزوں کا شوقیہ استعمال کرتے ہیں ۔
بہرحال مختصر یہ کہ ایلوپیتھی میں تو تعفن کا کوئی وجود ہی نہیں اور حقیقت یہ ھے کہ اگر آپکی آنتوں میں تعفن ھوگا تو دوا کھائیں گے اور اخراج تو ھوگا مگر اسکا اثر مرض تک نہیں پہنچ پائے گا اور مجبوری سے دوسرے دن ہم پھر جائیں گے ڈاکٹر کے پاس اور یہی وجہ ھے کہ گولی کیپسول کی نسبت ڈاکٹر کا زیادہ انحصار اس وقت انجیکشن پہ ھوتا ھے کیونکہ انجیکشن ڈائریکٹ آپکے بلڈ میں شامل ھوجاتا ھے وہ آنتوں کی طرف تو جاتا ہی نہیں ۔
لب لباب یہ کہ اس کچرے بھرے معاشرے اور زہر آلود خوراک کے جس دور سے ہم گزر رہے ہیں تو ہمیں علاج سے پہلے جلاب لینا چاہئے تاکہ تعفن (میل ) آنتوں سے صاف ھو اور دوا بھی اثر کرے اور مذید پیچیدہ مسائل سے بھی بچا جا سکے !!!
اللہ پاک ہر مسلمان کو صحت اور سکھ سلامتی عطاء فرمائے۔

ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج حکیم محمد الطاف بھٹہ ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

فَتَعٰلَی اللّٰہُ الۡمَلِکُ الۡحَقُّ ۚ وَ لَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یُّقۡضٰۤی اِلَیۡکَ وَحۡیُہٗ ۫ وَ ق...
11/09/2026

فَتَعٰلَی اللّٰہُ الۡمَلِکُ الۡحَقُّ ۚ وَ لَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یُّقۡضٰۤی اِلَیۡکَ وَحۡیُہٗ ۫ وَ قُلۡ رَّبِّ زِدۡنِیۡ عِلۡمًا ۔ آمین

طب یونان۔
اخلاط اور امراض۔
جو دوست عرصہ دراز سے ہمارے ساتھ ہیں انکو اس بات کا اندازہ ھوگا کہ ہماری کوشش دوا فروشی نہیں بلکہ فروغ طب اور خدمت خلق ھے
ہماری کوشش ھوتی ھے معاشرتی، طبی ، اسلامی ہر پہلو سے انسانی بقاء پر بات کی جائے اور موجودہ معاشرتی نظام اور آنے والے بھیانک وقت سے پہلے آپکو طبی معلومات فراہم کی جائیں۔
آج کا طبیب قطعی ان عوامل سے مبرا نظر آتا ھے اور یہی وجہ ھے کہ طبیب کو پنسار سٹور دواخانہ پہ سجانا پڑتا ھے ورنہ چند ادویات سے ہی ہر قسم کا علاج ممکن ھے ۔
بہرحال ہم اپنے ٹاپک کی طرف چلتے ہیں تو جناب 932 ء میں مسلمان سائنس دانوں نے جو تجربہ کیا اور پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مجموعہ قرار دیا جدید سائنس آج تک اسی قانون کی پابندی سے تشریح کرتی آرہی ھے یعنی H2O لکھا پڑھا جاتا ھے۔ ( تفصیلی پوسٹ پیج پر پہلے سے موجود ھے )

اب آجائیں دوسری بات پر تو طب نے 5 سو سال قبل مسیح انسان کے اندر موجود مادے واضح کر دیئے جنکو طبی زبان میں اخلاط کہا جاتا ھے ۔
طب میں چار چیزوں کا ذکر ھے جن میں سوداء ، صفرا بلغم اور خون شامل ہیں اور پھر سائنس نے ترقی کرتے ھوئے انکے انگریزی نام رکھ دیئے، Yellow bile, black bile ,blood, phlegm اور اسطرح سائنس ترقی کرگئی 😊
اب طب نے تو ان کے متعلق تفصیل سے لکھ دیا کہ یہ مادے کہاں ھوتے ہیں اور انکا مرکز مقام کیا ھے مگر سائنس اس علم سے قاصر ھے بلکہ جتنا کچھ بھی ملے گا انشاءاللہ طب کی نقل ہی ملے گی کوئی نئی تحقیق نہیں ملے گی ۔
اب یہاں دو چیزیں ہم لکھیں گے تاکہ ہماری تحریر کا مفہوم واضح ھوجائے کیونکہ مکمل تفصیل ممکن نہیں ۔
تو جناب سوداء ایک مادہ ھے جو دل میں پیدا ھوتا ھے یعنی مقام سوداء دل ھے اور اسکا کام دماغی صحت کو برقرار رکھنا ھوتا ھے اور پھر اگر دماغ سہی ھوگا تو اسکا اثر معدہ پر ھوگا۔
اب جب یہ مادہ کم مقدار میں پیدا ھو یا خشک ھو جائے تو بہت سے دماغی امراض جنم لیتے ہیں جنکا جدید سائنس نیا نام رکھ دیتی ھے اور خوب کاروبار ھوتا ھے مگر علامات کے جتنے مرضی نام رکھ لیں مثلا اینگزائٹی، ڈپریشن، او سی ڈی، وغیرہ سب کا تعلق سوداء سے ہی ھے
اب دوسری طرف آجائیں صفراء تو جناب اسکا مقام جگر ھے اور صفراء کا کام جگر کے افعال کو بہتر رکھنا ھے اور اگر اس میں خشکی یا تیزی آئے گی تو خون کے امراض وجود پذیر ھونگے اور جگر کے امراض کے ساتھ ساتھ جہاں جہاں خون کا دارومدار ھے وہاں پیچیدہ امراض کا خطرہ بڑھتا جائے گا ۔
اب اس کی علامات کا بھی نام رکھتے جائیں ہیپاٹائٹس، ورم جگر ، پھوڑے پھنسی، قبض ، ہاتھ پاوں کی جلن وغیرہ وغیرہ

