08/10/2026
# # رات کو کندھے کا درد زیادہ کیوں ہوجاتا ہے؟ ایک فزیوتھراپسٹ کی نظر میں مکمل رہنمائی
دن بھر کی تھکن اور کام کاج کے بعد، جب ہم رات کو پرسکون نیند کے لیے بستر پر جاتے ہیں، تو یہ وقت آرام کا ہونا چاہیے۔ لیکن پاکستان کے بہت سے گھرانوں میں، خاص طور پر درمیانی اور بڑی عمر کے افراد کے لیے، یہ وقت ایک نئی آزمائش کا آغاز بن جاتا ہے۔ کندھے کا وہ درد جو دن میں قابلِ برداشت ہوتا ہے، رات کے پچھلے پہر شدت اختیار کر جاتا ہے، اور انسان کی نیند بالکل اڑا دیتا ہے۔
بہت سے لوگ اس تکلیف کو دیکھ کر فوراً یہ نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں کہ شاید یہ صرف پٹھوں کا کھچاؤ ہے یا "بادی" کا اثر ہے، اور بس چند عام گھریلو ٹوٹکوں یا درد کش گولیوں پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ ایک ماہر فزیوتھراپسٹ کی حیثیت سے، میرا مقصد آپ کو اس تکلیف کے بارے میں درست اور سچی طبی معلومات فراہم کرنا ہے۔ ورلڈ فزیوتھراپی، امریکن فزیوتھراپی ایسوسی ایشن، اور چارٹرڈ سوسائٹی آف فزیوتھراپی کے اصولوں کے مطابق، رات کو کندھے کا درد محض عام تھکن نہیں بلکہ اس کے پیچھے جسمانی ساخت اور پیتھالوجی کی گہری وجوہات ہوتی ہیں۔ آئیے اس اہم مسئلے کو آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں تاکہ آپ بروقت احتیاط اور علاج کر کے ایک صحت مند زندگی گزار سکیں۔
---
# # رات کے وقت درد میں شدت کی بنیادی طبی وجوہات
یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ آخر دن کے مقابلے میں رات کو درد زیادہ کیوں محسوس ہوتا ہے۔ اس کی کئی سائنسی وجوہات ہیں جو عالمی فزیوتھراپی اداروں کے رہنما اصولوں کے مطابق بیان کی جا سکتی ہیں:
# # # 1. جسمانی پوزیشن اور کششِ ثقل (Gravity) کا کردار
دن کے وقت، جب آپ کھڑے ہوتے ہیں یا بیٹھتے ہیں، تو کششِ ثقل آپ کے بازو کو نیچے کی طرف کھینچتی ہے۔ اس قدرتی کھچاؤ کی وجہ سے کندھے کے جوڑ (جو ایک "بال اینڈ ساکٹ" جوڑ ہے) میں تھوڑی سی جگہ بنی رہتی ہے اور ہڈیاں اور پٹھے آپس میں زیادہ نہیں رگڑتے۔
لیکن رات کو، جب آپ بستر پر سیدھے یا کروٹ لے کر لیٹتے ہیں، تو کششِ ثقل کی سمت بدل جاتی ہے۔ اگر آپ درد والے کندھے کے بل لیٹتے ہیں، تو پورے جسم کا وزن اس کندھے پر آ جاتا ہے، جس سے جوڑ پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اگر آپ چت (سیدھے) لیٹتے ہیں، تو بازو کے پٹھے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور کندھے کی ہڈیاں اپنی قدرتی سیدھ سے تھوڑی ہٹ سکتی ہیں، جس سے اندرونی ساختوں پر دباؤ پڑتا ہے۔
# # # 2. خون کی گردش میں کمی (Blood Circulation)
جب ہم سوتے ہیں، تو ہمارا جسم آرام کی حالت میں ہوتا ہے اور دل کی دھڑکن اور خون کی پمپنگ کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ دن کے مقابلے میں رات کے پچھلے پہر جسم کے ان حصوں میں، جہاں پہلے سے ہی کوئی سوزش یا چوٹ ہو، خون کی گردش کم ہو جاتی ہے۔ خون کی کمی کا مطلب ہے کہ متاثرہ حصے تک آکسیجن اور غذائی اجزاء کم پہنچتے ہیں، اور سوزش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فاسد مادے (Inflammatory Markers) وہاں جمع ہونے لگتے ہیں۔ یہ صورتحال درد میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
