27/10/2026
سی سیکشن کے بعد گیس اور قبض 😨 زیادہ کیوں ہوتی ہے؟😳😨 کیا یہ کسی خطرے کی علامت ہے؟
ایک خاتون کی ڈلیوری سی سیکشن کے ذریعے ہوئی۔ آپریشن کے بعد جب وہ گھر واپس آئیں تو انہیں پیٹ میں گیس، بھاری پن اور قبض کی شکایت ہونے لگی۔ پیٹ پھولا ہوا محسوس ہوتا، واش روم جانے میں مشکل ہوتی اور ٹانکوں پر دباؤ پڑنے کے خوف سے وہ زور لگانے سے بھی گھبراتی تھیں۔
آخرکار انہوں نے پریشانی سے پوچھا:
"باجی! بچے کی پیدائش تو ہو گئی ہے، لیکن اب پیٹ میں اتنی گیس اور قبض کیوں ہو رہی ہے؟ کیا میرے آپریشن میں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا؟"
میں نے انہیں سمجھایا کہ سی سیکشن کے بعد گیس اور قبض کی شکایت کافی عام ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں اور ہر بار اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپریشن میں کوئی خرابی ہوئی ہے۔
آئیے، اس کی اصل وجوہات سمجھتے ہیں۔
1۔ آپریشن کے بعد آنتوں کی حرکت سست ہو سکتی ہے
سی سیکشن کے دوران اور اس کے بعد استعمال ہونے والی بے ہوشی کی بعض ادویات اور درد کم کرنے والی دوائیں آنتوں کی حرکت کو سست کر سکتی ہیں۔ اس وجہ سے گیس خارج ہونے میں دیر اور قبض کی شکایت ہو سکتی ہے۔
2۔ درد کے خوف سے خاتون کم حرکت کرتی ہے
آپریشن کے بعد اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے میں تکلیف محسوس ہونا فطری ہے۔ بہت سی خواتین درد کے ڈر سے زیادہ وقت بستر پر گزارتی ہیں۔
لیکن طویل وقت تک بالکل حرکت نہ کرنے سے آنتوں کی حرکت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر کی اجازت سے ہلکی چہل قدمی گیس اور قبض میں مدد دے سکتی ہے۔
3۔ درد کم کرنے والی دوائیں بھی وجہ بن سکتی ہیں
سی سیکشن کے بعد استعمال ہونے والی بعض درد کش ادویات، خصوصاً اوپیئڈز، قبض پیدا کر سکتی ہیں۔
اگر آپ کو دوا لینے کے بعد قبض زیادہ محسوس ہو رہی ہے تو اپنے ڈاکٹر کو بتائیں۔ دوا خود سے بند نہ کریں بلکہ ڈاکٹر سے مناسب متبادل یا قبض کے علاج کے بارے میں مشورہ لیں۔
4۔ پانی اور فائبر کی کمی
آپریشن کے بعد اگر خاتون مناسب مقدار میں پانی نہ پیے، غذا میں پھل، سبزیاں اور فائبر کم ہوں تو پاخانہ سخت ہو سکتا ہے اور واش روم جانے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔
اگر ڈاکٹر نے پانی پینے یا غذا کے حوالے سے کوئی خاص پابندی نہیں لگائی تو مناسب پانی پئیں اور اپنی غذا میں پھل، سبزیاں اور دلیہ جیسی فائبر والی چیزیں شامل کریں۔
5۔ ٹانکوں پر دباؤ پڑنے کا خوف
بہت سی نئی مائیں سوچتی ہیں کہ اگر انہوں نے پاخانے کے لیے زور لگایا تو اندرونی یا بیرونی ٹانکے کھل جائیں گے۔
اسی خوف کی وجہ سے وہ پاخانہ روکنے لگتی ہیں، جس سے قبض مزید بڑھ سکتی ہے۔
یاد رکھیں! پاخانے کی حاجت کو بار بار روکنا اور بہت زیادہ زور لگانا مناسب نہیں۔ اگر قبض ہو تو ڈاکٹر سے محفوظ علاج کے بارے میں پوچھیں۔
کیا سی سیکشن کے بعد گیس نکالنا ضروری ہے؟
جی ہاں، آپریشن کے بعد آنتوں کی حرکت بحال ہونا اور گیس خارج ہونا صحت یابی کی اہم علامات ہیں۔
اگرچہ ہر خاتون میں گیس خارج ہونے کا وقت مختلف ہو سکتا ہے، لیکن اگر پیٹ بہت زیادہ پھول رہا ہو، شدید یا بڑھتا ہوا درد ہو، بار بار قے آئے یا گیس اور پاخانہ بالکل خارج نہ ہو رہے ہوں تو اسے معمولی قبض سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ فوراً طبی معائنہ کروائیں، کیونکہ بعض اوقات آنتوں کی حرکت میں سنگین رکاوٹ بھی ہو سکتی ہے۔
قبض سے بچنے کے لیے کیا کریں؟
چند آسان باتیں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں:
ڈاکٹر کی اجازت سے روزانہ تھوڑی تھوڑی چہل قدمی کریں۔
مناسب مقدار میں پانی پئیں، بشرطیکہ پانی کی پابندی نہ ہو۔
غذا میں پھل، سبزیاں اور فائبر شامل کریں۔
پاخانے کی حاجت کو زیادہ دیر تک نہ روکیں۔
واش روم میں بہت زیادہ زور لگانے سے گریز کریں۔
قبض کی دوا یا جلاب خود سے استعمال کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
اگر کئی دن سے پاخانہ نہیں آیا، قبض بڑھ رہی ہے یا اس کے ساتھ درد اور پیٹ پھولنے کی شکایت ہے تو طبی مشورہ ضرور لیں۔
آخر میں ایک اہم بات
سی سیکشن کے بعد ماں کا جسم ایک بڑی سرجری سے صحت یاب ہو رہا ہوتا ہے۔ اس دوران اپنی صحت کا خیال رکھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا نومولود بچے کی دیکھ بھال کرنا۔
ہر تکلیف کو معمول سمجھ کر برداشت کرنا ضروری نہیں۔ بروقت توجہ اور مناسب رہنمائی سے بہت سی پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
آپ مجھے یہ بتائیں: کیا آپ کو بھی سی سیکشن کے بعد گیس اور قبض کی شکایت ہوئی تھی، اور آپ کو اس سے آرام کیسے ملا؟ اپنی رائے اور تجربہ کمنٹس میں ضرور لکھیں تاکہ دوسری ماؤں کو بھی آگاہی مل سکے۔