خلاصہ عرض کروں تو طب میں ہم خلط کا علاج کرتے ہیں جو کہ مکمل علاج کہلاتا ھے جو قلیل مدت علاج ھوتا ھے مگر ایلوپیتھی میں صرف علامات کا علاج ھوتا ھے جسکی وجہ سے مریض زندہ رہنے تک ادویات استعمال کرتا رہتا ھے اور نفسیاتی طور پر پھر خود کو لاعلاج تصور کرنے لگ جاتا ھے۔

ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج حکیم محمد الطاف بھٹہ ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4
نوٹ۔
تصویر جدید سائنس سے لگائی ھے تاکہ دوستوں کو سچ کا علم ھو باقی آپ ہر بات کی تصدیق گوگل پہ جاکر کر سکتے ہیں ۔

مذید معلومات اور تفصیلات کے لیے ہمارا پیج فالو کریں یا مشورہ کے لیئے شام 6 بجے سے رات 10 بجے تک کال کریں

جندبیدستر (Castoreum)    بہت مرتبہ لکھا اور ساتھ قرآنی آیات اور حوالہ جات بھی لکھے مگر دوست صرف فریش پوسٹ پڑھتے ہیں اور ...
30/08/2026

جندبیدستر (Castoreum)

بہت مرتبہ لکھا اور ساتھ قرآنی آیات اور حوالہ جات بھی لکھے مگر دوست صرف فریش پوسٹ پڑھتے ہیں اور بہت کم لوگ پیج پر مطلوبہ مضمون تلاش کرتے ہیں۔
گزارش یہ ھے کہ میں کسی طبیب کے خلاف نہیں مگر حرام چیز کے خلاف ضرور ھوں اور سچ لکھنا گناہ نہیں۔
احباب آجکل جندبیدستر اور ریگ ماہی کے سوشل میڈیا پہ چرچے ہیں مگر حقیقت یہ ھے کہ جس طرح شراب حرام ھے یہ چیزیں بھی حرام ہیں۔

جندبیدستر اور ریگ ماہی غیر مذہب طبیب آج سے لگ بھگ چار سو سال پہلے کرتے تھے اور پھر چند کتب میں بھی نسخہ جات تحریر ہیں مگر قطعی کسی مسلم طبیب نے انکا استعمال جائز نہیں لکھا اور نہ ہی طبیب جالینوس اور طبیب کبیر الدین جیسے اطباء کی تصانیف میں ان چیزوں کا ذکر ھے بلکہ ہمارے دادا پردادا بھی ان چیزوں کو حرام قرار دیتے تھے۔
بہت سے خاندانی اطباء جو اس وقت عمر کے آخری حصہ میں ہیں کئی مرتبہ ان سے بھی بات ھوئی تو انہوں نے ان چیزوں سے نفرت کا اظہار کیا۔
دراصل یہ ایک جنگلی چوہے جیسا جانور ھے جسکے خصیئے نکال کر جندبیدستر کے طور پر استعمال ھوتے ہیں اور یورپ میں شاید اور بھی بہت سے کام لیئے جاتے ہیں مگر حقیقت یہی ھے کہ یہ حرام ھے اور دوسری بات یہ جانور چونکہ پاکستان میں نہیں پایا جاتا تو شاید یہ خصیئے بھی خالص نہ ھوں۔

دوسری چیز ھے ریگ ماہی وہ ایک صحرائی چھپکلی ھے جسکو آجکل مردانہ کمزوری کے نسخہ جات میں استعمال کیا جا رہا ھے اور بلا خوف و خطر استعمال کیا جارہا ھے۔
اب انکی افادیت اور نقصان بھی بیان کرنا ضروری ھے تو کچھ چیزوں کے متعلق بتا دیتا ھوں کہ جندبیدستر کو شہوت کی غرض سے استعمال کیا جاتا ھے اور ریگ ماہی کو ٹائمنگ بڑھانے کی غرض سے استعمال کیا جاتا ھے۔
انکا نقصان یہ ھے کہ چونکہ یہ حرام ہیں تو ان سے شفاء قطعی ممکن نہیں ہاں مگر یہ شراب کی طرح وقتی خباثت اور انتشار کا سبب ضرور بنتی ہیں۔
جندبیدستر انتہائی گرم اور خشک ھے جس سے خون میں گرمی پیدا ھوتی ھے اور دل میں خشکی پیدا ھوتی ھے اور اسی وجہ سے یہ خصوصا دل اور گردوں کے لیئے انتہائی مضر ھے اور جب سوداء خشک ھو جائے تو پھر دماغی صلاحیت ختم ھونے لگتی ھے۔