# # # 3. جوڑوں میں قدرتی چکنائی کی کمی (Synovial Fluid)
ہمارے کندھے کے جوڑ میں ایک قدرتی چکنائی ہوتی ہے جسے "سائنووئیل فلوئڈ" کہا جاتا ہے۔ اس کا کام ہڈیوں کو رگڑ کھانے سے بچانا اور جوڑ کی لچک کو برقرار رکھنا ہے۔ دن بھر مسلسل حرکت کی وجہ سے یہ چکنائی پوری طرح سے جوڑ میں پھیلی رہتی ہے۔ لیکن رات کو، جب جوڑ طویل عرصے تک حرکت نہیں کرتا (خاص طور پر صبح کے وقت)، تو یہ چکنائی گاڑھی ہو جاتی ہے اور ٹھیک سے کام نہیں کرتی، جس سے جوڑ میں اکڑاہٹ اور درد پیدا ہوتا ہے۔
# # # 4. ہارمونز کا کردار (Hormonal Changes)
ہمارا جسم قدرتی طور پر کچھ ایسے ہارمونز پیدا کرتا ہے جو درد کو کم کرنے اور سوزش کو روکنے کا کام کرتے ہیں، مثلاً کورٹیسول (Cortisol) اور ایڈرینالین۔ ان ہارمونز کی سطح دن کے وقت زیادہ ہوتی ہے اور رات کے آخری پہر (عموماً صبح 3 سے 5 بجے کے درمیان) کم ہو جاتی ہے۔ اس قدرتی حفاظتی ڈھال کے کمزور ہونے سے، رات کو موجود سوزش کا درد کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔
# # # 5. دن بھر کی سرگرمیوں کا ردِ عمل
بعض اوقات، دن کے وقت کی جانے والی کوئی خاص حرکت یا کام رات کو درد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اگر آپ نے دن میں کوئی بھاری وزن اٹھایا ہے، سر سے اوپر والے کام کیے ہیں (جیسے کھڑکی صاف کرنا یا پنکھا ٹھیک کرنا)، یا ورزش میں زیادتی کی ہے، تو پٹھوں یا لِگامینٹس میں مائیکرو ٹیئرز (چھوٹے چھوٹے زخم) بن سکتے ہیں۔ ان میں سوجن رات کے وقت پوری طرح ظاہر ہوتی ہے اور شدید درد کا سبب بنتی ہے۔
---
# # کندھے کے درد کی وہ مخصوص اقسام جو رات کو بڑھتی ہیں
کندھے کا درد کئی مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہو سکتا ہے، لیکن ان میں سے کچھ ایسی ہیں جن کا خاص طور پر رات کو درد سے گہرا تعلق ہے:
# # # 1. منجمد کندھا (Frozen Shoulder - Adhesive Capsulitis)
یہ رات کے درد کی سب سے بڑی اور عام وجہ ہے۔ اس کیفیت میں کندھے کے جوڑ کے گرد موجود حفاظتی جھلی موٹی اور سخت ہو جاتی ہے اور جوڑ کی قدرتی چکنائی ختم ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کندھا بالکل "جام" ہو جاتا ہے۔ چونکہ اس میں جوڑ کی حرکت شدید محدود ہو جاتی ہے، رات کو سوتے میں کروٹ بدلتے ہی شدید درد کی لہر اٹھتی ہے جو انسان کو فوراً بیدار کر دیتی ہے۔
# # # 2. روٹیٹر کف انجری (Rotator Cuff Injury/Tendinitis)
روٹیٹر کف کندھے کے چار اہم پٹھوں کا گروپ ہے جو بازو کو اوپر اٹھانے اور گھمانے میں مدد کرتا ہے۔ اگر ان پٹھوں یا ان کے ساتھ جڑے ہوئے ریشوں (ٹینڈنز) میں سوزش (Tendinitis) ہو جائے، یا وہ کسی چوٹ کی وجہ سے پھٹ جائیں (Tear)، تو رات کو درد ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ لیٹتے ہیں، تو کمزور پٹھے ہڈی کو صحیح طرح نہیں تھام سکتے، اور دباؤ بڑھنے سے درد ہوتا ہے۔ یہ درد اکثر کندھے کے اگلے حصے سے شروع ہو کر بازو کے نیچے تک جاتا ہے۔