جند بیدستر میں ایک کیمیائی جزو Methanol پایا جاتا ھے جسکو شراب کے مترادف مانا جاتا ھے اور یہ خون میں انتہائی کم وقت میں بہت زیادہ تیزابیت پیدا کرتا ھے کیونکہ اسکو کیمسٹری کے مطابق کیمیائی جزو مانا جاتا ھے اور اسکا استعمال انڈسٹریل سطح پہ ھوتا ھے
دوسری طرف ریگ ماہی بھی گرم اور خشک ھے لیکن یہ نظام تنفس یعنی پھیپھڑوں میں خشکی پیدا کرتی ھے ساتھ ہی جہاں یہ مادہ تولید کو گاڑھا کرتی ھے وہاں رطوبات بدنییہ کو چند دنوں میں خشک کر دیتی ھے اور انسان سانس کے امراض, مہروں اور جوڑوں کے امراض میں مبتلا ھو جاتا ھے۔
اب مختصر بات کہ جو چیز حضرت آدم علیہ السلام کے وقت پیدا فرمائی گئی اور اس میں انسانیت کے لیئے خیر و برکت عطا کر دی گئی اسکا نعم البدل یہ حرام جند بیدستر کیسے ھو سکتی ھے ؟؟

یعنی کہ اگر کوئی کستوری اور جندبیدستر اور شہد اور شراب کو ایک جیسا مان لے تو پھر اسکی عقل پہ ماتم ہی بنتا ھے۔

یہ انتہائی خباثت والی چیزیں ہیں جو آجکل کے نیم حکیم بڑے کھلے دل سے بتا رہے ھوتے ہیں مگر افسوس خوف خدا نہیں۔

میں کسی کے رزق کے خلاف نہیں وہ اللہ پاک کی دین ھے مگر حرام کھلانے والوں کے خلاف تھا اور رہونگا ۔

اللہ پاک ہمیں ہدایت عطا فرمائے اور رحم فرمائے۔ آمین

ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج حکیم محمد الطاف بھٹہ ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

゚

طب یونانی کی تاریخ !!!      بابل میں دو دریاؤں دجلہ اور فرات  کے درمیان جو خشک پٹی تھی اسکو " پڑھوا" کہا جاتا تھا  وہاں ...
22/08/2026

طب یونانی کی تاریخ !!!

بابل میں دو دریاؤں دجلہ اور فرات کے درمیان جو خشک پٹی تھی اسکو " پڑھوا" کہا جاتا تھا وہاں ایک قوم آباد تھی جنہوں نے مختلف طبیبوں اور سائنس دانوں کے نظریات کو دیکھتے ھوئے اسقلی بیوس نے طب کا آغاز کیا اسطرح بابل کو طب یونان کا مرکز مانا جاتا ھے ۔
طب یونان کی تاریخ بہت قدیم ھے اسکا اغاز 500 سال قبل مسیح میں ھوا ۔ اسکے بعد مصر ایران عرب اور یورپ میں اسکا عروج شروع ھوا اور یورپ ممالک نے اسکو مدنظر رکھتے ھوئے دوسرے طریقہ علاج پر بھی کام شروع کر دیا ،
تیرھویں صدی میں ہندوستان میں یہ فن مقبول و مشہور ھوتا گیا اور تاحال برصغیر میں یہ فن مقبول و مشہور ھے ۔
ان اڑھائی ہزار سال میں اس فن کے بہت سے قابل اور مشہور طبیب ھوئے جنہوں نے طب کے بنیادی اصولوں کے مطابق علمی اور عملی میدان میں بہت مہارت دکھائی اور طب کی بقاء کا باعث بنے .
یہ ایک حقیقت ھے کہ طب یونانی کا دور بہت شاندار رہا اور اسکی وجہ اس فن کے ماہر اور قابل اطباء کا وجود تھا
فن طب کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اس میں ان تمام امراض کا کامل اور بے ضرر علاج موجود تھا جسکی تشخیص و تفہیم میں عصری جدید طریقہ علاج آج بھی قاصر و عاجز ھے
طب یونانی میں آج بھی ایسے تمام امراض کا علاج موجود ھے جو دور جدید کے کسی طرز علاج میں ممکن نہیں مگر ریاستی و حکومتی بے حسی نے اس طریقہ کار کو اپاہج کر دیا ھے اور فرنگی نے اپنا کاروبار چمکانے کے لیئے سب کچھ خرید لیا ھے .
پالمیر یونیورسٹی امریکہ کے شعبہ نیوٹریش کے ماہرین کا کہنا ھے کہ طب یونانی کے طریقہ علاج کی خوبی یہ ھے کہ اسکی کوئی ذیلی اثرات نہیں ہیں اور اس میں عارضہ قلب جگر اور رگوں و نسوں کا بہترین علاج موجود ھے ۔
طب یونانی کے لیئے یہ بات باعث فخر ھے کہ یہ صرف برصغیر پاک و ہند اور ایران میں ہی نہیں بلکہ مغرب بھی اسکی بنیادی اکائیاں دیکھ کر حیران ھے اور اس طریقہ علاج کا اعتراف کرتا ھے اور بے ضرر خوبیوں کا متعرف ھے حتی کہ ضرورت پڑنے پر اسی کی نقل کی جاتی ھے۔
ایلوپیتھی کوئی طریقہ علاج نہیں ھے بلکہ یہ ایک ٹرم اٹھارویں صدی میں استعمال کی گئی جو کہ ہومیوپیتھی کے موجد سیموئل بنیمان نے دوسرے طریقہ علاج سے الگ کرنے کے لیئے استعمال کی تھی مگر پھر اٹھارویں صدی میں مسلمان حکمرانوں کے ساتھ ساتھ طب کا زوال بھی شروع ھوگیا اور ایک طبی جنگ شروع ھوئی اور انسانیت سے کھیل کھیلنے کا میدان سج گیا جسکا خمیازہ آج انسان بھگت رہا ھے ۔

کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کی ممتاز شخصیت مولانا عبدالرحیم کا کہنا ھے کہ اس جیسے بے ضرر طریقہ علاج کی اس وقت اہم ضرورت ھے اور حکومتی اداروں کو چاہیے کہ اس طریقہ علاج کے لیئے بہترین اقدامات کیئے جائیں اور جسطرح اس طریقہ علاج کی پذیرائی کو روندا گیا قابل افسوس ھے ، انکا کہنا ھے کہ سرپرستی نہ ھونے کے باوجود طب یونان جسطرح اپنی افادیت برقرار رکھے ھوئے ھے یہ بات قابل ستائش ھے اور فن سے منسلک اطباء کی محنت ایمانداری اور جذبہ خدمت خلق ھے ۔
اب یہاں ہم اپنی تحریر کو تھوڑا سا وسیع کریں گے کیونکہ میرا سفر حق سچ کا ھے اور خدمت خلق اور فروغ طب میرا مقصد ھے
پاکستان میں طب یونانی کا عروج تھا حکیم سعید مرحوم حکیم اجمل خاں مرحوم حکیم عبداللہ مرحوم جیسے اطباء اور حکیم عبدالرحیم خان نیازی مرحوم جیسے کئی اطباء جنہوں نے اس فن کی اور عوام کی سربلندی کے لیئے نواب ھونے کے باوجود اپنی زندگیاں طب کے لیئے وقف کر دیں اور بھرپور کوشش جاری رکھی جو کہ 1935 کی بات ھے مگر پھر ایک سائنسدان ملتان میں پیدا ھوتا ھے اور 1955 میں طب یونانی میں انقلاب برپا کرتے ھوئے تمام مسلمان سائنس دانوں اور طبیبوں کو غلط ثابت کرتے ھوئے طب کا بیڑا غرق کر دیتا ھے اور طب کی نئی شاخ اور نیا نظریہ مفرد اعضاء پیش کر دیتا ھے
طب کو اتنا آسان کر دیتا ھے کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا طبیب بن کے بیٹھ جاتا ھے بس چند دن چند کتابیں پڑھنے سے اور ریاضی جیسے چند الٹے سیدھے قلیے یاد کر لیں تو آپ طبیب بن سکتے ہیں۔

اس نظریہ اور فلسفہ نے فرنگی کی راہ مذید ہموار کر دی اور لوگ متنفر ھو گئے اور آج بھی لوگ طب سے کنارہ کشی اختیار کیئے بیٹھے ہیں۔
اب مشکل یہ ھے کہ مریض کے لیئے انتخاب نہ ممکن ھے کہ کون طبیب کس طریقہ علاج کے مطابق کام کر ریا ھے اور پھر مایوسی کی صورت میں ہمہ قسم طب کو بدنام کیا جاتا ھے ۔

طب یونان صدیوں پہلے کے مشہور سائنسدانوں اور مسلمان اطباء کے فلسفہ جات کا نچوڑ ھے یہ قطعی ایک انسان کے مفروضے کا نام نہیں ھے

اب دو لفظوں میں خلاصہ یہ ھے کہ 500 سال قبل مسیح کا طریقہ علاج غلط اور کل کی ایجاد ایلوپیتھی کو درست ماننے والوں کی عقل پہ پردہ ھے باقی سچائی کا اس سے کوئی تعلق نہیں!!!

ہمارا مقصد فلاح طب اور خدمت خلق ھے انشاءاللہ

مذید معلومات اور تفصیلات کے لیے ہمارا پیج فالو کریں۔
ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج حکیم محمد الطاف بھٹہ ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

゚

مرکبات طب یونان !  اگر آپ بھی عمر کے ہاتھوں پریشان ہیں اور ازدواجی زندگی سے مایوس ہیں یا شوگر نے کھوکھلا کردیا تو ہمارے ...
20/08/2026

مرکبات طب یونان !
اگر آپ بھی عمر کے ہاتھوں پریشان ہیں اور ازدواجی زندگی سے مایوس ہیں یا شوگر نے کھوکھلا کردیا تو ہمارے مجرب شاہی مرکبات لبوب کبیر ، کشتہ الماس ، جوہر الذھب ، حب الزواج اور سنیاسی خاص کیپسول استعمال کریں اور بھرپور زندگی کا انجوائے کریں !!!
معیار اور صحت پہ کوئی سمجھوتہ نہیں اسلیئے ہم خالص اجزاء مشک عنبر سونا مروارید وغیرہ استعمال کرتے ہیں جنکے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں !
مکمل علاج کے لیئے واٹس ایپ پہ رابطہ کریں تاکہ مکمل تشخیص کے بعد آپکا مکمل کورس ترتیب دیا جا سکے !
قیمت پوچھنے والوں سے انتہائی معذرت کیونکہ اصول علاج تشخیص ھے !
ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج حکیم محمد الطاف بھٹہ ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لا

مغلظ اور طلاء    اکثر سوشل میڈیا پہ دیکھنے کو ملتے ہیں ایسے نسخہ جات جن میں دس قسم کی دوا ھوتی ھے اور مغلظ بھی شامل ھوتے...
24/07/2026