# # # 3. برسا کی سوزش (Subacromial Bursitis)
ہمارے کندھے میں ہڈیوں اور پٹھوں کے درمیان پانی کی چھوٹی چھوٹی تھیلیاں ہوتی ہیں جنہیں "برسا" (Bursa) کہتے ہیں۔ ان کا کام رگڑ کو کم کرنا ہے۔ اگر ان تھیلیوں میں سوجن ہو جائے، تو کندھے میں شدید جلن والا درد ہوتا ہے، خاص طور پر جب آپ درد والے کندھے کے بل لیٹتے ہیں، تو یہ تھیلی دب جاتی ہے اور درد میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
# # # 4. کیلشیم کا جمع ہونا (Calcific Tendinitis)
بعض اوقات روٹیٹر کف کے ٹینڈنز میں کیلشیم کے چھوٹے چھوٹے ذرات جمع ہو جاتے ہیں۔ جب یہ ذرات تحلیل (Dissolve) ہونے لگتے ہیں، تو یہ آس پاس کے ٹشوز میں شدید سوزش پیدا کرتے ہیں، جس سے رات کو اچانک اور شدید درد شروع ہو جاتا ہے۔
---
# # فزیوتھراپی کا کردار: بغیر آپریشن اور ادویات کے مستقل حل
عالمی فزیوتھراپی اداروں کے رہنما اصول یہ واضح کرتے ہیں کہ کندھے کے اس درد کے لیے فوری طور پر طاقتور درد کش ادویات یا مہنگے آپریشنز کی طرف دوڑنا ہرگز حل نہیں۔ فزیوتھراپی اس مسئلے کے علاج کا سب سے محفوظ، موثر اور سائنسی طریقہ ہے۔
ایک ماہر فزیوتھراپسٹ آپ کے کندھے کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد درج ذیل طریقوں سے علاج کرتا ہے:
* **درد اور سوزش میں کمی:** الٹراساؤنڈ، لیزر تھراپی، اور کرائیو تھراپی (برف کی ٹکور) جیسی جدید تکنیکوں کے ذریعے اندرونی سوجن کو کم کیا جاتا ہے، جس سے رات کے درد میں نمایاں کمی آتی ہے۔
* **جوڑ کی لچک بحال کرنا (Manual Therapy):** منجمد کندھے یا جکڑے ہوئے جوڑ کے لیے خصوصی دستی تراکیب استعمال کی جاتی ہیں تاکہ جوڑ کی سختی دور ہو سکے اور حرکت دوبارہ بحال ہو۔
* **پٹھوں کی طاقت میں اضافہ:** مخصوص ورزشوں کے ذریعے کندھے اور گردن کے کمزور پٹھوں (خاص طور پر روٹیٹر کف) کو دوبارہ طاقت دی جاتی ہے تاکہ وہ جوڑ کو سہارا دے سکیں اور مستقبل میں دوبارہ تکلیف نہ ہو۔
* **پوزیشن کی اصلاح (Postural Correction):** مریض کو بیٹھنے، اٹھنے اور کام کرنے کے دوران کندھے کی صحیح پوزیشن رکھنے کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ پٹھوں پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔
* **سونے کی پوزیشن کی رہنمائی:** مریض کو سکھایا جاتا ہے کہ رات کو کیسے لیٹنا ہے تاکہ کندھے پر دباؤ کم سے کم ہو۔
---
# # گھریلو سطح پر کرنے کی چند آسان اور مفید احتیاطی تدابیر
اگر آپ رات کے اس تکلیف دہ درد سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں، تو اپنی روزمرہ کی زندگی میں چند چھوٹی لیکن اہم تبدیلیوں کو اپنا کر آپ بہتری لا سکتے ہیں:
# # # 1. سونے کی صحیح پوزیشن کا انتخاب
* **چت (سیدھے) لیٹنا:** یہ سب سے بہترین پوزیشن ہے۔ اپنی کمر اور سر کے نیچے تکیہ رکھیں، اور درد والے بازو کے نیچے بھی ایک چھوٹا تکیہ یا رول کر کے تولیہ رکھیں تاکہ بازو کو سہارا ملے اور وہ نیچے لٹک کر کھچاؤ پیدا نہ کرے۔