مغلظ اور طلاء

اکثر سوشل میڈیا پہ دیکھنے کو ملتے ہیں ایسے نسخہ جات جن میں دس قسم کی دوا ھوتی ھے اور مغلظ بھی شامل ھوتے ہیں اور ساتھ طلاء بھی دیئے جاتے ہیں۔
کل ایک صاحب کا نسخہ دیکھا جس میں موصوف نے کستوری بھی شامل کی عنبر بھی اور ساتھ جند بیدستر بھی توبہ توبہ میں تو دیکھ کر پریشان ھو جاتا ھوں ۔
جناب بات صرف سمجھ کی ھے اور میری کوشش ھوتی ھے کہ عوام میں آگاہی ھو , ہر عام و خاص کو بات کی سمجھ ھو اور لوگ نوسربازی سے بچ سکیں۔
عوام کی پہلی غلطی یہ کہ خود طبیب کے پاس نہیں جاتے اسلیئے طبیب کی حقیقت کا علم ہی نہیں ھوتا اور نوسرباز بغیر سند کے گھر بیٹھے دوائیں بنا بنا کر بیچ رہے ہیں
دوسری بات عوام خود ساختہ علاج معالجہ پسند کرتی ھے جس سے مذید پیچیدہ مسائل پیدا ھوتے ہیں۔
تیسری بات یہ کہ زیادہ دوائیں دیکھ کر لوگ خوش ھوتے ہیں حالانکہ اگر مقام مرض کی صحیح تشخیص کی جائے تو راشن پیکج کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ۔
المختصر جب ہم کشتہ سونا یا الماس مرکب دیتے ہیں تو صرف ایک آدھ دوا ساتھ دی جاتی ھے جو جلدی سے اور کم وقت میں دل اور دماغ کو طاقت دیتی ھے باقی اعضاء رئیسہ و شریفہ کا مکمل علاج تو کشتہ جات میں ہی موجود ھوتا ھے تو کلو کے حساب سے راشن پیکج اور مغلظ و طلاء کی کیا ضرورت؟؟؟؟
مادہ پتلا صرف دو صورتوں میں ھوتا ھے یا تو صفراء بڑھ جاتا ھے اور مادہ کو جمنے نہیں دیتا اور یہ ضعف جگر کی وجہ سے ھوتا ھے ، اور جب آپ کشتہ سونا لیتے ہیں اور جگر کو طاقت ملتی ھے تو پھر مغلظ کی ضرورت نہیں رہتی
دوسری بات مادہ تبھی پتلا ھوتا ھے جب انسان سوداء کی زیادتی کا شکار ھو اور سوداء کی بہتات وجہ بنتی ھے اعصاب کی کمزوری کی اور اسطرح انسان کا دل دماغ پہ کنٹرول کمزور ھوجاتا ھے اور پھر احتلام، ذکاوت حس اور ٹائمنگ کی کمی کا شکار ھوجاتا ھے
اب یہاں بھی جب کشتہ جات دیے جاتے ہیں تو دل اور دماغ کا علاج اسی میں موجود ھوتا ھے تو پھر مغلظ کیوں دیا جائے ؟؟
اب آجائیں آخری بات کہ طلاء کا بلا وجہ استعمال تو جناب اسی فیصد نفس کے نقائص بھی آپکے دل اور دماغ سے وابستہ ھوتے ہیں آپکے اعصاب میں تناو پیدا ھوتا ھے سردی اور سختی پیدا ھوتی ھے اور نفس سکڑ جاتا ھے، اب علاج دل اور دماغ کا ھونا چاہیئے نہ کہ نفس پہ تیل کی مالش کام آئے گی ۔
اسلیئے اسکا علاج بھی اندرونی دوا سے ہی ممکن ھوگا تو ہم ایسی صورت میں بھی طلاء کی بجائے کشتہ کو مکمل علاج تصور کرتے ہیں جن سے وجود میں حرارت پیدا ھو اعصاب اور پٹھوں کو طاقت ملے اور سکڑے ھوئے پٹھے اپنی اصل حالت میں بحال ھوں ۔
اب ایک مختصر سے نقطہ سے مغلظ کی بات سمجھ لیں کہ مغلظ کا مقصد ھوتا ھے مادہ تولید کو گاڑھا کرنا اور چونکہ اس میں خشکی کا عنصر پایا جاتا ھے تو اس کی وجہ سے بہت سے لوگ پیچیدہ مسائل کا شکار ھو جاتے ہیں جیسا کہ رطوبات بدنیہ کی کمی ، کمردرد سانس کی تنگی ، جوڑوں کے درد اینگزائٹی درد گردہ وغیرہ وغیرہ
اسلیئے بلاوجہ مغلظ دینا یا خود بنا کر کھانا انتہائی نقصان دہ ثابت ھوتا ھے اور اگر اس سے فائدہ ھو بھی جائے تو وہ محض چند دن کے لیئے عارضی ثابت ھوتا ھے س
المختصر بہت کم صورتوں میں طلاء یا مغلظ کی ضرورت ھوتی ھے ناکہ ہر انسان کو ایسی دوا کی ضرورت ھوتی ھے اور بلا وجہ مغلظ استعمال کرنا قطعی مفید ثابت نہیں ھوتا اور اگر فائدہ ھو بھی تو چند دن ہی اثر رہتا ھے کیونکہ اصل مقام کا علاج نہیں ھوتا ۔
بار بار نسخہ تجویز کرنا اور نام ایڈریس ہمارے لیئے یاد رکھنا اور سنبھال کر رکھنا مشکل ھوتا ھے اور صرف تین دن ہم رکھتے ہیں ، لہذا دوبارہ دوبارہ کال یا میسج پہ وقت ضائع مت کیا کریں۔

مذید معلومات اور تفصیلات کے لیے ہمارا پیج فالو کریں یا مشورہ و علاج کے لیئے واٹس ایپ پہ رابطہ کریں۔

ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج حکیم محمد الطاف بھٹہ ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

بیخ (جڑ)  کائنات میں بہت سی جڑی بوٹیاں ایسی ہیں جنکی جڑیں حیران کن افادیت رکھتی ہیں مگر یا تو طبیب کو علم نہیں ھوتا یا م...
24/06/2026

بیخ (جڑ)
کائنات میں بہت سی جڑی بوٹیاں ایسی ہیں جنکی جڑیں حیران کن افادیت رکھتی ہیں مگر یا تو طبیب کو علم نہیں ھوتا یا مطلوبہ جڑی بوٹیاں ملنا ممکن نہیں ھوتا اسلیئے دوا سازی مشکل ھو جاتی ھے۔
صدیوں قدیم اطباء بہت سے کشتہ جات کی بجائے جڑی بوٹیوں کی جڑ دوا میں استعمال کرتے تھے مگر تازہ جڑی بوٹیاں تلاش کر کے دوا تیار کرتے تھے جو کہ محنت طلب کام ھے اور اس دور میں مہنگا بھی پڑتا ھے ۔
ایک اہم بات یہ کہ جڑی بوٹی کی جڑ دس گنا زیادہ افادیت رکھتی ہیں اور تیز اثر ھوتی ہیں
ہم نے کبھی کشتہ تانبہ قلعی پارہ وغیرہ تیار نہیں کیا بلکہ انکا متبادل دوا کے طور پہ استعمال کیا ھے اور الحمدللہ بہترین نتائج ملتے ہیں
جڑپان (خولنجاں) بھی ایک جڑ ھے جو انتہائی مقوی باہ ھے اسی طرح جڑ اونٹ کٹارہ انتشار کے لیئے مفید ھے بیخ مدار امراض نسواں کے لیئے مفید ھے جسے ہم جزو اعظم طور پہ استعمال کرتے ہیں اور سوزش رحم و رسولی کی
مجرب دوا تیار ھوتی ھے
بیشک طب سمندر ھے اور انتہائی محنت طلب کام ھے مگر آجکل سوشل میڈیا کے اتائی حضرات نے لنڈا بازار لگا رکھا ھے اور عوام کو گمراہ کیا جاتا ھے

ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج حکیم محمد الطاف بھٹہ ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

جامن آنے والے ہیں کیا آپ اس کے فوائد جانتے ہیں؟موسم گرما میں آنے والا پھل جامن صحت کے حوالے سے انتہائی مفید اور اہم پھ...
23/06/2026