* **صحت مند کروٹ پر لیٹنا:** اگر ممکن ہو، تو صحت مند کندھے کے بل لیٹیں۔ درد والے بازو کو اپنے سامنے ایک بڑے تکیے پر آرام سے رکھیں تاکہ کندھے پر وزن نہ پڑے۔
* **درد والے کندھے کے بل نہ لیٹیں:** اس پوزیشن سے مکمل پرہیز کریں، کیونکہ یہ براہ راست جوڑ پر دباؤ ڈالتی ہے اور درد میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
# # # 2. نیم گرم پانی سے ٹکور (سیک)
سونے سے پندرہ سے بیس منٹ پہلے نیم گرم پانی کی بوتل یا ہیٹنگ پیڈ سے درد والے کندھے کی ٹکور کریں۔ اس سے پٹھوں کا کھچاؤ دور ہوتا ہے، خون کی گردش بہتر ہوتی ہے، اور جوڑ کی سختی کم ہوتی ہے، جس سے پرسکون نیند آنے میں مدد ملتی ہے۔
# # # 3. ہلکی پھلکی کھچاؤ کی ورزشیں (Gentle Stretches)
دن میں چند بار اور سونے سے پہلے، اپنے فزیوتھراپسٹ کی بتائی ہوئی کندھے کی ہلکی پھلکی کھچاؤ کی ورزشیں کریں (جیسے بازو کو آہستہ سے گھمانا)۔ اس سے جوڑ میں خون کی گردش بہتر رہتی ہے اور چکنائی پورے جوڑ میں پھیل جاتی ہے، جس سے صبح کی اکڑاہٹ کم ہوتی ہے۔
# # # 4. دن کے کاموں میں احتیاط
* اگر آپ کا کام زیادہ دیر تک کمپیوٹر پر کام کرنے کا ہے، تو ہر ایک گھنٹے کے بعد اٹھ کر کندھے کی ہلکی حرکات کریں۔
* بھاری وزن اٹھانے یا سر سے اوپر کام کرنے سے گریز کریں، خاص طور پر اگر آپ پہلے سے درد میں مبتلا ہوں۔
* اپنے کندھے پر براہ راست دباؤ ڈال کر سونے سے بچیں۔
---
# # ڈاکٹر سے فوری رجوع کب کرنا چاہیے؟
اگرچہ عام احتیاطی تدابیر سے اس درد میں نمایاں فرق پڑ جاتا ہے، لیکن کچھ ایسی علامات بھی ہوتی ہیں جنہیں کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور فوراً کسی ماہر فزیوتھراپسٹ یا آرتھوپیڈک سرجن سے رابطہ کرنا چاہیے:
* کندھے میں اچانک اور ناقابل برداشت شدید درد ہو جو کسی دوا سے بھی کم نہ ہو۔
* درد کے ساتھ ساتھ بخار ہو اور کندھے میں شدید جلن کا احساس ہو۔
* اگر درد کسی چوٹ یا حادثے کے نتیجے میں شروع ہوا ہو اور بازو کی شکل تبدیل ہو گئی ہو۔
* بازو کا بالکل بے جان ہو جانا اور اوپر اٹھانا قطعی ناممکن ہو۔
* کندھے پر کوئی بڑی سوجن، نیل یا گومڑ نظر آئے۔
---
# # اختتام
رات کے وقت کندھے کا درد صرف ایک جسمانی تکلیف نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اہم اشارہ ہے کہ آپ کا جوڑ اور پٹھے مزید توجہ اور دیکھ بھال مانگ رہے ہیں۔ اسے محض بڑھتی ہوئی عمر کا تقاضا سمجھ کر نظر انداز کرنا یا صرف وقتی درد کش گولیوں پر گزارا کرنا مسئلے کو مزید سنگین بنا سکتا ہے اور آپ کو مستقل معذوری کی طرف لے جا سکتا ہے۔ درست تشخیص حاصل کریں، اپنے کام کرنے اور سونے کے انداز کو بدلیں، اور فزیوتھراپی کی مدد سے اپنے عضلات کو مضبوط بنائیں۔ یاد رکھیے کہ ایک صحت مند اور درد سے آزاد کندھا ہی پرسکون اور متحرک زندگی کی اصل ضمانت ہے۔ صحت کا خیال رکھیں اور بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