جامن آنے والے ہیں کیا آپ اس کے فوائد جانتے ہیں؟
موسم گرما میں آنے والا پھل جامن صحت کے حوالے سے انتہائی مفید اور اہم پھل ہے اور دیگر پھلوں کے مقابلے میں بہت زیادہ مہنگا بھی نہیں ہے۔ جامن کے ساتھ ساتھ جامن کی گھٹلیاں اور پتے بھی بہت ساری بیماریوں کے علاج میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ عموماً جامن کھا کر گھٹلیاں پھینک دی جاتی ہیں حالانکہ جامن کی گھٹلیاں مجموعی امراض میں بے انتہا فائدہ پہنچاتی ہیں۔ آپ ان گھٹلیوں کو سکھا کر رکھ سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر استعمال کریں۔ جامن کینسر، دل کی بیماریوں ، ذیابیطس، دمہ ، معدہ اور جلد کے مختلف مسائل کے حل کیلئے نہایت مفید پھل ہے۔ جامن میں اہم غذائی اجزاء جیسے کیلشیئم، آئرن، میگنیشیئم، فاسفورس، سوڈیم، وٹامن، تھیامن، ربوفلیون، نیاسن، کاربوہائیڈریٹ، کیروٹین، فولک ایسڈ، فائبر، فیٹ، پروٹین اور پانی موجود ہوتے ہیں۔ جو صحت کے لئے بے انتہا مفید ہیں۔ لیکن جو بھی کھائیں اعتدال میں رہتے ہوئے کھائیں۔ذیل میں جامن کے فوائد بیان ہیں جن سے آپ آسانی سے اپنے روز مرہ مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں۔
1. جامن معدہ، آنتوں کی جلن،خراش اور کمزوری دور کرنے والی بے مثل غذا ہے۔
2. جامن اسٹارچ کو انرجی میں تبدیل کرکے بلڈ شوگر کی سطح کو نارمل رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ شوگر کے مریضوں کو روزانہ جامن کھانا چاہئے۔
3. بھوک بڑھاتا ہے اور صفراءکا زور توڑ کر معدہ کو طاقت دیتا ہے اور کھانے کو ہضم کرتا ہے۔
4. جامن میں پیاس کی شدت اور خون کی گرمی کم کرنے کی قدرتی تاثیر ہے۔
5. ذیابیطس کے مریضوں کے لئے جامن کا استعمال انتہائی مفید ہے یہ خون میں شکر کی مقدار کو بڑھنے نہیں دیتا۔
6. بڑھی ہوئی تلی کو کم کرنے اور جگر کی صحت کیلئے بہت فائدہ مند ہے نیا خون پیدا کرتا ہے۔
7. گرمی سے نجات کا بہترین ذریعہ ہے لیکن جامن کھانے کے بعد پانی نہ پئیں۔
8. پیشاب کی زیادتی کو کم کرتا ہے مثانہ کی کمزوری دور کرتا ہے۔
9. دانتوں کی صحت کیلئے بھی مفید پھل ہے۔
10. جامن کی گھٹلیاں سکھا کر پیس کر رکھ لیں اور روزانہ تیس ماشہ پانی سے کھالیں ذیابیطس کا خاتمہ ہوجائے گا۔
11. کمر اور پیروں کے درد سے نجات کے لئے جامن گھٹلی سمیت پیسٹ بنا کر کھائیں۔
12. گرتے ہوئے بالوں کو روکتا ہے۔
13. بڑھی ہوئی تلی کیلئے خالی جامن، جامن کا سرکہ یا جامن کا شربت بناکر پینا بہت مفید ہے۔
14. جامن کی چھال کا جو شاندہ اسہال اور پیچش میں فائدہ دیتا ہے۔
15. جامن کی چھال کو پانی میں پکاکر غرارے اور کلیاں کرنے سے پھولے ہوئے مسوڑھوں اور گلے آنے کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔
16. جن کا معدہ کمزور ہو ان کے لئے جامن اور جامن کا سرکہ بہترین دوا کا کام کرتے ہیں۔
17. آنکھوں سے پانی نکلتا ہو یا موتیا آر ہا ہوتو جامن کی گھٹلی سکھاکر باریک پیس لیں اور صبح و شام تین تین ماشہ سادہ پانی کے ساتھ لیں۔
18. جن لوگوں کو رات میں برے خواب آتے ہوں ان کو جامن کی گھٹلی کا پاﺅڈر صبح وشام کھانا چاہئے۔
19. بیٹھے ہوئے گلے اور آواز کیلئے جامن کی گھٹلیوں کو پیس کر چھوٹی چھوٹی گولیاں بنا کر رکھ لیں اور شہد لگاکر چوس لیں۔-
20. کیسے بھی دستوں میں جامن کے درخت کے ڈھائی پتے جو نہ زیادہ سخت ہوں نہ زیادہ نرم پیس کر تھوڑا سا نمک ملا کر اسکی گولیاں بنالیں اور ایک گولی صبح و شام لینے سے دست فوراً رک جائیں گے۔
21. جامن کے پتے السر میں مفید ہیں۔
22. جامن کا جوس مدافعتی نظام کو فروغ دیتا ہے۔
23. اینیمیا کے شکار افراد جامن ضرور کھائیں۔
24. سو گرام جامن میں 55 ملی گرام پوٹاشیم ہوتا ہے، جو دل کے مریضوں کے لئے اچھا ہے۔
25. جامن کے روزانہ استعمال سے ہائی بلڈ پریشر اور اسٹروک کے خطرے سے بچا جا سکتا ہے۔
26. جامن میں موجود وٹامن سی جلد کے لئے بہترین ہے۔
27. ایکنی کے لئے روزانہ رات کو جامن کی گھٹلی پیس کر دودھ میں ملا کر لگانے سے ایکنی ختم ہو جاتی ہے۔
28. داغ دھبوں سے نجات کے لئے جامن کی گھٹلی کا پاﺅڈر، لیموں کا رس، بیسن، بادام کا تیل اور عرق گلاب چند قطرے ملا کر چہرے پر لگائیں جب سوکھ جائے تو دھولیں۔
29. آئلی اسکن کیلئے جامن کا پلپ،جو کاآٹا،آملہ کا رس، اور عرق گلاب ملا کر فیس ماسک کے طور پر استعمال کریں جب سوکھ جائے تو دھولیں۔
30. جامن کا مزاج خشک سرد ہے گرم مزج رکھنے والوں کے لئے مفید ہے۔
ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج حکیم محمد الطاف بھٹہ ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

ہلدی   طب یونان میں ہلدی کو زیادہ تر اینٹی بائیوٹک کے طور پہ استعمال کیا جاتا ھے جیسے قسط کو بھی اسی مقصد کے لیئے استعما...
10/06/2026

ہلدی

طب یونان میں ہلدی کو زیادہ تر اینٹی بائیوٹک کے طور پہ استعمال کیا جاتا ھے جیسے قسط کو بھی اسی مقصد کے لیئے استعمال کیا جاتا ھے مگر طب میں بہت سے جڑی بوٹیاں ہیں جنکا درست استعمال بہت کم لوگ جانتے ہیں اور سوشل میڈیا پہ نیم حکیم حضرات جنہیں صرف کمنٹس چاہیئے ھوتے ہیں ایسے افراد کی بھرمار ھے !
احباب ایک دن ایک صاحب کو دن تقریبا گیارہ بجے شیر مدار نکالتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا کہ محترم آپ طبیب ہیں تو جواب ملا جی میں طبیب ھوں اور میں نے ان سے پوچھا کہ محترم آپ یہ کس مقصد کے لیئے لے رہے ہیں تو بولے ایک نسخہ میں استعمال کرنا ھے
میں نے اپنا تعارف کروایا اور انکو ایک نقطہ سمجھانا چاہا مگر صاحب آگ بگولہ ھو گئے اور میں خاموشی سے آگے نکل گیا ۔
اب بات یہ ھے کہ آک کا زہر دن کو پتوں کونپلوں میں آجاتا ھے جبکہ رات کو جڑوں میں چلا جاتا ھے یہ ہمیں بچپن میں سمجھایا گیا تھا اور پھر یہ نصیحت کی گئی کہ سورج طلوع ھونے سے پہلے شیر مدار نکالنا چاہیئے پھر اسے مصفی کرنا چاہیئے ۔
اب آجائیں اصل ٹاپک کی طرف تو ہلدی ایک عام سے چیز ھے مگر دوا کے طور پہ استعمال کرنی ھو تو ثابت کو بھی پہلے مصفی کر لینا چاہیئے مگر یہ بات کوئی نہیں جانتا اور سوشل میڈیا پہ لوگ مشورے دے رہے ھوتے ہیں اور خاص یہ بات بتاتے ہیں کہ ہلدی ثابت لیں کیونکہ پسی ھوئی ہلدی اچھی نہیں ھوتی ۔
اگر ہلدی کو مصفی نہ کیا جائے تو اسکے ذیلی اثرات طبیعت میں بوجھل پن پیدا کرتے ہیں اور زیادہ مقدار متلی کا سبب بنتی ھے
یہ گرمی اور گھبراہٹ پیدا کرے گی اگر ثابت پیس کر زیادہ دیر تک استعمال کریں گے تو حدت خون کا سبب بنے گی !
لہذا جب بھی ہلدی استعمال کرنا مقصود ھو تو پہلے اسکو مصفی کریں !
طریقہ !
ثابت ہلدی کو رات کے وقت کورے مٹی کے برتن میں پانی سے تر کر کے رکھ لیں اور صبح نکال کر دھوپ میں خشک کرلیں اور یہ عمل تین بار کریں گے تو اسکے ذیلی اثرات ختم ھو جائیں گے پھر اسکو پیس کر استعمال کریں !
شیر مدار طریقہ !
شیر مدار صبح سورج طلوع ھونے سے پہلے مطلوبہ مقدار لیں پھر ہلکی آنچ پہ ابالیں اور جب تھوڑا گاڑھا ھو جائے تو اتار کے رکھ لیں اور چھ گھنٹے بعد پانی نتھار لیں اور حسب نسخہ و ضرورت استعمال کریں !
احباب میں کوئی ارسطو نہیں بہت بڑے بڑے اطباء پاکستان میں موجود ہیں اور ہر انسان دوسرے انسان سے بہتر علم رکھنے والا ھے بیشک
میری کوشش ھوتی ھے اپنی استطاعت مطابق جو طبی علم ھو آپ تک شیئر کیا جائے کیونکہ سوشل میڈیا کا دور ھے اور خود ساختہ علاج معالجہ کی بھرمار ھے جو کہ قطعی درست عمل نہیں ھے !
ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج حکیم محمد الطاف بھٹہ ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

آم کا استعمال!      آم وٹامنز، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس کا خزانہ ہے۔ یہ مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے، نظامِ ہضم بہتر بن...
17/05/2026

آم کا استعمال!
آم وٹامنز، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس کا خزانہ ہے۔ یہ مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے، نظامِ ہضم بہتر بناتا ہے، بینائی تیز کرتا ہے، اور جلد کو تروتازہ رکھتا ہے
قوتِ مدافعت میں اضافہ:
آم میں وٹامن اے اور وٹامن سی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو بیماریوں کے خلاف لڑنے اور مدافعتی نظام کو طاقتور بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بہتر نظامِ ہضم:
اس میں موجود غذائی ریشہ (Fiber) قبض کو دور کرتا ہے اور نظامِ ہضم کو درست رکھتا ہے۔
بینائی کے لیے مفید:
آم میں بیٹا کیروٹین اور وٹامن اے موجود ہوتے ہیں جو آنکھوں کی صحت کو فروغ دینے میں انتہائی مددگار ہیں۔جلد کی خوبصورتی: وٹامن سی کولیجن (Collagen) پیدا کرتا ہے، جو جلد کو جھریوں سے بچاتا ہے اور لچک برقرار رکھتا ہے۔
دل کی صحت:
آم میں پوٹاشیم اور میگنیشیم پایا جاتا ہے، جو دل کی دھڑکن کو معمول پر رکھنے اور ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہیں۔
وزن میں کمی۔
کچا آم فائبر سے بھرپور ہوتا ہے اور کم کیلوریز فراہم کرتا ہے، جس سے پیٹ دیر تک بھرا رہتا ہے اور وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
سب سے بہتر یہ ھے کہ آم کھائیں اور آدھے گھنٹے بعد دودھ کی کچی لسی پی جائے اس طرح آم گرمی بھی نہیں کرے گا اور فوائد بھی زیادہ ہیں !
احتیاطی تدابیر:
چونکہ آم میں قدرتی مٹھاس (شوگر) کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اس لیے ذیابیطس کے مریضوں کو اس کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے اور اعتدال کے ساتھ کرنا چاہیے۔

ہمارا مقصد فلاح طب یونان ھے اور عام عوام تک ادویہ اور جڑی بوٹیوں کی افادیت اور شفافیت کا علم پہنچانا ھے

خود ساختہ علاج معالجہ سے گریز کریں اور علاج ہمیشہ کسی مستند معالج سے کروائیں۔
مزید مشورے یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
رابطہ نمبر
03077872768
مطب ابن سینا
اڈا اکرام سنانواں ضلع کوٹ ادو
المعالج بھٹہ حکیم محمد الطاف ۔ مستند نیشنل کونسل فار طب منسٹری آف ہیلتھ اسلام آباد پاکستان۔
سابق انچارج ڈسپنسری ابن سینا طبیہ کالج ملتان۔
سابق ریسرچ آفیسر ہائی ماؤنٹ فارماسیوٹیکل کمپنی لاہور

https://www.tiktok.com/.altaf.bhutt?_r=1&_t=ZN-91v4lPWkOV4

Address

Sanawan Distt Kot Adu
Multan

Telephone

+923077872768

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem Altaf Desi Khzana posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hakeem Altaf Desi Khzana:

Shortcuts

Share